بیانیہ کا جادو - نصراللہ گورایہ

پچھلے چند سالوں سے دنیائے سیاست میں دنیا ئے ادب سے ایک نیا لفظ متعارف ہوا جسے’’ بیانیہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔اگر تو دنیا ئے ادب سے دنیائے سیاست میں بیانیے کے ساتھ تھوڑا سا ادب بھی ہجرت کرتا تو یقینا یہ ایک بہت حوصلہ افزاء خبر ہوتی لیکن شومئی قسمت کہ ایسا نہ ہو سکا۔ ادب یا لٹریچر میں بیانیہ قصہ ، روایت ، کہانی یاافسانے کو کہتے ہیں جبکہ سیاست میں بیانیہ ایک ایسی کہانی کو کہتے ہیں جو کسی خاص واقعے یا واقعات کی روشنی میں ایک کہانی یا افسانے کی طرح مخصوص سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا ہو ۔

تمام سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنے ووٹرز اور عوام کو ایک بیانیہ پیش کرتی ہیں پھر ووٹر اس بیانیے کو ایک سیاسی عمل سے گزارتے ہیںاور پھر اسی رائے کو سامنے رکھ کر عوام ووٹ ڈالتی ہے۔ دنیا ئے سیاست میں سیاسی جماعتیں غور وخوض کے بعد اب ایک کل وقتی یا جز وقتی بیانیہ تشکیل دیتی ہیں اور پھر ان کی سیاست اسی بیانیے کےگرد گھومتی ہے ۔ دنیائے سیاست کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق سیاسی جماعتیں خود کو دائیں یا بائیں بازو کی سیاسی جماعت ڈکلئیر کروا کر خود کو محدود کرنے کے بجائے زمینی اور معروضی حالات کی روشنی میں بیانیے کی سیاست پر کاربند نظر آتی ہیں۔آجکل ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی بیانیے کو لیکر چل رہی ہے۔ اور یوں بیانیے کی سیاست کا نیا رحجان ہمارے سیاسی ماحول میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ غالباً بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کے آغاز پر سیاسی دانشوروں نے حالات وواقعات کے پیش نظر بیانیہ پیش کرنے کے عمل کا آغاز کیا اور اس میں جدت اور تواتر کے ساتھ اضافہ اکیسویں صدی کے آغاز میں الیکڑانک میڈیا کی مقبولیت اور جدت کے ساتھ دیکھنے کو ملا۔

مولانا مودودی ؒ اور برصغیر کے عظیم شاعرو فلاسفر علامہ اقبال ، دونوں کی نثر اور نظم کو اگر پڑھیں تو دونوں نے نہ صرف ملت اسلامیہ برصغیر پاک وہند کو بلکہ دنیائےاسلام کوایک قدیم وجدید بیانیے سے متعارف کروایا ۔ جس کا مفہوم یہ تھاکہ اسلام ایک زندہ و جاوید قوت کا نام ہے جس کو اپنے زمانے کی قیادت و سیادت پر فائز ہونا چاہیے۔اس بیانیے نے مشرق اور مغرب دونوںکو متاثر کیا او ر اس کے اثرات اب تک ملت اسلامیہ محسوس کر سکتی ہے۔2016 ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح میںاس کے بیانیے کی سیاست نے بہت ہی اہم کردار ادا کیا ۔ اسی طرح امریکی انتخابات سے اٹھنے والا یہ غلغلہ آہستہ آہستہ پوری دنیا کی سیاست میں مقبول ہوتا گیا اور اب سیاستدان اور سیاسی ورکرز ٹاک شوز ، پریس کانفرنس اور دیگر سرگرمیوں میں پارٹی آئین یا پارٹی منشور سے زیادہ بیانیہ کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ مودی کی کامیابی میں ان کابیانیہ واحد چیز نہیں بلکہ اس کے پیچھے رائے دھند گان کا جذباتی لگائو بھی شامل تھا۔ اس جذباتی لگائو نے مودی کے لے بھروسہ پیدا کیا ۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے بیانیے کو استعمال کر تے وقت اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ بیانیہ طویل عرصے تک یاد رہے ۔ اس دوران اس بات کا خیال رکھا جاتاہے کہ اخباری رپورٹر مختلف اضلاع میں جائیں تو مودی کے تمام ورکرز کے پاس اس بات کا تسلی بخش جواب موجود ہو کہ وہ مودی کو ووٹ کیوں دے رہے ہیں ۔ مسلسل ناکامیوں کے باوجود بدلتے ہوئے بیانیے کے ساتھ سیاست میںان (In)رہنے کا فن نریندر مودی کو خوب آتا ہے مثلاً 2015 میں حکومت کی پہلی سالگرہ پر نعرہ دیا گیا ’’سال ایک ، کام انیک‘‘ یعنی ایک سال میں کئی کامیابیاں اس کے ساتھ مودی سرکار ، کام لگاتاربھی کہا گیا۔ 2016 ء میں کہا گیا ’’ساتھ ہے وشواس ہے ہو رہا ئو کاس ہے‘‘ یعنی مل جل کر ترقی کی جانب رواں دواں ہیں ۔ 2017 ء میں کہا گیا ’’میر ادیش بول رہا ہے‘‘ 2018 ء میں نعرہ دیا گیا’’صاف نیت ، صحیح وکاس‘‘ یعنی اچھی نیت بہتر ترقی۔ بھولے بھالے عوام گانوں اور نعروںکی بدمستی میں ڈبو دیے گئے۔ ان سب نعروںکی بنیادی تھیم ایک ’’ جاری عمل‘‘ کی تھی ۔

مودی نے کبھی کسی بھی تقریر میں یہ دعوٰ ی نہیں کیا کہ جن اچھے دنوں کی نویدیا وعدہ انہوں نے کیا تھا وہ آگئے بلکہ یہ کہہ کر لوگوں کا دل بہلاتے رہے کہ ’’کام ہو رہا ہے بہت کچھ بدل رہا ہے ‘‘پاکستان میں تحریک انصاف اور عمران خان جبکہ ہندوستان میں نر یندر مودی اور بی ، جے ، پی میں آپ کو صد فیصد مماثلت نظر آئے گی۔عمران خان کا ’’کرپشن ‘‘نواز شریف اور زرداری کیخلاف ایک مضبوط بیانیہ رہا ہے اور ابھی بھی وہ اپنے اس بیانیے پر کار بند نظر آتے ہیں اور نرنیدر مودی کی طرح عوام الناس کے ذھنوں پر کسی ایک چیز کو ٹکنے نہیں دیتے ۔ مثلاً کبھی وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں تو کبھی وہ چائنہ کی طرز کا نظام لانا چاہتے ہیں۔ یعنی عوام کو چونا لگائے رکھو اور اپنے ورکرز کو معاشرے میں ہیجان پیدا کرنے کی خصوصی تربیت دی جائے تاکہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کا گلہ گھونٹ دیا جائے جس سے ترقی اور جواب دہی کا سوال ہی پیدا نہ ہو بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹتانظر آئے ۔ یکے بعد دیگر ے ناکامیاںلیکن نعروں اور ہنگاموں کا ایسا طوفان برپا کیا جائے کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دے۔

اگرچہ مودی کی طرح عمران خان کے نامہ اعمال میں عوام کو طفل تسلیاں دینے اور کسی کو این ۔ آر۔ او نہیں ملے گاکا نعرہ بہت نمایا ں ملے گاجبکہ این ۔آر ۔ او بھی ملے اور لوگ اپنے علاج کے لیے بیرون ملک بھی بھیج دیئے گئے ۔ اب موصوف کہتے ہیں کہ میں خود انہیں جا کر لائوں گا اور جیل میں ڈالوں گا ۔ ہندوستان کی طرح پاکستان کے معصوم عوام بھی ان نعروں پر اعتبار کر بیٹھے اور بھلے دنوں کی آس اور امید لگائے جس طرح’’ بیڈگورننس ‘‘کو بھگت رہے ہیں وہ اس کی ایک زندہ وجاوید مثال ہے ۔ طاہر القادری صاحب نے ایک موقع پر بہت ہی خوبصورت بیانیہ پیش کیا کہ ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ لیکن نہ تو سیاست بچ سکی اورنہ ہی ریاست۔۔۔ البتہ قادری صاحب خود ضرور بچ گئے ’’اور دیکھ مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘ کے مصداق آج منظر، پس منظر ، پیش منظر اور تہہ منظر سے غائب ہیں ۔پیپلز پارٹی نے بھٹو کے دور میں روٹی ،کپڑا اور مکان جب کہ بعد ازاں اسلامی سوشلزم کے بیانیے کی بنیاد پر عوام کی رگوں سے خوب خون نچوڑااور بہت بری طرح پٹنے کے بعد اب پارلیمان کی بالادستی ، اٹھارہویں ترمیم پر ایک واضح بیانیہ ہے اور اسی کو لے کر وہ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) نے 2018ء کا الیکشن اپنے سول بالا دستی کے بیانیہ یعنی ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کی بنیاد پر لڑا ۔

اس بیانیے نے سیاسی ماحول میں خاصی ہلچل پید ا کر رکھی ہے ۔ اگرچہ (ن) لیگ کی پیدائش اور ساری کامیابیاں ’’اسٹبلیشمنٹ ‘‘کی ہی مرہون منت ہیں لیکن اس کے باوجود اے ۔ پی ۔ ڈیم کے پلیٹ فارم سے نواز شریف اور ان کی دختر مریم نواز نے پوری قوت کے ساتھ یہ نعرہ دہرایا ہے جبکہ اندرون خانہ اسی ووٹ کو عزت دو کے نعرے تلے ’’بوٹ پالش ‘‘ کرنے کے لیے بھی تیار اور سر گرم نظر آتے ہیں ۔ اس کا بہت ہی واضح اشارہ پچھلے دنوں مریم نواز صاحبہ کے انٹر ویوز سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ جلسوں میں عوام سے بات کرتی ہیں اور جب بی بی سی سے بات کرتی ہیں تو بیانیہ بدل جاتا ہے اور تیسری دنیا کے عوام’’ارطغرل کی اس حلیمہ سلطان‘‘ کو اس کے قبائلی لباس میں دیکھ کر بیانیے کو فراموش کر بیٹھتے ہیں ۔ان کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کے معصوم اور بھولے بھالے عوام کو نعروں ، بھنگڑوں اور بریانیوں سے بہلایا جا سکے۔ لہٰذا وہ بہت ہی حکمت کیساتھ اپنے بیانیہ کو بھی بیا ن کر رہے ہیں اور اندرون خانہ میل ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے کیونکہ سیاست میں ہمیشہ تمام آپشنز کھلے رہتے ہیں ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آنیوالے دنوں میں عوام کس کے بیانیے کو تسلیم کرتی ہے۔ لیکن تاریخ کے اس تاریخی موڑ پر جب کہ دنیائے جمہوریت کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا دعوی کرنے والے امریکہ کی جمہوریت کا پول طشت از بام ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کو تسلیم کرنااور سعودی عرب کے خفیے دورے آنے والے حالات کی سنگینی اور ان کی پیش بندی کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کو اس وقت پڑھے لکھے ، تربیت یافتہ ، قدیم وجدید علوم سے بہر ہ ور، تہذیب وتمدن سے آشنا اور نظریاتی سیاستدانوںکی ایک کھیپ کی ضرورت ہے جو ملک پاکستا ن کی عوام کو ایک نظریاتی بیانیہ دے سکیں اوران زخموں پرمرہم رکھ سکیں جن پر پچھلے بہتر سالوںسے نمک پاشی کی جارہی ہے اور دوبارہ سے مایوس نوجوانوں کے دلوں میںامیدوں کے چراغ روشن کر سکیں ۔ ایسے سیاست دان جو اس کہنہ نظام زندگی کو بدل کر ایک آفاقی وابدی نظام زندگی کے نظام سیاست وریاست سے آشنا کر سکیں ۔ ہوشیار! وگرنہ پھر کوئی بھٹو، نواز شریف یاعمران خان کی طرح اپنی ڈگڈگی بجائے گا ، میڈیا اس میں رنگ بھرے گا اور Electablesکا یہ ریوڑ جو ہر ایک کے بیانیے کاجواز آئین پاکستان کی روشنی میں تلاش کر لیتا ہے ایک بار پھر بھوکے بھیڑیے کی طرح اس پر نظریں گاڑھے چاک و چوبند نظر آتا ہے۔ آگے بڑھیے! اپنا حق اد اکیجئے ! بولیے ! لکھیے اور بدل دیجئے !

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */