آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا - حبیب الرحمن

جسارت میں آج، یکم دسمبر 2020 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق این ایل ایف کر اچی کے صدر خالدخان نے کہا کہ نجکاری نے صرف اور صرف بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت کے سالانہ منصوبے 21۔2020 کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نویں بڑی لیبر فورس پاکستان میں ہے جو ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کی تعداد21۔2020 میں 6 کروڑ 92 لاکھ ہوجائے گی جو 20۔2019 میں 6 کروڑ 21 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ لیبر فورس سروے 18۔2017 کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے بے روزگاری کی شرح 9 اعشاریہ 56 فیصد بتائی گئی ہے۔

ڈگری رکھنے والوں میں بے روزگاری کی شرح دیگر مجموعی طور پر بے روزگار افراد کے مقابلے میں تقریبا 3 گنا زیادہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فراہم کی جانے والی تعلیم اور نئے تعلیم یافتہ افراد کو جذب کرنے کی معیشت کی ضرورت کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔ پاکستان کا ایک وہ دور بھی تھا جب پاکستان میں چند محکموں کے علاوہ، کوئی ادارہ، ملیں کارخانے، بڑے بڑے شاپنگ مال، اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں نجی تحویل میں ہی ہوا کرتی تھیں۔ ذولفقار علی بھٹو کے دور میں راتوں رات پورے پاکستان کی ملوں، کارخانوں، تعلیمی اداروں اور حد یہ ہے کہ ہر بڑے چھوٹے شاپنگ سینٹروں کو قومیالیا گیا تھا۔ ممکن ہے حکومت کا یہ قدم اس دور کے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے درست ہی رہا ہو۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان دولخت ہو چکا تھا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان نے پاکستان کے ہر فرد کو دل شکستہ کر کے رکھ دیا تھا اور اس بات کا ڈر تھا کہ چھوٹے بڑے جتنے بھی سرمایہ دار ہیں وہ اپنے سارے سرمائے کو ملک سے باہر منتقل نہ کردیں۔ ایسے عالم میں بینکوں سمیت ہر ادارے کو قومیا لیا جائے تاکہ ملک کا سرمایہ بیرونی ممالک میں منتقل ہونے سے محفوظ رہے۔

پورے پاکستان کی ایک ایک پراپرٹی کو قومیائے جانے والے حکومتی اقدام کو پورے ملک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ پاکستان میں ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار کی برس ہا برس کی جمع پونجی پر چھاڑو پھر گئی اور وہ راتوں رات تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ اس وقت کی حکومت نے ہر قسم کی سرمایہ کاری میں اس کو کسی قسم کا حصے دار بھی رہنے نہیں دیا اور حاصل شدہ جتنا بھی منافع ہوتا وہ سب کا سب حکومتی خزانے میں جمع ہوتا رہا۔ تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے کا یہ عالم تھا کہ بہت چھوٹے چھوٹے تعلیمی ادارے بھی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لئے اور یوں نہایت نچلی سطح پر سرمایہ کاری کرنے والے بھی ہاتھ ملتے رہ گئے۔

نیشنلائزڈ یا قومیائے جانے کی وجہ سے ان اداروں، اسکولوں، کالجوں کے اساتذہ اور ملوں کارخانوں میں کام کرنے والے تمام کے تمام مزدور اور ملازمین سرکاری ملازم بن گئے جس کو کسی حد تک ایک تعریفی قدم کہا جا سکتا تھا کیونکہ ان سب کی ملازمتوں کو نجی اداروں کی بنسبت بہت ہی زیادہ تحفظ حاصل ہو گیا تھا۔ جو بات اس وقت بہت زیادہ ہدف تنقید بنائی گئی وہ بھی یہی تھی کہ پرائیویٹ ملازمین کو گورنمنٹ سروینٹ ہونے کے ناتے جب بہت زیادہ تحفظات حاصل ہو جائیں گے تو ان کی کارکردگی شاید ہی پہلے جیسی رہے۔ لہٰذا پورے ملک میں ہر ادارے کو قومیائے جانے کے خلاف شدید رد عمل پایا گیا لیکن آج تک وہ سب ادارے جن کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تھا، مکمل طور پر نجی تحویل میں نہیں دیئے جا سکے۔

اس دور میں اداروں کو سرکاری تحویل میں لئے جانے کے بارے میں جن جن خد شات کا اظہار کیا جا رہا تھا، وہ ساری باتیں ہر آنے والے وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوتی چلی گئیں اور ملازمین کا سرکاری ملازم ہوجانا پیشہ ورانہ کار کردگی پر اس بری طرح اثر انداز ہوا کہ پاکستان ہر شعبے میں کمزور سے کمزور ہوتا گیا اور عالم یہ ہو گیا کہ سرکاری ملازمین کام نہ کرنے کی تنخواہیں اور کام کرنے کی رشوتیں طلب کرتے دکھائی دینے لگے اور یوں تعلیمی میدان ہو یا دیگر پیداواری یونٹ، سب کے سب ہر حکومت کیلئے بوجھ بنتے چلے گئے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے جب جب بھی کسی حکومت نے سرکاری تحویل میں لئے گئے محکموں، ملوں اور کارخانوں کو ڈی نیشنلائز کرنے کی کوشش کی، آرام طلب ہوجانے والے ملازمین اس کی راہ میں رکاوٹ بنے اور اب جب بھی ان کو نجی تحویل میں دینے کی بات کی جاتی ہے، پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آتا ہے۔

ہمارا سیاسی کلچر بھی کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی جماعت بھی وسیع تر ملکی مفاد کی بجائے سستی اور فوری شہرت حاصل کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ پاکستان اسٹیل اس کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ یہ مل ایک طویل عرصے سے سفید ہاتھی کا کردار ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔ مل کے اپنے اخراجات کے علاوہ ملازمین کی تنخواہیں تک سالانہ بجٹ سے ادا کی جاتی ہیں جو کھربوں میں ہیں۔ جب بھی اس مل کو نجی تحویل میں دینے کی تجویز سامنے آتی ہے، شدید ہنگامہ کھڑا ہو جاتا ہے۔

مجھے یہ نہیں معلوم کہ ملک کی ساری پراپرٹیز کو چین کی طرح سرکاری تحویل میں رکھنے کے فوائد زیادہ ہوتے ہیں یا دیگر سرمایہ دارانہ نظام کی طرح ہر فرد و بشر کو اپنی اپنی پراپرٹی ہر جائز و ناجائز انداز میں بڑھاتے رہنے کے نقصانات زیادہ ہیں۔ میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ ہر بدلتے حالات کے مطابق جب بھی کوئی قوم نیا قدم اٹھاتی ہے اور رہنمایانِ قوم وقت کے تقاضوں کے مطابق اہم فیصلے کرتے ہیں، وہ سب کے سب شدید تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور جب پہلے فیصلوں کے منفی نتائج سامنے آنے پر ان فیصلوں پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہوتی ہے تو قوم پہلے سارے غلط قرار دیئے گئے فیصلوں کو درست قرار دینے لگتی ہے۔ علامہ اقبال نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */