مدارس کا وجود ضروری کیوں - نعیم اختر ربانی

خدا تعالیٰ کی ان گنت ، بے شمار نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کا ہمیں ادراک نہیں اور جن کا ادراک ہے ان کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ربِّ کریم نے اپنی نعمتوں کے بیان میں ان نعمتوں کا ذکر کیا جن سے امیر غریب ، عالم جاہل ، مسلم کافر یکساں طور پر واقف ہیں۔ جب عرب کے بادہ نشین سامانِ تجارت کے لیے سفر پر نکلتے تو اونٹ پر سوار ہوتے ان کے نیچے زمین کا سینہ ، سر پر آسمان کا سائبان اور اطراف میں پہاڑوں کی فصیلیں ہوا کرتی تھیں۔ ان تمام کا تذکرہ اللّٰہ رب العزت نے سورۃ الغاشیہ میں فرمایا۔ ان انعامات کی یاد دہانی کروائی گئی جن کا روز مرہ کا استعمال ہماری زندگی میں موجود ہے۔ جن کے لطف سے ہمارے قلب و اذہان ، لسان و شکم غرض کہ جملہ اعضاء و جوارح ہر دم سیر رہتے ہیں۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اللّٰہ کے ساتھ تعلق کا ایک عجیب اور آسان ترین ٹوٹکا ارشاد فرمایا کہ" اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اور اللہ سے مانگتے رہو" جب مانگتے ہیں تو اس کی فروانی کی انتہاء نہیں ہوتی جبکہ ہماری حالت یہ ہے کہ شکر کی ابتداء بھی نہیں کرتے۔جب کبھی خلافتِ عباسیہ کے عروج و زوال کا زمانہ دیکھا تو ایک چیز نے ہمیشہ مجھے چونکایا ۔ عروج کے اسباب پیہم موجود ہوتے مگر وہ شکستہ پا اور پابند سلاسل ہوتے۔ ایسا کیوں؟ ان کے اسباب تلاش کرتا مگر ناکام رہتا پھر جب کبھی دل دہلا دینے والی خبروں پر نگاہ پڑتی تو اوائل دور کے ایسے واقعات کسی فلم کی طرح تصور کی دنیا میں چلنے لگتے۔ عباسیوں کے زمانے میں بلکہ امویوں کے آخری ایام میں ہی زمین ہلنے لگی۔ زلزلے ، سیلاب، آندھیوں کا لشکر ، طاعون جیسی مہلک بیماری کے حملے بڑی کثرت سے ہونے لگے۔ پھر اچانک ایک دن میرے ذہن میں سوال کا جواب کوند پڑا۔ میری خوشی کی انتہاء نہ تھی اور غم کی وجہ سے قدم بھی بوجھل ہو رہے تھے۔ وہ جواب یہ تھا کہ ایک طرف تو صاحبِ مسند بادشاہ کے ظلم و جبر کا ڈنڈا کسی نہ کسی کی پشت کو سہلا رہا ہوتا اور دوسری طرف مولا کریم کی نعمت کبریٰ یعنی قرآن مجید کی تعلیم و تعلم کے سلسلے کو بڑھانے کے کوئی خاص انتظامات نہیں تھے۔ مدارس کی قلت تھی اور جِسے شوقِ علم ہوتا وہ ایک ایک حدیث کے لیے برسوں صحرائوں کی خاک چھانتا اور طویل و عریض راستوں کو مانپتا۔ علماء اور حفاظ کی تعداد بہت کم تھی۔ علم سے آگاہی امیر کبیر کی دسترس میں تھی جبکہ انہیں اپنے آبائی گھمنڈ سے نکلنے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی اور یوں علم کی برکات سے وہ بہرہ مند نہ ہوئے اور ان کی بد اعمالیوں نے ان پر زلزلوں ، طوفانوں ، آندھیوں اور بیماریوں کی بوچھاڑ کیے رکھی۔

الحمد للّٰہ ملکِ پاکستان میں مدارس کا اس قدر وسیع و عریض سلسلہ ہے کہ دیکھ کر قلب نور سے منور ہو جاتا ہے اور لب پر شکر کے ترانے جاری ہو جاتے ہیں۔ میں ملکی سطح سے ہٹ کر اپنے گاؤں کی ایک مسجد کا منظر دیکھانا چاہتا ہوں جس میں مَیں نے اڑھائی سال کی عمر میں قدم رکھا تھا۔ میری دادی جان مجھے اٹھا کر لے جاتیں اور استادِ محترم کے پاس چھوڑ آتیں۔ جب میں نے چھ سال کی عمر میں حفظ شروع کیا تو اس وقت حفاظ کے طلباء تقریباً اسّی تھے۔ صبح سحری کے وقت سبق شروع ہوتا اور رات گیارہ بجے تک قال اللہ کی صدائیں گونجتی رہتیں۔ ناظرہ قرآن پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی تعداد الگ تھی۔ ذرا خود سوچیں کہ اس گاٶں میں ملاٸک کے کس قدر ٹھکانے ہوں گے؟ ایک دن میں قرآن مجید کے کتنے ختم ہوتے ہوں گے؟ کتنے فرشتوں نے ان معصوم لہجوں کو معصوم زبانوں کے زریعے سنا ہو گا؟ کس قدر خدا کی رحمتوں کے انوارات کا نزول ہوتا ہو گا؟ کیا عالم ہو گا جب چھ سات سالہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ سحری کو اٹھ کر ، ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے ، مسجد میں کلام پاک کی تلاوت کے لیے نکلتا ہو گا۔ جب لوگ اپنی خواب گاہوں میں نرم گداز بستروں پر نیند کی چسکیاں لیتے ہیں اس وقت قرآن کے عاشق اپنے معشوق کو دیکھ کر نگاہوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔ الحمد للّٰہ اب تو اس گاؤں کی ہر گلی میں دس دس حافظ موجود ہیں۔ صرف ہمارے گھر میں تین حافظ ہیں۔ کیا وہ سینہ بھی عذاب سے جلے گا جس میں قرآن کی دولت ہو گی؟

وفاق المدارس العربیہ پنجاب کے ناظم کی زبانی ایک واقعہ سنا تھا وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رات دو بجے مدرسے میں داخل ہوا۔ تو میں نے طلباء کی آرام گاہ کا چکر لگایا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چھ سالہ بچہ ستون کے پیچھے بیٹھ کر اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے۔ دعائیں مانگ رہا ہے اور ساتھ میں آنسوؤں کی جھڑیاں اس کے معصوم گالوں کا بوسہ لے رہی ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں کہ رب کریم نے ان معصوم ہاتھوں کو کس قدر نوازا ہو گا؟ اس کی رحمتیں ان اداؤں پر کس قدر فریفتہ ہوئی ہوں گی؟ رات کے سناٹے نے ، شب کی سیاہی نے اس بچے کی زیارت سے کتنے لمحے برکات کو سمیٹا ہو گا؟ صرف وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت ایک سال میں ایک لاکھ حفاظ کو اسنادِ حفظِ قرآن جاری کی جاتی ہیں۔افسوس صد افسوس! ان آمروں پر کہ جو مدارس کے وجود کو نحوست قرار دیتے ہیں اور ہر دم یہی صدا لگاتے ہیں کہ ان کو ختم کرنا چاہیے۔

میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جو مدارس کے قیام میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے وہ جیتے جی عذاب الٰہی کا مزا چکھتا ہے۔ عصرِ حاضر میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ جن علاقوں میں سحر سے لے کر رات گئے تک قرآن کی صدائیں بلند ہوتی ہوں ، ملائک کا نزول رہتا ہو ، رحمتیں بسیرا کرتی ہوں معصوم چہرے اور لب الفاظِ قرآنی کی تلاوت کرتے ہوں وہاں عذاب الہٰی کیسے آ سکتا ہے؟مدارس اللہ کی نعمت ہیں اور نعمتوں کی ناقدری پر اللہ تعالیٰ اپنی نعمت کو واپس لے لیتے ہیں۔مدارس کی بقاء میں ہماری بقا اور سالمیت ہے۔مدارس ہمارے وجود ، چندے اور کاغذوں کے ٹکڑوں کے محتاج نہیں بلکہ ہم ان کے وجود کے محتاج ہیں اور ان کے وجود کی بدولت رحمتوں کا سایہ ہمہ وقت ہمارے سروں پر قاٸم رہتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */