اہل وطن اور کتنی قربانیاں چاہییں (حصہ 4) - میر افسر امان

برما میں مسلمانوں پر کیا گز رہی وہ تو وہی زیادہ جانتے ہیں۔ ہمارے پاس جو میڈیا سے معلومات آئی ہیں اس کے مطابق بیس( ۲۰۰۰۰) مسلمان شہید کر دئیے گئے ہیں ۔بڑی تعداد میں بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔مسلم اکثریت والے صوبہ اراکان میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی، مگر اس تحریک کو پہلے ہی مظاہرے میں برمی فوج نے بے دریغ فائرنگ کر کے ہزاروں مسلم مظاہرین کو شہید اور زخمی کیا۔ صوبہ اراکان کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے۔ جب مسلمانوں نے پناہ کے لیے وہاں کا رخ کیا تو بنگلہ دیش کی بھارت نواز اور مسلم دشمن حکومت نے برمی مسلمانوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا۔ پانچ(۵۰۰) بستیاں جلا کر خاک کر دی گئیں ہیں ہزاروں نوجوان تاحال لا پتہ ہیں۔

عالمی میڈیا مسلمانوں پرہونے والے ظلم و ستم پر خاموش ہے۔ اقوام متحدہ اور اوآئی سی بھی خاموش ہے۔ پاکستانی میڈیا بھی جوفلمی دنیا کی خبریں بڑا چڑھا کر پیش کرتا ہے اس نے بھی ہزاروں مسلمانوں کی شہادت پر چپ کا تالالگا رکھا ہے۔ مسلمانوںکے قتل عام کے فوٹو جو انٹر نٹ پر جاری کئے گئے ہیں، جو راقم الحروف کو جماعت اسلامی کے کارکن نے ای میل کئے ہیں۔ ان مظالم کو اپنے کالم ’’برما کے مظلوم مسلمان‘‘ میں اخبارات کو ای میل کیا تھا۔ اس کے مطابق ایک تصویر میں لاشوں کے ڈھیر سڑکوں پر پڑے ہیں کچھ لوگ منہ پر کپڑا لگائے ان لاشوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ ایک تصویر میںلاشوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور لاشیں لین میں الٹی پڑی ہیںفوجی گنیںتانے کھڑے ہیں ۔ ایک اور تصویر میں سمندر کے کنارے لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں تصویر کے نیچے لکھا ہے ایک دن میں ہزار(۱۰۰۰) مسلمانوں کو بدھ بھکشوں نے قتل کیا ہے۔اس تصویر کے نیچے دوسری تصویر میں چہرے مسخ شدہ تصویر ہے۔ایک تصویر میں سمندر کے کنارے لاشیں ایسے پڑی ہوئی ہیں جسے مچھلیوں کو شکار کے بعد ایک لین میں سجایا گیا ہے۔ایک کے اوپر تصویر میں کشتی پر سوار ایک خاندان کا سربراہ ہاتھ جوڑ کو فریاد کر رہا ہے۔ایک تصویر میں سمندر کے کنارے برماکے ا پنے پیاروں کی لاشوں پر کھڑے لوگ پریشانی کے عالم میں اِدھراُدھر دیکھ رہے ہیں۔

ایک تصویر میں معصوم بچوں کی لاشوں پر ان کے ماں ،باپ اوربھائی کھڑے ہیں۔ایک تصویر میں میں ناریل کے درخت نظر آ رہے ہیں بستی سے آگ اور دھویںکے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ایک تصویر میں لاشوں کے اوپر چھت سے ایک لاش گرتی دکھائی گئی ہے۔ایک تصویر میں لاتعداد لاشیں جلی ہوئی پڑی ہیں۔ ریڈکراس کے نشان والے لباس میںتین افراد ان کے اندر سے گزر رہے ہیں۔سمندر کے کنارے ایک تصویر میں کچھ لوگ لاشوں کو دیکھ رہے ہیں۔ایک تصویر میں ایک نوجوان کی لاش سڑک پر پڑی ہے فوجی انگلی کا اشارہ کر کے جائے حادثہ دیکھ رہے ہیں۔ایک تصویر میں سڑک پرسیکڑوںکی تعداد میں جلی ہوئی لاشیں پڑی ہیں سامنے بلڈنگ نظر آ رہی ہے، کچھ لوگ دور کھڑے ہوئے ہیں۔اس کے اوپرایک تصویر میں لاشیں لکڑیوں پر پڑی ہیں نیچے آگ لگی ہوئی ہے۔ایک تصویر میں ایک شخص ایک بچے کی کفن میں لاش کو اُٹھائے ہوئے چوم رہا ہے۔ تصویر کے نیچے لکھا ہے برما کے مسلمانوں کو بچا نہیں سکتے مگر دنیا کو ان کا دکھ تو دکھا سکتے ہیں؟ایک تصویر میں دو لاشیں سڑک پر پڑی ہیں سامنے سائیکل کھڑی ہے۔ ایک تصویر میں۹؍ایم ایم پسٹل ایک بھگشو کے ہاتھ میں ہے منہ پر کپڑا لگائے ہوئے ہے۔ اس تصویر کے پیچھے دھواں ہے۔ لگتا ہے مکان چل رہے ہیں ۔

یہ ہنسا کے پجاریوں کی دہشت گردی دنیا کو شاید نظر نہیں آتی؟ایک تصویر میں ایک شخص ایک بچے کے لاش پر پریشان بیٹھا ہے نیچے تصویر میں خواتین کی لاشوں کی تصویر ہے اس پر لکھا ہے یہ بے گوروکفن لاشیں برما کے مسلمانوں کی ہیں جنہیں عالمی میڈیا اسلام دشمنی میں چُھپا رہا ہے ۔دو تصاویر میں بچے اور عورتیں رو رہی ہیںتصویر پر لکھا ہے برما کے یہ مسلمان بچے جن کے والدین شہید ہو گئے ہیں۔ کیا آپ انہیں بچانے میں اپنا کردار ادا کریںگے؟ جی ہاں ! آپ کا دنیا سے زیادہ سے زیادہ شیئر کرنا بھی انہیں بچانے میں مددگار بن سکتا ہے۔ نیچے تصویر پر لکھا ہے میں برما کی مسلمان بہن ہوں میرے گھر کے سات لوگوں کو بدھ دہشگردوں نے شہید کر دیا ہے۔ خدارا برما کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا یہ ظلم دنیا کے سامنے لائیں اور میرے آنسو پونچھنے کا سامان کریں۔ایک تصویرمیں تینوں طرف لاشوں کو دکھایا گیا ہے اور فریادکی گئی ہے کہاں ہیں انسانی حقوق کی باتیں کرنے والی تنظیمیں ؟جو ملک پاکستان میں صرف ایک قادیانی (غیرمسلم) کے مرنے پر پورے ملک میں جلسے جلوس کر رہی تھیں ؟کہاں ہے یونائیٹڈ نیشن؟ جو خود کے کتوں تک کے مرنے پر عراق اور افغانوں پر حملہ کر دیتے ہیں؟کیا مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں؟ایک تصویر میں ایک نوجوان کی لاش پڑی ہے جس کے نیچے لکھا ہے کہ’’ بدھ دشتگرد تنظیم جنتا سیکورٹی‘‘ کا شکار ایک معصوم مسلمان نوجوان۔اس کے نیچے تصویر میں عور تیں پریشانی کے حالت میں رو رہیں ہیں۔

قر آن کی (سورۃ النساء۔۷۵) کے الفاظ تحریر ہیں’’ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ نکلو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیںاور فریاد کر رہے ہیں کہ اے خدا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی مددگار پیدا کر دے ‘‘ایک تصویر میں روہنگیا کے جلے ہوئےگھروں کے پاس سے لوگ بھاگ رہے ہیں۔ایک تصویر میں ایک برمی مسلمان کی لاش پانی میں تیر رہی ہے نیچے لکھا ہے برما میں مسلمانوں کا کھلا قتل عا م پر بے حس پاکستانی میڈیا خاموش! کیا امریکہ کو یہ دہشتگردی نظر نہیں آئی؟ ۔ ایک تصویر میں برما بدھ اکثریت کے مظالم کے باعث بنگلہ دیش ہجرت کر کے آنے والا مسلمان خاندان بنگلہ دیشی بحریہ کے افسر سے ہاتھ جوڑ کر بے دخل نہ کرنے کی اپیل کر رہا ہے۔۔۔ایک تصویر میں مسلمانوں کی لاتعداد لاشیں سڑک پر بے یارو مددگار پڑی نظر آ رہیں ہیں برما کے فوجی لاشوں پر کھڑے ہیں ۔ساتھ ہی چھوٹی تصویرمیں فوجی کسی گھر کی تلاشی کے لیے گھر میں داخل ہو رہے ہیں۔ نیچے لکھا ہے برما میں مسلمانوں کا قتل عام ،روہنگیا کے مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی! ہنساء کے پوجاری بدھ ملک برمامیں مسلم اقلیت کے ساتھ ظلم سے اس کا اصلی چہرا دنیا کے سامنے آگیا ۔ دہشتگردی کی انتہا ہو گئی ہے۔برما کے لوگ اور برما کی فوجی جنتا اس دہشت گردی میں شامل ہو گئی۔دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیںاور اقوام متحدہ خاموش ہے ۔

برما کی نوبل پرائز یافتہ aung san suu خاتون جب گھر میں بند تھیں تو انسانی حقوق کی چیمپئین بنی ہوئی تھی۔ اب جب آزاد ہیں تو ان کو اپنے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم میں برما کی ملٹری کی شمولیت نظر نہیں آ رہی؟افسوس کی بات ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کو اقلیت ماننے کے لیے تیار نہیں؟ بلکہ غیر قانونی آباد کار تصور کرتی ہے۔ جبکہ مسلمان آٹھویں صدی عیسوی سے برما میںآباد ہیں۔ اقوام متحدہ برما کی اقلیت کو مظلوم تو مانتی ہے مگر اس نے کبھی بھی ان کی مدد نہیں کی۔جبکہ انڈنیشیا کے ایک عیسائی صوبے کو آزادی دلا دی۔ سوڈان کے عیسایوں کو آزادی دلا دی۔ مگر مسلمانوں سے دوہرا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔تصویروں کی زبانی مظالم کی داستان ہے جو جماعت اسلامی پاکستان نے مختلف ذرائع سے حاصل کر کے عام مسلمانوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے نیٹ؍ فیس بک پر ڈالیں تاکہ دنیا بھی ان مظالم کو دنیا دیکھے۔پاکستان میں واحد جماعت اسلامی ہے جس نے برما کے مسلمانوں کے لیے فنڈ قائم کیا۔ راقم الحروف اسلام آباد کے ایک امدادی کیمپ پر ایک ہفتہ تک ڈیوٹی دیتا رہا۔

جماعت اسلامی الخدمت فائونڈیشن کے صدر بنگلہ دیش اور برما کی سرحد پر قائم مہاجرین کے کیمپ میںامدادی سامان اور نقد کی شکل میں گئے۔ وہاں کئی روز تک مہاجرین کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ جماعت اسلامی نے برما کے مسلمانو ںکے لیے ریلیاں نکالیں۔ ظلم کی داستانیں تصویر کی شکل میں مہیا کرکے بڑا کام کیا ۔جماعت اسلامی اسلام آباد کے کارکنوںبرما کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا۔ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ برما کے سفارت کار کو ملک بدرکیا جائے۔ لوگ صحیح کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی ہمیشہ ساری دنیا کے مسلمانوں کی غم میں شریک رہتی ہے۔باقی آیندہ ان شاء اللہ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */