سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعے کی ضرورت - یاسر اسعد

اللہ رب العالمین نے جب اپنے آخری نبی ورسول کو اپنی آخری کتاب دے کر مبعوث کیا تو اس کے سارے پیغامات وحی کو محفوظ کرنے کی ذمہ داری بھی لے لی، جیساکہ قرآن حکیم میں ارشاد باری ہے : ((بے شک ہم نے ہی ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی بلاشبہ اس کی حفاظت کرنے والے ہیں)) اس آیت کریمہ کے بموجب اللہ کے وہ سارے پیغامات جو رسول اکرم ﷺ کی وساطت سے مسلمانوں تک پہنچے ان کی حفاظت کا کام بہت شاندار طریقے سے انجام پاتا گیا، علماء ومحدثین کرام کی بدولت اس سلسلے میں کئی نئے علوم ظہور پذیر ہوئے اور سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں راویان حدیث کا بایو ڈاٹا بھی اکٹھا کرکے کتابوں میں محفوظ کرلیا گیا تاکہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز کی جاسکے۔ اس کی نظیر کسی اور مذہب یا تحریک میں نہیں ملتی۔

چونکہ اس اعلیٰ پیغام کے پیغامبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی تھی، اور قرآن کریم میں سب کے لیے اس ذات مقدس کو اسوہ ونمونہ بتایا گیا ہے اس لیے آپ کے اقوال وفرمودات کے شانہ بشانہ آپ کی حیات مبارکہ کے ہر گوشے کو بھی قید تحریر میں لانے کا انتظام کیا جاتا رہا۔ سیرت نگاروں نے اپنی شیفتگی اور والہانہ تگ ودو سے آں حضرت سے متعلق ہر ناحیے سے اتنی معلومات جمع کرلی کہ ہر گوشے پر مستقل کتابیں منصہ ظہور پر آئیں۔ عموماً کسی شخصیت کے سیرت نگار اس کے خاندان، نام ونسب، وطن، تعلیم، عملی زندگی وغیرہ کو زیر بحث لاتے ہیں، مزید اضافہ کریں تو خال خال شخصیات کی شخصیت سازی کے عوامل پر بھی خامہ فرسائی کرتے ہیں، ایسا اس وقت ہوتا ہے جب مراجع کی کثرت اور معلومات کی وفرت ہو، مگر جب آپ امام الانبیاء کی کتب سیرت پر نظر دوڑائیں گے تو ششدر رہ جائیں گے کہ یہ علم سیرت کس قدر وسیع کینوس رکھتا ہے اور اس میں حیات نبوی کے کتنے رنگ آجاتے ہیں۔ایک درجن سے زائد صحابہ کرام نے آں حضرت کا حلیہ مبارک بیان کیا ہے، بعض نے تو اس قدر تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ کئی صفحات کو محیط ہے۔ یہ شمائل کا شعبہ ہے جس میں آپ کے اخلاق وعادات کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ صرف اس موضوع پر عربی زبان میں سو سے زائد کتابیں ہیں، امام ترمذی کی شمائل اولیت رکھتی ہے، او ر دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

سیرت وحدیث کا ایک جزو حدیث مسلسل ہے۔ یعنی اللہ کے نبی ﷺ بعض اوقات کسی بات کو مخصوص حرکات وسکنات کے ساتھ ارشاد فرمایا کرتے تھے، مثلا ایک بات کو تشبیک (یعنی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پروکر) کے ساتھ فرمایا، یا ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے صراط مستقیم اور شیطان کی راہوں کو ریت پر نقش بنا کر مثال کے ذریعے واضح کیا۔ اب حدیث روایت کرنے والے اصحاب کی محبت دیکھیے کہ ہر ایک راوی نے اپنے شاگرد سے ہوبہو اسی طرز پر وہ حدیث سنائی۔ اور یہ سلسلہ آج تک قائم ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے اوصاف کو چھوڑیے، آپ کے جسم اطہر پر سجنے والے لباس، آپ کی انگوٹھی، آپ کے جوتے ہر تفصیل کو محفوظ کیا گیا ہے، صرف آپ کے جوتوں کے وصف پر پچاس سے زائد کتابیں موجود ہیں، جن میں اردو کی کتابیں بھی ہیں۔آپ جن مقامات پر تشریف لے گئے ان کی تفصیلات، جن سواریوں کو استعمال کیا ان کا تذکرہ، آپ کی باتوں میں جو مثالیں ہوتی تھیں ان کو علیحدہ کرکے ان پر کتابیں، آپ کے فیصلے، انتظام وانصرام کی لاثانی صلاحیت، زبان وادب کے ناحیے سے سب پر فوقیت، آپ کے اقوال کا ادبی لحاظ سے جائزہ، آپ کے خطبات، مکاتیب، آپ پر لکھی گئی نظمیں، دلائل نبوت، آپ کی سیرت کے مصادر، غرض ہر موضوع پر طویل عرصے سے لکھا جارہا ہے اور اب تک جاری ہے۔ یہ امتیاز کسی اور پیغمبر کو حاصل نہیں۔

دیگر ادیان ومذاہب کے بانیان کو دیکھیں تو سیرت نبوی کے مقابلے ان کی سیرت کا ایک پرسنٹ حصہ بھی موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کی حیات کی تفصیلیں اس طرح مرتب کی گئی ہیں، ان کے سیرت نگاروںکے سامنے سب سے بڑا مسئلہ قلت معلومات کا ہے، پھر اس میں صحیح اور سقیم کا مسئلہ الگ۔ اسی سبب بعض مغربی شخصیات حضرت عیسیٰ وموسیٰ علیہما السلام کے وجود کا ہی سرے سے انکار کردیتی ہیں، جبکہ ہمارے نبی ﷺ پر اس قدر معلومات یکجا ہیں کہ بلا شبہ آپ ان کو زندگی کے ہر میدان میں رول ماڈل بناسکتے ہیں۔ آج تک کسی دشمن اسلام کی ہمت بھی نہ ہوئی کہ آپ کی شخصیت کو خیالی قرار دے۔

عصر حاضر میں سیرت کے وسیع مفہوم سے غیر مسلموں کو واقف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ یورپی ممالک میں اس پر کام ہورہے ہیں، ہمارے اداروں کو بھی اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سیرت نبی ﷺ کو جس قدر عام کیا جائے گا اس قدر لوگوں کے دلوںمیں نبی اکرم ﷺ کا احترام پیدا ہوگا، گستاخی کے واقعات پر قدغن لگے گی۔ اعدائے اسلام بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے نبی کی سیرت اس قدر صاف وشفاف ہے کہ اس پر انگشت نمائی نہیں ہوسکتی، اس لیے وہ کبھی کارٹون بناکر تو کبھی قلب وجگر کو مجروح کرنے والے دوسرے ذرائع سے زہر افشانیاں کرتے رہتے ہیں، ان کے دعوے نہیں ہوتے، صرف بدزبانیاں اور سب وشتم ہوتے ہیں، جن کے خلاف خود انصاف پسند غیر مسلم بھی ہوتے ہیں۔

[مضمون ’محاضرات سیرت‘ از ڈاکٹر محمود احمد غازی کے بعض مباحث کا خلاصہ ہے]

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */