فرانس بائیکاٹ اور ہماری چند ذمہ داریاں - اسد اللہ

آج کی دنیا کو گلوبل ویلیج بولا جاتا ہے یہاں بسنے والے تمام لوگ چاہتے نہ چاہتے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے نتھی ہو چکے ہیں کہ اب جدا ہو ہی نہیں سکتے حتی کہ بسا اوقات ان کی آپسی دشمنیاں بھی انکو ایک دوسرے سے جدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں بھارت سے سخت متنفر ہوں لیکن اگر دل پر ہاتھ رکھ کر اپنا محاسبہ کروں تو پتہ چلے گا کہ شاہ رخ میرا بچپن سے ہیرو رہ چکا ہے، سلمان خان جیسی باڈی میرا خواب ہے اور ہریتک روشن جیسا ڈانس مجھے بہت پسند ہے جبکہ ایشوریا، کاجول، پریتی زنٹا، مادھوری، پریانکا، دیپیکا وغیرہ جیسی ایک لمبی فہرست الگ سے ہے جس پر ہم نوجوانی میں صدقے واری جاتے رہے ہیں۔

ہم عید میلاد النبی ﷺ پر بھارتی گانوں پر ڈانس کی ویڈیوز بھی دیکھ چکے ہیں اور چودہ اگست والے دن ہماری گاڑی جب سٹارٹ ہوتی ہے تو اس میں لگی یو۔ایس۔بی پر بالی ووڈ گانے خودبخود بجنے لگتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا ممکن ہی نہیں ۔میں پاکستانی ہوکر بھی اس چنگل سے آزاد نہیں ہو سکا کیوں؟ کیونکہ یہ گلوبلائزیشن کا دجالی نظام ہمارے جسموں میں ناخن ماس کی طرح لازمی جزو بن چکا ہے۔ ہم اسرائیل کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن انکا سودی بینکنگ سسٹم ہماری معیشت کی نس نس میں رچا بسا ہے۔ فرانس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی، ہمارے دل خون کے آنسو روتے ہیں علماء کرام نے سفارتی تعلقات کی معطلی کیلئے تحاریک بھی چلا رکھی ہیں لیکن کیا ہم ایسا بائیکاٹ حقیقت میں کرنے کے متحمل ہو سکیں گے؟ ہمارے ملک میں بسکٹ، دوائیاں ، پرفیوم اور پیٹرول وغیرہ کا بائیکاٹ اگر کر بھی دیا جائے تو کیا ہم اپنی ہی پاک فضائیہ میں مستعمل میراج 3 اور میراج 5 جیسے ائیر سکواڈز کو ختم کر سکیں گے؟ کیا ہم آرمی کی ایوی ایشن میں موجود ایس اے 20 پوما اور ایلویٹی 3 جیسے ہیلی کاپٹرز کو گراؤنڈ کر سکتے ہیں؟ صرف یہی نہیں ہمارے ائیر ڈیفنس، میزائیل ڈیفنس سسٹمز میں بھی فرانسیسی ٹیکنالوجی کا اچھا خاصا حصہ موجود ہے۔ جبکہ زندگی بچانے والی بہت سی ادویات فرانسیسی کمپنیوں کی بنائی ہوئی ہیں اور ایمرجنسی میں آئے مریض کو فرانس بائیکاٹ کی کہاں سوجھتی ہوگی؟

یہ ہمارا ہی حال نہیں بلکہ ساری دنیا کا یہی حال ہے بھارت میں چائنا مخالف تحریک کا آغاز ہوا تو اسکی تشہیر کا سامان بھی چائینا سے تیار ہو کر آیا۔ ایک ویڈیو دیکھی جس میں ایک بھارتی نیتا چائنا مخالف بیان دے رہا تھا کہ ہم چائنا کی چیزوں کا استعمال بند کر رہے ہیں اسی لمحے سامنے کھڑے صحافی نے کہا "جناب آپکے جلسے میں آپ ہی کی انتظامیہ کی جانب سے آپ کے سامنے لگا یہ مائیک بھی چائنا کا ہے اور آپکے ہاتھ میں پکڑ رکھا یہ موبائل بھی چائنا کا ہے، پہلے تو اپنے ہاتھ سے اس موبائل کو زمین پر پٹخ دیجئے" اس پر وہ نیتا برہم ہو گئے لیکن ان کے پاس کوئی معقول جواب نہیں تھا کیونکہ چائنا وہ ملک ہے جو پوری دنیا کو انکی ضرورت کی چیزیں بنا کر ان کے منہ کے مطابق چماٹ مارتا ہے۔ پاکستان میں چودہ اگست کے باجے اور ٹوپیاں ہوں یا بھارتی یوم آزادی کا سامان سب چائنا کا ہے۔ ایسٹر، کرسمس ٹری، سانتا کلاز جیسی چیزیں ہوں یا ہماری عید میلاد النبی کی لائٹیں یا ہندو پوجا پاٹ کا سامان حتی کہ انکے جگمگ کرتے چھوٹے بڑے بھگوان تک، یہ سب کچھ چائنا سے بن کر آتا ہے۔ بے چارے ہندو چائنا کا بائیکاٹ کریں تو کہاں کہاں؟

اس گلوبلائزیشن نے ہمیں مکڑی کے اس تانے بانے میں جکڑ دیا ہے جہاں سے مفر اب ناممکن نظر آتا ہے۔ اگر ہم ان ملکوں کا بائیکاٹ کرنا ہی چاہتے ہیں تو پہلے ہمیں اپنی نااہلیوں کا بائیکاٹ کرنا ہوگا پہلے ہمیں اس قابل بننا ہوگا کہ ہماری دفاعی، معیشی، طبی ضروریات کی وجہ سے دوبارہ ان کے در پر نا جانا پڑے۔ ہمارے علماء کرام کو اور ہمارے سائنسدانوں کو ایسے نظام لانے ہوں گے جن پر عمل کرکے ہم ان قوموں کے محتاج نظر نہ آئیں۔ بظاہر یہ کہنا تو آسان ہے لیکن ایسا کر گزرنا آسان نہیں ہے کیونکہ ستر سال میں ہم نے آزادی لینے کے بعد بھی برطانوی قانون کو تو بدلا نہیں، اپنے لباس، معاشرتی نظام، تعلیمی نظام کو تو بدلا نہیں باقی سب کیا خاک بدلیں گے۔ یہ نظام بدلنا اتنا آسان ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ہم خالی نعرے لگانے والوں میں سے ہیں ہمیں اسلامی بینکنگ کے نام پر "سجی دکھا کر کھبی ماری جارہی ہے" ہمارے علماء کرام خود اپنا پیسہ انہی بینکوں میں رکھ کر سکون کی نیند سوتے ہیں۔

ہم میانہ روی کی تقاریر تو کرتے ہیں لیکن کسی مولوی کو نبی کریم ﷺ کی طرح یعفور نامی گدھے کا تذکرہ کرتے سنا ہے ؟ وہ باقی فضائل سنائیں گے لیکن ایسی تلخ باتیں حذف کر جائیں گے کیونکہ ان پر عمل کرکے گدھے کی سواری کرنا پڑےگی؟ جی ہاں وہ باقی سب بائیکاٹ تو کروایں گے لیکن یہودو نصاریٰ کی بنائی گاڑیوں اور ائیر کنڈیشنروں کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔
یہ معاملہ صرف مولویوں کا نہیں ہے بلکہ ہماری ساری قوم کا ہے کہ ہم فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اپنی کھانے پینے کی اشیاء کو ملاوٹ سے پاک کرنے کی اخلاقی جرات نہیں رکھتے۔ ہم بھارت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن اسکی ثقافت کو اور ہندوانہ رسومات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ ہم نے انگریز سے آزادی تو لے لی لیکن اس غلامی کا طوق گلے سے اتارنا نہیں چاہتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */