ہمیں الزامات کی سیاست سے باہر آنا ہوگا - حبیب الرحمن

امیرجماعتِ اسلامی جناب سراج الحق کا فرمانا ہے کہ تحریکِ انصاف سمیت پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں امریکا کی غلام ہیں۔انھوں نے پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں سمیت پی پی پی ہو یا مسلم لیگ ن، سب کو امریکا کا بہی خواہ قرار دیا۔ کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی بھی بات آخری نہیں ہوا کرتی، شاید یہ بات بھی سیاسی بیان ہی ہو کیونکہ اگر ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں ملک سے مخلص نہ ہوں اور صرف اور صرف امریکا کے کہنے پر ہی چلتی ہوں تو پھر ملک سے غداری کس بات کو شمار کیا جائے گا۔

جمہوریت میں یہ بات تو بالکل طے ہے کہ ہر سیاسی جماعت اور اس کے قائد کے پیچھے ملک کے عوام ہی ہوا کرتے ہیں۔ غیر ممالک کے عوام کو پاکستان کی کسی سیاسی پارٹی یا اس کے رہنما سے تو تعلق نہیں ہوا کرتا البتہ بیرونی ممالک کو ضرور پاکستان کی سیاسی پارٹیوں سے ہمدردیاں یا دشمنیاں ہو سکتی ہیں۔ غیر ممالک کی ہمدردیاں ہوں یا پاکستان کے ساتھ دشمنیاں، ان کا تعلق اپنے اپنے ملک کے مفادات سے وابستہ ہوا کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں سر گرم سیاسی پارٹیاں ہوں یا مذہبی جماعتیں، ماضی و حال میں ان کے تعلق کو دنیا کے مختلف ملکوں سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ ان پر غیر ممالک کے مفادات کے تحفظ سے وابستہ رہنے اور غیر ممالک سے فنڈ لیتے رہنے کا الزام بھی رہا ہے۔ لیکن بات سچ اور حق وہی ہوا کرتی ہے جو ثابت ہو جائے۔ اب اسے ہماری عدالتوں کا قصور کہیں، آئین و قانون کا سقم قرار دیں یا وہ ادارے جن کا کام حقائق جمع کرکے عدالتوں میں پیش کرنا ہوتا ہے، ان کی نالائقی قرار دیا جائے، جس کی وجہ سے جن جن پارٹیوں پر غیر ممالک کے مفادات کے مطابق اپنی پالیسیاں بنانے کا الزام رہا ہے، ان میں سے کسی ایک سیاسی یا مذہبی جماعت پر بھی عدالتیں الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

گویا اب تک جو جماعتیں بھی اپنی حریف جماعتوں پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے الزامات لگاتی رہی ہیں وہ سب کی سب قیاس آرائیاں تو کہی جا سکتی ہیں، ان کو یقین کی حد تک سچ کسی بھی لحاظ سے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر امیر جماعت کے بیان کو بہر لحاظ درست مان لیا جائے تو پھر تمام سیاسی جماعتیں، ان کے قائدین اور پھر تقریباً پورے ملک کے عوام کی پاکستان کے ساتھ وابستگی مشکوک ہو جائے گی اس لئے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کے پورے ملک میں ہزاروں لاکھوں فالوورز نہ ہوں۔ یہاں ایک اہم ترین بات یہ بھی ہے کہ کیا صرف پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہی امریکی لابی سے وابستہ ہیں یا ان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ امریکا سے ہی وابستہ رہی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے، فوجی یا سویلین حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے سے لیکر موجودہ حکومت تک، ہر آنے والے حکمران کی پہلی ترجیح ہمیشہ امریکا ہی رہا ہے۔ سویلین حکمران ہوں یا عسکری قیادتیں، ان سب نے ہمیشہ ہی اس بات کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکا سے ہی استوار رہیں۔ بے شک پاکستان کا ہر حکمران کہتا تو یہی رہا ہے کہ ہم امریکا سے برابری کی بنیاد پر تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے خلاف ہی رہے ہیں۔ پاکستان 72 برسوں میں بھی اس قابل نہیں ہو سکا کہ وہ دوسرے ممالک اور غیر ملکی بینکوں سے قرضہ لینے پر مجبور نہ رہا ہو۔

جو ملک 72 برسوں میں بھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا ہو، اس کے حکمرانوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ترقی یافتہ ممالک سے اپنے تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار کر سکتا ہے، کچھ مناسب نہیں۔ ایسے ممالک جن کی معیشت کا انحصار غیر ملکی سہاروں پر ہو وہ کسی نہ کسی بڑے ملک کا سہارا لینے پر بہر لحاظ مجبور ہوا کرتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات طے ہے کہ ہمیں کسی نہ کسی ایک بڑی طاقت کا سہارا تو ضرور لینا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے عسکری حکمران ہوں یا ان کی قیادت، سویلین حکمران ہوں یا ان کے قائدین، وہ برس ہا برس سے قائم امریکی تعلق کو منقطع نہیں کر سکتے۔ ایک تو پرانی وابستگی ایک مسئلہ رہی ہے تو دوسری جانب اگر اس تعلق سے قطع تعلق کر بھی لیا جائے تب بھی کسی نہ کسی کا سہارا تو لازماً درکار ہوگا۔ ہمارا پڑوسی چین، پاکستان کا بہت اچھا دوست رہا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کیلئے ایک مضبوط سہارا بن سکتا ہے لیکن بات تو وہیں کی وہیں آکر رک جاتی ہے کہ اگر ہم کنویں سے نکل بھی جائیں تو کھائی میں جا گرنے کا خطرہ تو بہر صورت موجود رہے گا۔

امریکا ہو، چین ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک، پاکستان اور خاص طور سے نظریہ پاکستان سے کوئی بھی مخلص نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوا جائے جس کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ آپس میں بھائی چارگی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں اگر ہزاروں برائیاں ہیں تو لاکھوں خوبیاں بھی ہیں۔ ہم میں سے کوئی ہو یا کوئی بھی ادارہ ہو، اس کے افراد و اہل کار کسی اور ملک سے سے آکر ان سے وابستہ نہیں ہوئے ہیں۔ معاشرے کی ساری خوبیاں ہوں یا خرابیاں، وہ کسی میں کم یا کسی میں زیادہ تو ہو سکتی ہیں، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ بالکل بھی نہ ہوں، اس لئے برس ہا برس سے جاری الزامات کی سیاست ترک کر کے سب ایک مٹھی بن جائیں۔ جس دن قوم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئی، وہ پہلا دن ہو گا جب پاکستان اپنے قدموں پر کھڑا ہونا شروع ہو جائے گا۔ ایسا ہوگا تو ساری لابیاں اور غلامیاں ختم ہو سکیں گی ورنہ ہم ایک دوسرے کو ملک دشمن قرار دیتے دیتے اسی ملک کے کسی گوشے میں دفن ہو کر جائیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */