میڈیکل طلباء کی مشکلات - کنورمزمل رشید

اس سال کے آغاز سے ہی مشکلات تھم نہیں رہی ہیں۔ہر لمحہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔کورونا کی وباء نے ہر ذی نفس کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔مگر ایسے حالات میں ملک کا اہم ترین اور سب سے بنیادی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جس کی طرف کسی کی کوئی نظر نہیں۔جی بالکل میں طلباء کی بات کر رہا ہوں۔جب وباء کے آ غاز میں امتحانات مؤخر کر دئیے گئے تو طلباء میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔مگر سب اس بات سے بے خبر تھے کہ ایک بہت بڑا امتحان سر پر آ گیا ہے۔طلباء نے 6 ماہ تک چھٹیوں میں اپنا وقت گزارا۔اس کے بعد کچھ حالات نامل ہوۓ ہی تھے کہ اب پھر سے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ایسے میں طلباء کی مشکلات کا اندازہ لگانا بہت آسان ہو گیا ہے۔

جامعات میں داخلے کھلے اور کچھ میں کلاسز کا آغاز بھی ہوا مگر میڈیکل طلباء کا انٹری ٹیسٹ ہی نہ ہو پایا ۔یاد رہے کہ میڈیکل فیلڈ میں طلباء کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ پچھلے امتحانات میں ناکام ہوۓ طلباء بھی دوبارہ سے قسمت آزمائی کرتے ہیں۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ ظلباء کی ایک کثیر تعداد اس وقت بے یار و مددگار پڑی ہے۔پہلے تو یو۔ایچ۔ایس میڈیکل انٹری ٹیست لیتا تھا مگر بعد میں یہ ذمہ داری ایک نئے ادارے کو دے دی گئی۔پی۔ایم۔سی نے آتے ہی طلباء کے لیے نئے نصاب اور طرز امتحان کا اعلان کر دیا۔جس سے طلباء کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔اب حالات یہ ہیں کہ اکیلے پنجاب میں ایک لاکھ کے قریب طلباء پی۔ایم۔سی کے رحم و کرم پر ہیں۔ایک طرف تو اکثر جامعات میں نئے سال کا آغاز ہو گیا ہے تو وہیں دوسری طرف میڈیکل کے طلباء کا ٹیسٹ بھی نہیں ہو پایا۔

یہی نہیں بلکہ مزید یہ کہ آۓ روز تاریخ میں رد و بدل کیا جا رہا ہے۔طلباء اس وقت ایک ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں۔نہ کوئی مستقبل نظر آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا آپشن ہے۔ملک کے کل سرماۓ کو ان حالات میں مقید رکھنا ایک بہت بڑا جرم ہے۔جس سے طلباء بہت زیادہ بد دل ہو گئے ہیں۔جو کہ نہایت افسوس ناک حالت ہے۔پاکستان میں ٹک ٹاک جیسے موضوع پر بات کرنے کے لیے سب کے پاس بہت وقت ہے مگر اس قدر سنجیدہ معاملے پر بات کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی وقت نہیں۔نہ ہی وزراء اس کو سینجیدگی سے کام لے رہے ہیں اور نہ اب جامعات۔جس سے طلباء پس کر رہ گئے ہیں۔یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے جس کو جتنی جلدی حل کیا جاۓ اچھا ہے۔ورنہ یہ بھی ایک وباء کی شکل اختیار کر لے گا۔جب ٹک ٹاک کو بند کر کے دوبارہ کھولا گیا تو دلیل دی گئی کہ اگر جسم کا ایک حصہ خراب ہو تو اس کو کاٹ نہیں دیا جات۔جبکہ تعلیم جیسے موضوع پر نہ کوئی دلیل،نہ کوئی منطق اور نہ ہی کوئی عمل و رد عمل۔خدارا اہل اختیا سے درخواست ہے کہ کوئی جلد اقدامات اٹھاۓ جائیں۔تا کہ قوم کے ہوۓ نقصان کا ازالہ ہو سکے۔کورونا کی وباء میں اگر تعلیمی اداروں کو کھولے رکھنا ممکن نہیں تو ان کو مہینوں تک بند رکھنا کون سا انصاف ہے؟کم از کم کوئی مناسب متبادل بھی تو ہونا چاہیے ۔لیکن نہیں،مستقبل جاۓ بھاڑ میں۔طلباء ہمارے احکام کا انتظار کریں اور ہم بیٹھے ایوانوں میں فیصلوں پر غور کرتے رہیں گے۔یہ جب حالات ہوں تو شنوائی کی کیا توقع رکھی جاۓ؟

میں تو حیران ہوں کہ کس قدر خاموشی اور بے دلی سے اتنے زیادہ طلباء کے پورے ایک سال کو کھا لیا گیا ہے۔یہ کس قدر گھناؤنا عمل ہے آنے والا وقت خود ہی بتا دے گا۔مگر اس وقت سب سے پہلے امتحانات لیے جائیں یہ اہم ہے تا کہ مستقبل کے ڈاکٹروں کو آج فقیر نہ بننا پڑے۔طلباء کی آواز کو سنا جاۓ اور ان کے جائز مطالبات کو مد نظر رکھتے ہوۓ ان کا جلد از جلد ازالہ کیا جاۓ۔
اپنے ساتھیوں کے کہنے پر پہلے بھی تعلیم کے متعلق ایک بلاگ لکھ چکا ہوں۔اس دفعہ پھر جب لڑکوں نے بہت اصرار کیا تو یہ بلاگ لکھنے پر مجبور ہوں۔ہمارا مستقبل ہمارے طلباء سے ہی ہے اور طلباء خطرے میں ہیں۔لہٰذا،اگلی بات کو سمجھنا مشکل نہیں۔اگر ایک ملک میں بیک وقت جلسے جلوس ہو سکتے ہیں،باقی فیلڈز کے امتحانات ہو سکتے ہیں،مذمتی مارچ ہو سکتے ہیں تو ایک میڈیکل کے امتحان کے لیے ہی ساری مشکلات کیوں سامنے آ گئی ہیں؟خدارا اس مسئلے کے حل پر غور کیا جاۓ۔محترم وزراء کم از کم تعلیم جیسے شعبے سے تو مت کھیلیں۔زبردست اپیل ہے کہ طلباء کے مسائل کو جلد از جلد حل کیا جاۓ۔تاکہ میڈیکل کے طلباء کو بھی کچھ سکون کا وقت مل جاۓ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */