سندھ گورنمنٹ - خالد ایم خان

سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک تہذیب ہے جس کے نقوش موئن جو دڑو اور اُس کے ساتھ ہی ٹیکسیلا سے جا ملتے ہیں اس خطہ کو کبھی ہند اور سندھ کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا جو آہستہ آہستہ پنجاب ،راجھستان اورگجرات(انڈیا) کے نام سے بٹتے چلے گئے ۔ دنیا کی اس قدیم ترین تہذیب پر بہترین کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن کو پڑھ کر ہم ماضی کی عظیم داستانوں پر اپنی نگاہیں دوڑا سکتے ہیں، اور یقینا ہمیں پڑھنا چاہیئے کیوں کہ اس سے ہمارا دل ودماغ روشن ہوتا ہے ۔

اس وقت ہم زکر کر رہے ہیں سندھ گورنمنٹ کی یعنی سندھ حکومت سے جن کی گُھمن گھیریاں ختم ہونے کو نام ہی نہیں لے رہیں ۔پچھلے چالیس سال سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر جس اُلٹ پھیر میں اُلجھا کر آپ نے سندھ میں بستی عوام کو جس انداز میں ڈلیور کیا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی ڈلیور تو انہوں نے یقینا کیا ہے لیکن کن کو اور کیا ڈلیور کیا ہے آپ یقین جانیں یہ ایک الگ اُلٹ پھیر ہے ،انہوں نے اپنے من پسند افراد کو لوٹ مار کرنے کے سائینٹفک طریقے وضع کیئے اور سمجھائے ہیں آپ یقین جانیں ان کے بہت قریبی جیالوں نے جس محبت اور پیار سے اس ملک کی عوام کو لوٹا ہے اُس کی مثال آپ کو کہیں بھی نہیں ملے گی ۔

پیپلز پارٹی اینڈ کمپنی کرپشن کے ان تمام معاملات میں یقینا اس ملک میں اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں ،کیسے لوٹنا ہے اور کیسے اُس مال کو ہضم کرنا ہے ، یہ فن اس ملک میں پئپلز پارٹی اینڈکمپنی کے علاوہ کو ئی نہیںجانتا ، ماسٹر مائنڈ ، یقین جانیں ایسے شکاری ، ایسے کھلاڑی کہ دن دھاڑے عوام کی انکھوں کا کاجل بھی لوٹ لیںاور اُن کو پتہ بھی نہ چلے ، یقین جانیں ان لوگوں نے لوٹ مار کے لئے انتہائی سائنٹفک تریکے بیش کئے ، عیان علی اورکراچی امن کمیٹی کے گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کوکون نہیں جانتا جو اپنے لیاری کے گینگ وار کے لوگوں کوخاص کر ظفر بلوچ اور دیگر کو سلیپر سیلز کے طور پر بینکاک اور دیگر ملکوں میں ڈالروں کی ترسیل کے لیئے استعمال کرتے تھے،ڈالرز کی بیرون ملک ترسیل سے لے کر ملکی دولت پر اثررسوخ قائم رکھنے کی خاطر ان لوگوں نے جدیدتریقے استعمال کیئے ، بڑے منظم انداز میں پورے ملک میں غریب لوگوں کے پہلے تو بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے حصول کی خاطرل ان کے جعلی بینک اکا ئو نٹ بنوائے گئے پھر ان جعلی اکائونٹس کوبڑے منظم انداز میں اپنے استعمال میں لایا گیا ، جہاں کھربوں روپے کی ملکی کرنسی انجانے مقاصد کے حصول کے لیئے چھپا کر رکھے گئے ، یقین جانیں کافی سے زیادہ جعلی اکائوٹس پہچان لیئے جانے کے خوف سے انتہائی اُجلت میں سیز کیئے گئے،ان کے علاوا پورے ملک کے بینک اکائونٹوں سے اربوں روپئے کے جعلی آکائونٹس برامد ہوئے، جن کا بعد میں کوئی والی وارث نظر نہیں آیااور ہمیں بھی آج تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ کونسی نسل کے جنات تھے جو کچھ اکائنٹوں میں خاموشی کے ساتھ آ کر کروڑوں روپئے ڈال کر خاموشی ہی کے ساتھ چھو منتر ہو جاتے ہیں ۔۔

کیا موجودہ حکومت ان کی گریٹ گیم کو اب تک نہیں سمجھ پائی اور نہیں سمجھ پائی کہ اس ملک کے اندرون خانہ ملکی مفادات کو کس انداز میں زاک پہنچائی جا رہی ہے ، میں پہلے بھی تحریر کرچکا ہوں کہ بوتل کے جنوں کو کون قابو میں کر ے گا ،کچھ جنات کے بارے میں تو میں لکھ چکا ہوں لیکن باقی ہوش رُبا جنات پردے میں چھپے ہیں جن کو ڈھوندنا پڑتا ہے اُن پر محنت کرنی پڑتی ہے اُن کو نوٹ لگانے پڑتے ہیں کیوں کہ وہ اتنے پکے ہو چکے ہیں کہ جب تک اُن کو نوٹوں کی خوشبو نا سُنگھائی جائے وہ مان کر ہی نہیں دیتے ، اور جب آپ اُن کو کس بھی طرح منا لیں تو بھر آپ کے بھاگ جاگ جائیں گے ، وہ کچھ بھی کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔آپ نے ملک کے کسی بھی ادارے میں کسی بھی قسم کی جاب لینی ہو ،بس نوٹ دکھائیں مل جائے گی ،یقین جانیں انہوں نے ملک بھر میںملک کے مختلف اداروں میں بے دریغ اندھادہند اپنے جیالوں کی بھرتیاں کروائیں ہیں ۔ان میں نوے (۹۰ ) فیصد جیلاے امپلائی ایسے ہیں جو آج تک اپنے گھروں میں بیٹھے سند ھ گورنمنٹ سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ کس کس کا زکر کریں سندھ کے تعلیمی ادارے ہوں یا کہ پھر سندھ کے دیگر گورنمنٹ ادارے اور کیوں بھولتے ہیں سندھ حکومت کے ماتحت پورے سندھ کی بلدیہ ۔آپ شائد یقین نہ کریں لیکن یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ۳۰ سال پہلے بھرتی ہونے والے کچھ لوگوں کی تنخواہیں ملک سے ۲۵ سال سے باہر ہونے کے باوجود اُن کے خاندان کے لوگ بلدیہ عظمیٰ کراچی سے وصول کر رہے ہیں ۔ ،، اللہ اللہ ،، سوچیں کیا یہ ظلم نہیں ہے۔

میں تو حیران ہوں کہ اسلام آباد مین میٹرو بن سکتی ہے ، پشاور میں میٹرو بن سکتی ہے لاہور میں میٹرو کے ساتھ جدید اورنج ٹرین بنائی جا سکتی ہے تو پھر کراچی میںکیوں نہیں ،،،،،، ہاں ہم نے بھی سنا ہے کراچی سرکلر ریلوے کے بارے میں جو بنتے بنتے بھی نہیں بن پا رہی ہے ،بھائی مہربانی آپ سب لوگوں کی،احسان کیا ہے آپ لوگوں نے کراچی پر ، اور اس سے آگے میں کیا کہوں اور کیا لکھوں یقین جانیں دل جل سا گیا ہے شیخ صاحب سے تو گلا ہی نہیں ہے اُس غریب سے جو ہو پڑتا تھا اپنے تئیں کر رہا ہے سوال تو میرا کراچی میں جا بجا ناچنے والوں سے ہے ، چالیس پچاس سالوں سے کراچی پر اپنی اجارا داری قائم کرنے والوں سے ہے کہ آپ لوگوں نے آج تک کراچی کے لیئے کیا کیاہے ، سوال تو میرا گورنمنٹ آف سندھ سے ہے اُن کے عظیم ترین بلاول بھٹو +زرداری سے ہے، جو کچھ دنوں پہلے گلگت بلتستان کے الیکشنز میں چیخ چیخ کر دوھواں دار تقریر کر رہے تھے کہ میں،،میں بنائوں گا پاکستان کو ،، میں آپ لوگوں کی دنیا بدل دوں گا،، واہ بھائی کراچی کی جانب تو زرہ ایک نگاہ کریں اوراُس کے بعد بتائیں پاکستان کی عوام کو کے کیا ایسے ،، بدلیں گے پورے پاکستان کو،، بتائیں کراچی کی عوام کو کیا کراچی کو کراچی سرکلر ریلوے اور اُس کے ٹوٹے پھوٹے اسٹیشنوں اور کچرے کے ڈھیروں کی سوغات دی جا رہی ہے ،تو بھائی معزرت کے ساتھ نہیں چایئے ہمیں ایسی ٹرین ،۔

کراچی سرکلر ریلوے کے اسی علاقہ پر بہت کام کیا جا سکتا ہے دنیا کی طرز کے خوبصورت الیویٹر لگے خوبصورت اسٹیشن بنائے جا سکتے ہیں ، سرکلر ریلوے کی دونوں سائڈوں پر باڑھ لگائی جا سکتی ہے ، اُن کے ساتھ تمام علا قوں سے گندگی کے ڈھیر اُٹھائے جا سکتے ہیں وہاں سے کچرے کے ڈھیروں کو اُٹھا کر شجر کاری کی جاسکتی ہے خوبصورت دل فریب درخت لگائے جا سکتے ہیں،، لیکن کون ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */