ذمہ دار کون - رومانہ گوندل

اسلام سے پہلے کا دور جس کو ہم زمانہ جہالیت کہتے ہیں اس میں کئی اور برائیو ں کے ساتھ ایک بڑی خامی عورتوں کے حقوق کی پامالی تھی ۔ عربوں میں رواج تھا کہ وہ بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا کرتے تھے۔ اسلام نے آ کے عورتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ۔ان کو وہ با عزت مقام دیا جس کی مثال کسی مذہب ،کسی معاشرے میں نہیں ملتی ۔لیکن وقت گزرتا گیا اور باقی تعلیمات کی طرح لوگ اس کو بھی بھول گئے اور اس وقت مسلمانوں پہ کی جانے والی تنقید پہ سب سے بڑی بات عورتوں کے حقوق کی پامالی ہے۔ وہ مذہب جو انسانوں کے حقوق کا علمبردار تھا ۔ آج مسلمانوں کی ذہینت کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن گیا ہے ۔

خاص طور پہ برصیغر کے مسلمان ، ہندو ایک ساتھ صدیوں تک رہے جس کی وجہ سے مسلمانوں نے کئی رواج ہندئووں سے لے لیے۔ ان میں سے ایک عورت کو کمتر جاننا بھی ہے۔ ہندو کلچر کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے کا سنگین مسئلہ بن گئی ہے جس کو حل کا نعرہ لے کر مغربی کلچر کے ماننے والے نکلے ، اور اس کو منافع بخش کاروبار بنا لیا۔ این جی اوز کی شکل میں دوسروں کی کہانی کو اچھالتے ہیں جس پہ میڈیا مرچ مصالحہ لگا کے پیش کرتا ہے ۔ میڈیا اور این جی اوز کے کاروبار ایسے معاشرے میں چل ہی جاتے ہیں جہاں قانون مجرموں کے ہاتھ میں کھیلتا ہو، قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرم کو بچانے کے لیے مظلوم کا تماشا بنا دیتے ہوں ۔ ایسے معاشرے میں افرا تفری کا پھیل جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی۔

شہر میں جو کرتا تھا سانپ کے کاٹے کا علاج

اسکے تہہ خانے سے سانپوں کے ٹھکانے نکلے

جس ملک ، جس معاشرے کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی ۔ وہاں سب کچھ نظر آتا ہے سوائے اس کلمے کی جھلک کے۔ ہم بٹے ہوئے ہیں مذہب کے نام پہ فرقوں میں ، معاشرے کے نام پہ ذات پات اور برداریوں پہ ، جنس کے نام پہ عورت اور مرد میں ۔ ان تقسیموں نے معاشرے میں عجیب افراتفری اور بے حسی پھیلا دی ہے ۔ کوئی صیحح اور غلط پہ بات ہی نہیں کرتا بلکہ ہر کوئی اپنے فرقے ، برداری اور جنس کی طرفداری کرتا ہے۔ ان سب سے خود احتسابی کے بجائے تنقید کا ما حول بنا دیا ہے۔ کتنے واقعات ہو گئے اور انجام کیا ہوتا ہے۔ عورتیں معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار مردوں کو ٹھہرا دیتی ہیں اور مرد ہر الزام عورت کو دیتا ہے۔ مردوں کا کہنا ہے کہ عورت پردہ کر کے نہیں نکلتی اس لیے برائیاں پھیل رہی ہیں اور عورتوں کا کہنا ہے کہ مرد کو اپنی نظر پہ قابو رکھنا چاہیے ۔ جیسے اللہ نے یہ فیصلہ انسانوں کے ہاتھ میں دے دیا ہو کہ اپنی عقل سے طے کریں کہ ذمہ دار کون ہے ؟ عورت کی بے پردگی یا مرد کی بد نظری۔ اللہ تعالی نے ایک ہی آیت میں دونوں کو حکم دے دیا ہے جس میں کسی بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

اس ساری صورت حال میں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ کسی انسان کا عمل دوسرے سے مشروط نہیں ہو تا ۔ اس لیے کوئی بھی د لیل انسان کو اس کے اپنے عمل سے آزاد نہیں کر سکتی ۔ نہ ہی حل کسی ایک پہ پابندی لگانا ہے۔ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو نا قابل تردید حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے سارے مرد فرشتے ہو جائیں تو بھی عورت کو پردہ کرنا ہے اور ساری عورتیں پردہ کر لیں یا بے لباس ہو جائیں ، کوئی بھی صورت مرد کو نظر جھکانے کے فرض سے آزاد نہیں کر سکتی ۔ ہم سب اپنے عمل اور اپنی غلطیوں کے ذ مہ دار ہیں ۔ ایسی بحث حالات کو مزید خراب کرکے انسانوں کو ان کے مقا م سے گرا رہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */