دلچسپ سائنسی حقائق - ملک شاہد اقبال

کیاروشنی کی شعاعیں مستقل(ہمیشہ)سفرکرتی رہتی ہیں؟

بظاہرایسانظرآتاہے کہ اگر روشنی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے تویہ ہمیشہ سفرکرتی رہے گی۔ لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیااس سفرکے دوران روشنی کی رفتار مستقل رہے گی یااس میں بتدریج کمی آتی جائے گی؟

1929ء میں کیلیفورنیاانسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے ماہرفلکیات فرٹززویکی(Fritz Zwicky)نے خیال ظاہرکیاکہ دوردرازکہکشائوں سے آنے والی روشی میں موجودسرخ منتقلی(redshift)کی وجہ یہ ہے کہ روشنی بہت زیادہ فاصلہ طے کرنے کے بعدشاید’’تھک‘‘جاتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے طول موج میں اضافہ ہوجاتاہے جو سرخ منتقلی کی صورت میں ظاہرہوتاہے۔ زویکی نے خیال ظاہرکیاکہ دوردراز کہکشائوں سے آنے والی روشنی جب بہت زیادہ فاصلہ (کروڑوں نوری سال)طے کرتی ہے تواس کی توانائی میں کمی آجاتی ہے۔ اس کمزوراورتھکی ہوئی روشنی کے طول موج(ویولینتھ)میں اضافے سے یوں محسوس ہوگاکہ جیسے وہ سست ہوگئی ہے اوراس طرح اس میں سرخ منتقلی ظاہرہوجائے گی۔ فاصلہ جتنازیادہ ہوگا، سرخ منتقلی کی شرح بھی اتنی ی زیادہ ہوگی۔

اگرچہ یہ نظریہ خاصادلفریب اورقرین قیاس محسوس ہوتاہے لیکن جب کائناتی پھیلائوکانظریہ سامنے آیااورآئن سٹائن نے بتایاکہ روشنی بھی کشش ثقل سے متاثرہوتی ہے توماہرین نے خیال ظاہرکیاکہ روشنی میں پیداہونے والی سرخ منتقلی دراصل زمان ومکاں کے کائناتی پھیلائو(cosmic expansion)کانتیجہ ہے۔ ہرلمحے پھیلتی کائنات روشنی کی شعاعوں کے طول موج میں اضافے کاباعث بنتی ہے جواسے طیف کے سرخ کنارے کے قریب کردیتاہے اوراس طرح سرخ منتقلی ظاہرہوتی ہے۔ دوردرازسپرنوواکے مشاہدات بھی یہی بتاتے ہیں کہ ان عظیم دھماکوں سے آنے والی روشنی اپنے اصل مقام سے کچھ ہٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ چیزبھی ظاہرکرتی ہے کہ روشنی میں موجودسرخ منتقلی کسی تھکاوٹ کی وجہ سینہیں بلکہ کائناتی پھیلائوکانتیجہ ہے۔

پانی کی کم ازکم کتنی مقدارچاندکی کشش سے متاثرہوتی ہے؟

اس بات سے قطع نظرکہ اس کے اردگردپانی کے مزیدکتنے مالیکیول موجودہیں، پانی کاہرمالیکیول چاندکی کشش کوبالکل یکساں محسوس کرتاہے ۔ لیکن یہ انفرادی کشش بہت خفیف ہوتی ہے اورمحدودرینج کی دیگرقوتوں مثلاََ مالیکیولز کے درمیان موجودبرق سکونی(الیکٹروسٹیٹک)کشش کے زیراثرمکمل طورپرمغلوب ہوجاتی ہے۔ ثقل کی قوت ایک غیرمعمولی قوت ہے کیونکہ دیگرقوتوں کی طرح اس کے مثبت یامنفی ورژن نہیں ہوتے، یعنی یہ صرف کشش کرتی ہے۔ اس کامطلب ہے کہ کشش کے اثرات اس وقت بڑھ جاتے ہیں جب ایک ہی جگہ پرپانی کے زیادہ سے زیادہ سالمات موجودہوں۔ شمالی امریکہ میں موجود’’سپیرئیر ‘‘نامی جھیل(Lake Superior)حجم کے لحاظ سے دنیاکی تیسری بڑی صاف پانی کی جھیل ہے۔اس میں موجودپانی کاحجم قریباََ11600مکعب کلومیٹرہے۔ تاہم اس میں مدوجزرکے وقت صرف دوسینٹی میٹربلندلہریں پیداہوتی ہیں۔ اس سے چھوٹی لہروں کی پیمائش بہت مشکل ہے کیونکہ وہ محض ہواکے اثرات اورمزیدپانی کے شامل ہونے سے بھی پیداہوسکتی ہیں۔

کیامطلق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بھی موجودہے؟

ہم مطلق صفر(-272 C)سے توواقف ہیںجوکائنات میں موجودکم سے کم(سردترین)درجہ حرارت ہے لیکن کیازیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کابھی کوئی وجودہے؟ جی ہاں، یہ درجہ حرارت بھی موجودہے اوریہ ’’سیخاروف درجہ حرارت‘‘(Sakharov Temperature)کہلاتاہے۔ سیخاروف نامی ایک روسی ماہرطبیعیات نے1965ء میں اس کاحساب لگایاتھا۔ اس نے یہ درجہ حرارت معلوم کرنے کے کئی طریقے بتائے لیکن سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ فوٹونزکے درجہ حرارت کوممکنہ بلندترین توانائی کے ساتھ تعامل کرایاجائے۔ اس نے فوٹونزکاطول موج’’پلانک لمبائی‘‘تصورکیااوراس کی قدر1035میٹربتائی۔ یہ اکائی اس قدرچھوٹی ہے کہ یہاں مکاں(خلا)کاچھوٹاترین ریشہ بھی ٹوٹناشروع ہوجاتاہے۔ کوانٹم نظریہ بتاتاہے کہ اس طول موج کاایک فوٹون قریباََ 109جول کی توانائی کاحامل ہوگا۔توانائی کی یہ مقدار1032 C(کھرب ارب ارب)درجہ حرارت کے مساوی ہے۔

خلائی لباس کس طرح خلانوردکی حفاظت کرتاہے؟

خلانوردجب خلاکے شدیداورزندگی کے لیے ناسازگارماحول میں جاتے ہیں تووہ خلائی لباس پہن کرجاتے ہیں۔ ایک خلائی لباس کی قیمت8سے10لاکھ ڈالرتک ہوسکتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماراکرہ ہوائی ہمارے جسم پرباہرسے دبائوڈالتاہے، جبکہ ہمارے خون کابہائواوربافتیں باہرکی طرف دبائوڈالتے ہیں۔ ان دونوں مخالفدبائوکی وجہ سے ہم زمین پرآسانی سے رہ سکتے ہیں۔ چونکہ خلامیں کرہ ہوائی موجودنہیں ہے، اس لیے وہاں اس بات کاشدید خطرہ موجودہے کہ اندرونی دبائوکی وجہ سے ہماراجسم پھٹ جائے۔ خلائی لباس کاسب سے اہم کام ہمارے جسم کووہ بیرونی دبائو مہیاکرناہے جس کی وجہ سے خلانوردکاجسم قائم رہ سکے۔ خلائی لباس کادوسرااہم ترین کام خلاکے شدیدسرد ماحول میں جسم کومطلوبہ درجہ حرارت مہیاکرناہے۔ یہ لباس بہت زیادہ غیرموصل ہوتے ہیں اوران میں ایسی تہیں موجودہوتی ہیں جوخلانوردکے جسم کواس شدیدماحول سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ خلائی لباس میں ایسی حفاظتی تہیں بھی موجودہوتی ہیں جوخلامیں موجودخطرناک تابکارشعاعوں(ریڈی ایشن)سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ تہیں خلامیں موجودنہایت چھوٹے شہابیوں(مائیکرومیٹی اورائٹ)اورخلائی ملبے (debris)کے خطرناک ٹکڑوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ یہ ننھے ٹکڑے خلامیں نہایت تیزرفتاری کے ساتھ حرکت کرتے ہوئے موجودہوتے ہیں۔ اورسب سے اہم بات یہ کہ یہ لباس خلانوردکوآکسیجن کی فراہمی اورکاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج کے لیے درکار نظام سے بھی لیس ہوتے ہیں۔

فضامیں کتنی بلندی تک ہوا’’محسوس‘‘ہوتی ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ جوں جوں بلندی کی طرف بڑھتے جائیں، درجہ حرارت میں مسلسل کمی آتی جاتی ہے اور11کلومیٹرکی بلندی کے بعددرجہ حرارت میں یہ کمی رک جاتی ہے۔ یہ ہماری زمین کی پہلی فضائی تہہ ٹروپوسفیئرکی حدہے اورہم میں سے اکثرلوگوں کاخیال ہے کہ تمام موسمی کیفیات اسی ٹروپواسفیئر(Troposhere)میں ہی واقع ہوتی ہیں جوسطح زمین سے 11کلومیٹرکی بلندی تک موجود ہے۔اس بلندی کے بعدہواٹھنڈی ہونارک جاتی ہے اوردوبارہ گرم ہوناشروع ہوجاتی ہے۔ یہ اچانک الٹائو(inversion)موسمی کیفیات کوفضاکی اگلی تہہ اسٹریٹواسفیئر (Stratosphere)میں جانے سے روکنے کاباعث بنتاہے۔ اسٹریٹواسفیئرکی حدود11کلومیٹر سے40کلومیٹرتک ہے۔ عام طورپر موسمی کیفیات واقعی ٹروپواسفیئرتک ہی محدودرہتی ہیں لیکن یہ کوئی مقررہ حدبندی نہیں ہے اوربعض استوائی طوفان جب گرمی کی شدت سے اوپرکی طرف اٹھتے ہیں تووہ گردبادکی صورت میںچندگھنٹوں کے لیے دوسری تہہ اسٹریٹواسفیئرکوبھی پارکرتے ہوئے تیسری تہہ میسواسفیئر(Mesosphere)میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔ میسواسفئیر40سے80کلومیٹرکی بلندی پرواقع فضائی تہہ ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات یہ گرم گردباد95کلومیٹرکی بلندی(آئنواسفیئرکی ابتدائی حدود) تک پہنچتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ آئنواسفیئر80سے370کلومیٹرکی بلندی پرواقع فضائی تہہ ہے۔ تاہم 95کلومیٹرکی بلندی پرہواکے سالمات بہت نایاب ہوتے ہیں اوروہاں ان کابہائوبالکل محسوس نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم عام طورپریہی کہتے ہیں کہ ہواکابہائوزیادہ سے زیاد ہ اسٹریٹواسفیئرکی ابتدائی حدودتک ہی محسوس ہوسکتاہے۔
ہماری زمین کے گردکتنے مصنوعی سیارچے (سیٹلایٹ)موجودہیں؟

دی اسپیس سرویلنس نیٹ ورک(The Space Surveillance Network:SSN)امریکی دفاعی نظام کاایک اہم حصہ ہے جو خلامیںموجوداجسام پرنظررکھتاہے۔ اس نے سردجنگ کے دوران کام کرناشروع کیاتھااوراب تک یہ تقریباََ25000اجسام کی نشاندہی کرچکاہے۔ حال ہی میں اس نیٹ ورک نے تقریباََ22000اجسام کی نئی فہرست تیارکی ہے۔ ان اجسام میں خلائی ملبے کے چندسینٹی میٹرکے ٹکڑوں سے لے کربڑے بڑے مواصلاتی سیارچے اوربین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھی شامل ہیں۔ مصنوعی سیاروں کی تعدادتبدیل ہوتی رہتی ہے تاہم ماہرین کاخیال ہے کہ اس وقت زمین کے مدارمیں 2500 سے3000آپریشنل مصنوعی سیارچے موجودہیں۔

ایس ایس این حساسیوں کے ایک عالمی نیٹ ورک اورریڈاراسٹیشنزکے ذریعے زمین کے بیرونی ماحول پرنظررکھتاہے۔ جیسے ہی بیرونی خلاسے کوئی نیاجسم زمین کے قریبی مدارمیں داخل ہوتاہے یاپہلے سے موجودکوئی جسم زمین یاکسی خلائی جہازکے لیے خطرے کاباعث بنتانظرآتاہے تویہ نظام فوراََ خبردارکردیتاہے۔ یہ نظام اس بات کی پیش گوئی بھی کرتاہے کہ کوئی بھی جسم کب اورکہاں سے زمین کے کرہ فضائی میں داخل ہوسکتاہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */