نواز شریف اور موجودہ سیاسی دنگل - ڈاکٹر محمد عمار رشید

یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا

مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے

نواز شریف آجکل خبروں میںُ انتہائی ان ہیں سیاست کا پہیہ نواز شریف کے گرد گھوم رہا ہے وہ پاکستان کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں انکے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بڑی سیاسی عصبیت بنانے میں کامیاب رہے ۔ ۲۰۱۸ کے الیکشن میں انکی پارٹی ن لیگ نے قریبأ ایک کروڑ ۳۰ لاکھ ووٹ حاصل کئے یوں نواز شریف ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت کے سربراہ ٹھہرے ۔ انکی حالیہ تقریر کے بعد آنے والا سیاسی بھونچال سنبھالے نہیں سنبھل رہا نواز شریف کے سیاسی کیریر کا تجزیہ کیا جائے تو کچھ باتیں واضح ہو جاتی ہیں وہ نچلا ہو کر بیٹھنے پر کبھی راضی نہیں ہوتے ۔ بڑے بڑے کمپرومائز بھی اس خوبصورتی سے کرتے ہیں کہ اس کا الزام خود پر نہیں آنے دیتے اور ایسے بوجھ اٹھانے کے لئے شہباز شریف اور چوہدری نثار جیسی شخصیات بروئے کار آتی رہی ہیں ۔

اسطرح وہ اپنے چاہنے والوں کے درمیان اپنا اینٹی ایسٹیبلشمنٹ تاثر برقرار رکھنے میں عمومأ کامیاب رہے ہیں ۔ تیسری چیز نواز شریف کی سیاسی طاقت میں جیسے اضافہ ہوتا گیا وہ اپنے محسنوں کو سنگ میل بنا کر گزر گئے اور انہیں قصۂ پارینہ بنا دیا ۔ چوتھی اور اہمُ بات انہیں اپنی دل کی بات چھپانے پر ملکہ حاصل ہے وہ لمبا عرصہ اپنی پلانگ چھپا سکتے ہیں اسطرح طبل جنگ کب بجنا ، initiative یا چال کب چلنی ہے اور حملے کی ٹائمنگ کیا ہوگی ایسی باتوں کا فیصلہ عمومأ خود کرتے ہیں اور پانچویں بات ابھی تک وہ مقدر کے سکندر ثابت ہوتے رہے ہیں یعنی ادھر ڈوبے ادھر نکلے کے مصداق بڑے بڑے کرائسس میں بچتے رہے اور تخت نشیں ہوتے رہے ہیں ۔

اپوزیشن الائنس پی ڈی ایم میں تین بڑی جماعتیں شامل ہیں مولانا کی جے یو آئی ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ ۔ سوچنے کی بات ہے کیا ان تینوں پارٹیوں کی ترجیحات اور مقاصد وہی ہیں جو میاں نواز شریف اور مریم نواز کے ہیں نظر بظاہر تو فی الوقت پیپلزپارٹی کی بار گین پوزیشن سب سے بہتر ہے گو گلگت بلتستان الیکشن سے انکی امیدوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے لیکن ابھی تک یہی معلوم ہوتا ہے اگر اپوزیشن ایک اچھا کراؤڈ اسلام آباد لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے پیپلزپارٹی کو وفاق اور سندھ حکومت کے حوالے سے اور زرداری فیملی کے حوالے سے بہت کچھ حاصل کرسکتی ہے “ ون پیج حکومت “ سے انکا بڑا مطالبہ مڈ ٹرمُ الیکشن یا “ مائنس خان “ سیٹ اپ ہو سکتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن اپنی ساری کشتیاں جلانے کے لئے تیار ہیں ؟ انکے اور انکی پارٹی کے خلاف ابھی تک کوئی بڑے کیس سامنے کیوں نہ آسکے ؟ ابھی تک جیل یاترا کیوں نہ ہوئی ؟ اس سوال کا جواب تو انکی پارٹی کی مظبوط سٹریٹ پاور ہے اور دوسری بڑی وجہ “ ون پیج حکومت “ ضرورت سے زیادہ محاذ نہیں کھولنا چاہتی ، ابھی تک انکا مرکزی حدف ن لیگ اور شریف فیملی ہی ہے ۔

مولانا کیا چاہتے ہیں ؟ انکے بیانات اور تقریروں کا جائزہ لیا جائے تو وہ نوازشریف اور مریم نواز ایک ہی بیانیہ پیش کر رہے ہیں مولانا کے مطالبات کیا ہو سکتے ہیں ؟ انکا سب سے بڑا مطالبہ ری الیکشن اور “ مائنس خان “ سیٹ اپ ہی ہوگا ۔ اگر انکے مطالبات کو ماننے کی کوئی گنجائش پیدا ہوئی تو مذاکرات کے ڈول میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں سے ناراضگی ختم ہونا کا امکان موجود ہے ۔ موجودہ سیاسی دنگل میں ن لیگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ن لیگ کی صورتحال کیا ہے ؟ شہباز شریف خاموش حمائیت کے ساتھ جیل میں ہیں پارٹی کے پانچ بڑوں نے اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں کا نام لینے کی مخالفت کر دی ہے لیکن ابھی تک سب میاں نواز شریف کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ابھی تک کوئی بڑی دراڑ یا بغاوت نہیں ہوئی لیکن مستقبل قریب ایسی خبریں سنائی دی جا سکتی ہیں ۔ اب میاں نواز شریف اور مریم نواز کی سٹریٹیجی کو دیکھ لیں ، نواز شریف اپنے بیا نئے کو زیر بحث لانے میں کامیاب رہے ہیں جو لوگ نواز شریف کی اس بات کے ناقد ہیں کہ کیوں بار بار بڑوں کے نام لئے جا رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی بات کی جاتی ہے وہ سیاسی حرکیات کے بنیادی اصول کو بھول رہے ہیں ۔

اپنے بیانیے کو زیر بحث لانا اور بار دگر یاد دہانی کروانا تاآنکہ آپکا بیانیہ بڑا سیاسی ایشو بن جائے اور اسکی شدید حمائیت اور مخالفت نظر آنے لگے اس معاملے میں میاں نواز شریف کامیاب نظر آتے ہیں نواز شریف اور مریمُ نواز کا معاملہ بڑا گنجلک ہے انکے پاس کمپرومائز اور درمیانی راستہ اپنانے کی آپشن دن بدن ختم ہو رہی ہیں ن لیگ کی صف اوّل کی قیادت میں چند کے علاوہ ذہنی اور قلبی طور پر انکے بیانیے کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آرہے اور انکی حالیہ بڑی غلطی گلگت بلتستان میں بھرپور حصہ لینا ہے ۔ مریم نواز پیپیلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹ منٹ کرتیں یا کم سے کم گلگت کے سیاسی دوروں سے احتراز کرتیں تو انکو بڑی سیاسی لڑائی میں فائدہ ہوتا ۔ سیاست میں بعض اوقات کوئی غیر متوقع واقعہ حالات کا رخ بدل دیتا ہے رانا سانگھا کی آنکھ میں تیر لگنا اسکی پانی پت میں شکست کا باعث بن گیا تھا کورونا کی وبا جہاں امریکہ میں صدر ٹرمپ کی شکست کی وجہ بنی ہے وہیں پاکستان میں اسکی دوسری لہر (second wave) خان حکومت کے حق اور اپوزیشن کیخلاف جاتی معلوم ہوتی ہے ۔

پی ٹی آئی حکومت اس سارے قضیے میں کیا کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کے خیال میں اسکے لئے اگلے دو ماہ اہم ہیں اگر اسمیں حکومت کو کوئی نقصان نہ پہچا تو “ ستے خیراں “ کا اعلان کر دیا جائے گا ۔ حکومت کی سٹریٹجی یہی ہے کہ اس سیاسی تناؤ کو اپوزیشن بمقابلہ ایسٹیبلشمنٹ کا رنگ دینے میں اسکی بہتری ہے لیکن لگتا یہی ہے اگر اپوزیشن ایک بڑا کراؤڈ اسلامُ آباد لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کسی قابل اعتماد “ضامن “کی موجودگی میں معنی خیز مذاکرات ہوتے نظر آرہے ہیں ۔جہاں سیاست امکانات کا کھیل ہے وہیں صحیح وقت پر فیصلہ سازی اور گاہے سیاسی وجود قائم و دائم رکھنے کے لئے کریز سے نکل کر کھیلنا اور اسکے نتائج کو دلیری سے بھگتنا بھی ضروری ہوجاتا ہے ۔ اگر نواز شریف کا خیال ہے کہ اپوزیشن اتحاد انکے narrative کو لے کر آگے بڑھے گا اور لڑ مرے گا تو اس خیال کو دیوانے کا خواب کہنا صحیح ہوگا ۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس بات کا ادراک میاں صاحب کو نہیں ہے وہ سب کچھ جانتے ہیں ۔رہی بات انکی اپنی پارٹی یعنی ن لیگ تو کیا وہ اپنے قائد کے ساتھ آخری حد تک جا سکے گی ؟۔ انکے بیانیے کو انکی پارٹی لے کر چلے گی اور مشکلیں اور جیلیں جیلے گی تو محل نظر ہے لوگوں کو مشرف دور میں میاں صاحب کی واپسی کا وقت یاد ہے جب انہیں ائیرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا اور انتہائی قلیل تعداد میں انکے جانثاروں نے احتجاج کیا اور موجودہ صورتحال بھی یہی ہے خواجہ آصف اور دیگر رہنما یعنی ن لیگ کی ٹاپ لیڈر شپ مذاکرات ، ٹیبل ٹاک یا پس پردہ رابطوں کی حمائیت کر رہے ہیں ایسے میں کیا نواز شریف یہ سمجھتے ہیں اسی طرح سیاسی جلسوں میں لندن سے خطاب کرتے رہیں اور اداروں کے بڑوں کا نام لیتے رہیں اس سے وہ اپنے مقاصد حاصل کر پائیں گے ۔ ؟

نواز شریف کچھ غلطیوں کے باوجود اپنے بیانیے کو بڑے سیاسی ایشو کے طور پر زیر بحث لانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ پی ڈی ایم کے قیام سے انکے بیانیے کو تقویت ملی ہے اور ایک سٹیج میسر آگیا ہے جہاں تمام اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ سپورٹرز انکے بیانیے کو سنتے ہیں اور کوئی بھی بڑی اپوزیشن پارٹی کھل کر انکے بیانیے کی مخالفت نہیں کر رہی ہے اور انکے خلاف انتہائی پوزیشن نہیں لے رہی اس سے وہُ یہ تاثر دینے میں بھی کامیاب نظر آتے ہیں انکا بیانیہ ہی اپوزیشن کا بیانیہ ہے پی ڈی ایم سے وہ اسی قدر حاصلُ حصول کرنا چاہتے ہیں نہ اپوزیشن الائنس اس سے زیادہ کچھ کر سکتا ہے ۔ پیپلز پارٹی ، جے یو آئی اور ن لیگ کے نزدیک سینٹ الیکشن بھی اہم ہو سکتے ہیں لیکن نواز شریف کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم سوال انکی وطن واپسی اور اسکی ٹائمنگ ہے نواز شریف کو سمجھنا ہوگا وہ کوئی انقلابی لیڈر نہیں وہُ بہرحال ایک انتخابی لیڈر ہیں اگر انکا خیال ہے محض تقریروں سے کچھ کر پائیں گے اور انکے پاس کوئی contingency plan یا تہہ در تہہ سٹریٹجی نہیں ہے تو نظر بظاہر شریف فیملی کی سیاست اگلے ڈیڈھ دو سال میں بہت محدود ہو کر رہ جائے گی ۔

نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا اہم موڑ مارچ ، اپریل ۲۰۲۱ ہوگا اگر اس وقت تک وہ وطن واپسی کا فیصلہ نہیں کرتے اور امید کرتے ہیں کہ انکی تقریروں کا بوجھ ن لیگی لیڈرشپ اٹھا پائے گی تو یہ انکی بڑی بھول ہے ۔ انکی وطن واپسی اور دوبارہ جیل جانا ہی انکی پارٹی اور سیاست کو زندہ رکھ سکتی ہے نواز شریف سیاسی شطرنج کے کہنہ مشق کھلاڑی ہیں اور بہت سی سیاسی لڑائیوں میں اپنے مخالفیں کوشہہ مات دیتے آئے ہیں موجودہ لڑائی نئی بھی ہے اور مشکل بھی ہے شاہد خاقان عباسی اب کی بار جاوید ہاشمی بن پائیں گے یا نئیں ۔ لگتا یہی ہے یہ دنگل نواز شریف کو خود لڑنا ہوگا ورنہ شہہ مات انکی منتظر ہے

ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں

نہُ عشق کو ہے صرفہ ، بہ حسن کو محابا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */