دل کشادہ تو منزل آسان - ام محمد سلمان

کل صبح سو کر اٹھی تو سردی کی تیز لہر نے استقبال کیا ۔ صحن میں آتے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خوشگوار تو تھے مگر ابھی چوں کہ گرم کپڑے نکالے نہیں تھے اس لیے ذرا ناگوار بھی گزر رہے تھے ۔ ارادہ تھا میاں اور بچوں کو رخصت کر کے آج تو لمبی تان کر سوؤں گی ۔ ایک بار تو گرم کمبل میں لپٹ کر لیٹ بھی گئی مگر خیال آیا یہ اوندھا پڑا گھر تو سمیٹ لوں ذرا.... اب ایسا نہ ہو نیند ہی نیند میں اللہ میاں کو پیاری ہو جاؤں اور بعد میں تعزیت کے لیے آنے والے لوگ کہیں..." توبہ ہے بھئی کیا ہی اوّل درجے کی پھوہڑ خاتون تھیں یعنی کہ...!"

آج کل ایسی اچانک اور ناگہانی اموات ہو رہی ہیں کہ ہر وقت دھڑکا سا ہی لگا رہتا ہے کہ جانے تھوڑی دیر بعد زمین کے نیچے ہوں گے یا اوپر.... (اللہ ایمان کی بہترین حالت پر خاتمہ فرمائے)
خیر جناب یہ تو ذرا سنجیدہ سا مزاح ہو گیا... اصل بات تو یہ ہے کہ صبح کے وقت میں برکت ہوتی ہے کام جلدی نمٹ جاتے ہیں ۔ اٹھ کر برتن دھوئے کچن صاف کیا، پھر بچوں کے کمرے کو سمیٹا... کپڑے بھی ڈھیروں ڈھیر جمع ہو گئے تھے، دو ہفتے سے مشین نہیں لگائی تھی. سوچا سونے کا ارادہ ملتوی کر کے کپڑے دھو لیے جائیں ۔ اور پھر مزید کچھ سوچے جلدی سے واشنگ مشین لگا لی... کپڑے دھونا ویسے بھی میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جی جی میں اسے کام نہیں بلکہ مشغلہ ہی سمجھتی ہوں اور بہت دل لگا کے کرتی ہوں ( بس ذرا برتن دھونے سے جان جاتی ہے! )

نل کے نیچے کپڑے کھنگالتے ہوئے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بار بار جسم سے ٹکرا رہے تھے۔ سردی لگی تو نہ جانے کیوں ساسو ماں خیالوں میں در آئیں... ان کی زندگی میں ایسے ٹھنڈ کے موسم میں کبھی کپڑے دھویا کرتی تو انھیں مسقل فکر ستائے جاتی... "اتنی سردی میں کس نے کہا کپڑے دھونے کو... ایک دو دن بعد دھو لیتیں ۔ اچھا ایسا کرو چائے بنا کر پی لو تاکہ جسم کچھ گرم رہے ۔"

میں کہتی.. اماں! آپ کا دل چاہ رہا ہے تو بنا لوں... تو وہ کہتیں.. "ہاں میں بھی پی لوں گی تم بناؤ تو سہی" پھر ہم دونوں ساس بہو گرما گرم چائے سے شغل کرتے... اور جب کپڑے دھل جاتے اور میں نہا دھو کے ظہر کی نماز پڑھ رہی ہوتی تو کہتیں اب دو انڈے ابال کر کھا لینا... جسم میں طاقت اور گرمائش رہے گی ورنہ تھکن سے بیمار پڑ جاؤ گی... انہی یادوں میں ڈوبے ٹھنڈی ہوا میں کپڑے دھوتے کتنی بار جی چاہا جا کر چائے بنا لوں اچھی سی.... مگر پھر سوچتی چھوڑو.. بس کام مکمل کر لو پھر بیٹھ کر سکون سے چائے پی لینا ۔ ابھی ساسو ماں کی نرم گرم یادیں ہی کافی تھیں۔ اچھے لوگ ہمیشہ ہماری یادوں اور دعاؤں میں رہتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتیں اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہیں۔ میں کپڑے دھو کر فارغ ہوئی تو صفائی کی اور پھر نہانے چل دی. نہا کر ظہر کی نماز پڑھی تو بس کھانے کا وقت ہو گیا تھا ۔ کوئی نہیں تھا جو دوبارہ اصرار کرتا کہ چائے بنا لو... انڈے ابال کر کھا لو... چائے وہی اپنے وقت پر ملی شام کو... پھر رات کو گرم دودھ پینا بھی سستی کی نذر ہو گیا۔ بزرگوں کا وجود گھر میں اللہ کی نعمت ہوتا ہے۔ کیسے وہ ہمارا خیال رکھتے ہیں۔ ہر چھوٹی بڑی بات میں مشورہ دینا کوئی مشکل آن پڑے تو تسلی دینا.. بس ان کا وجود ہی کافی ہوتا ہے۔ مگر رشتوں کو جوڑ کر رکھنے اور بچانے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔

گھروں میں کچھ نہ کچھ نا خوشگوار واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں ایسے میں ذرا صبر سے کام لینا چاہیے۔ تھوڑی دیر کا صبر اور برداشت بڑے بڑے جھگڑوں کے سامنے بند باندھ دیتا ہے۔ کسی کی کڑوی بات سن کر نظر انداز کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں بن جاتا بلکہ اللہ کریم اس کی عزت بڑھا دیتا ہے ۔ ساسو ماں بھی کبھی کبھی مجھے ڈانٹ دیا کرتی تھیں... تو میں اس وقت خاموشی سے ان کی بات سن لیتی اور جب تھوڑی دیر بعد ان سے بات کرتی تو لہجے میں پچھلے واقعے کا شائبہ تک نہ ہوتا... اور وہ بھی سب کچھ بھول کر ایسے بات کرتیں جیسے میں نے تو کوئی کام بگاڑا ہی نہیں تھا۔ وہی مسکراہٹ اور خوش دلی چہرے سے عیاں ہوتی ۔ ناخوشگوار معاملات کو گھسیٹتے رہنا، بار بار زیر بحث لانا... ایک ایک سے شکوے شکایات کرنا.. اس سے ہمیشہ تعلقات بگڑتے ہیں۔ معاملہ بجائے سدھرنے کے اور خراب ہوتا جاتا ہے۔ سسرال میں اکثر ایسا ہوتا ہے کسی کی کوئی بات بری لگ گئی کسی کی کوئی... اب بجائے اس بات کی کھال اتارنے اور حق حساب لینے کے بہتر ہے کہ اسے سنی ان سنی کر دیا جائے ۔ مشہور مقولہ ہے "ایک چپ سو سکھ" یہ صبر والی ایک چپ آپ کو ہر جگہ باعزت بنا دیتی ہے ۔ کسی بات کی وضاحت ضروری ہو تو پھر کسی موقع پر بات کر دی جائے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے بھائی کی شادی کا موقع تھا، میں گھر گئی ہوئی تھی ملنے کے لیے.. امی کہنے لگیں کسی دن میرے ساتھ بازار چلو کچھ ضروری سامان لینا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے. دو دن بعد کا پروگرام طے کر لیا اور گھر آ کر ساسو ماں سے تذکرہ کیا کہ امی کے ساتھ بازار جانا ہے، وہ کہنے لگیں ٹھیک ہے چلی جانا ۔جب جانے کا وقت آیا تو امی آ گئیں مگر ساسو ماں اس وقت کسی کام سے باہر گئی ہوئی تھیں ۔ تھوڑی دیر تو انتظار کیا مگر پھر جیٹھانی کہنے لگیں تم چلی جاؤ، اجازت تو لے لی تھی نا اماں سے... اب خواہ مخواہ اپنا پروگرام لیٹ مت کرو ۔ مجھے بھی کچھ تسلی ہوئی کہ چلو پوچھ تو رکھا ہے۔بازار سے امی کے ساتھ گھر چلی گئی پھر شام کو میاں لینے آ گئے ۔اب جب گھر پہنچی تو اماں سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑی... تم مجھ سے پوچھے بغیر گئیں کیوں آخر...؟؟ خیر... میں اس وقت خاموش ہو گئی کہ ابھی میرا بولنا مناسب نہیں وہ غصے میں ہیں۔ دوسرے دن ناشتے کے بعد میں ان کے پاس بیٹھی پھر یاد دلایا... اماں کل آپ ناراض ہو رہی تھیں... آپ کو یاد نہیں شاید.. میں نے آپ سے پوچھا تو تھا اس دن جانے کے لیے!

ہاں اس دن پوچھا تھا نا کل تو نہیں پوچھا..."لیکن کیسے پوچھتی اماں! آپ تو گھر میں نہیں تھیں. میں نے ہلکے پھلکے لہجے میں جواب دیا تو بولیں تو میں نے ہمیشہ باہر رہنا تھا کیا؟ گھر میں واپس نہیں آنا تھا !!" مجھے ان کے انداز پر ہنسی آ گئی... اچھا اماں مجھ سے غلطی ہوئی۔ آئندہ دھیان رکھوں گی ان شاء اللہ!! اور معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔ ذرا ذرا سی بات دل میں رکھ کر کیا ملتا ہے بھلا.... ناگوار باتوں کو نظر انداز کر دینا ہی اچھا ہوتا ہے۔ اور ساسو ماں میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود تھی، جو بات ختم ہو گئی پھر اسے دوبارہ نہیں چھیڑنا ۔ رشتوں کو بچانے اور تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی ناگوار باتیں نظر انداز کرنی پڑتی ہیں اور بہترین ہے وہ شخص جسے یہ ہنر آ جائے ۔اس کے ساتھ ہی دعاؤں کے ذریعے اپنی زندگی کو خوب صورت بنایا جا سکتا ہے ۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا بہت ہی محبوب اور ہمیشہ معمول رہی... یہ اسی دعا کی برکت ہے کہ زندگی میں اتنی آسانیاں دیکھیں۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ وَ بَارِكْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ''۔

ترجمہ: اے اللہ !میرے گناہ بخش دیجیے، اور میرے گھر میں وسعت اور میرے رزق میں برکت عطا فرما دیجیے۔ووسع لی فی داری... سے نہ صرف آپ کے گھر یعنی دنیا میں وسعت ہوتی ہے بلکہ اس سے دل بھی وسیع ہو جاتے ہیں. قناعت کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے، تھوڑی چیز بھی بہت لگنے لگتی ہے ۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ گھر ہر طرح کی نعمتوں سے بھرے ہوتے ہیں مگر دیکھنے کا انداز یہ ہوتا ہے کہ نظر کچھ نہیں آتا.. ہمارے پاس تو کچھ نہیں ایک ایک چیز کو ترس رہے ہیں.. ابھی تو یہ نہیں اور وہ نہیں.. کپڑوں سے الماریاں بھری ہوتی ہیں، ضروریات زندگی کی ریل پیل ہوتی ہے مگر شکوے اپنی جگہ...اس دعا کی برکت سے دل میں ایسی وسعت پیدا ہوتی ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ خالی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں بلکہ آپ کے دل میں بھی ایسی وسعت و کشادگی پیدا کر دیتے ہیں کہ جو تھوڑا بہت میسر ہو وہ بھی بہت کافی لگتا ہے اور دل ہر وقت اللہ کے حضور شکر گزار رہتا ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */