یادگارِ اسلاف ، جمیل العلماء حضرت علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی ضیائی رحمۃ اللہ علیہ - محمد ریاض علیمی

یاد گارِ اسلاف حضرت علامہ مفتی جمیل احمد نعیمی رحمۃ اللہ علیہ 12فروری 1936 ء کو بھارت کی سرزمین انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ نے چار سال کی عمر میں تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور ناظرہ قرآن پاک پانی پت کے مشہور قاری استاذ القراء حضرت علامہ قاری محمد اسماعیل صاحب سے پڑھا۔ دنیوی تعلیم پرائمری تک ہندوستان میں ہی حاصل کی۔ دینی تعلیم میں آپ نے ابتدائی کتب میں حضرت علامہ مولانا محمد وارث چشتی ، حضرت علامہ مسعود احمد چشتی، علامہ قاضی محمد زین العابدین نقشبندی، علامہ محمد ارشاد صاحب رحمہم اللہ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔بعدازاں تاج العلماء حضرت علامہ مفتی عمر نعیمی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں زانوئے تلمذ طے کیے۔آپ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے نامور خلیفہ قطبِ مدینہ حضرت ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پر بیعت ہوئے ۔ نیز آپ کو آپ کے سسر مولانا مسعود احمد چشتی علیہ الرحمہ نے بھی خلافت سے سرفراز فرمایا تھا۔

آپ کا شمار دارالعلوم نعیمیہ کے بانی ارکان میں بھی ہوتا ہے۔آپ نے دارالعلوم نعیمیہ میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ آخری دم تک دارالعلوم نعیمیہ میں استاذ الحدیث اور ناظم تعلیمات کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ آپ علیہ الرحمہ عالم باعمل، منکسر المزاج اور متانت و سنجیدگی کے پیکر تھے۔ آپ خاموش طبیعت کے حامل تھے۔ مستقل مزاج عالمِ دین تھے۔آپ قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جمعیت علماء پاکستان کے پر چم تلے بھر پور انداز میں سرگرم رہے۔جماعت اہلسنت ہو یا انجمن طلبائے اسلام، آپ نے ہر پلیٹ فارم پر اہلسنت کی بھر پور نمائندگی فرمائی ۔ آپ نے اپنی پوری عمر درس و تدریس اور مبلغ کی حیثیت سے گزاری، آپ نے قائدِ ملت اسلامیہ حضرت علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پچاس سال گزارے اور ہر موقع اور ہر طرح کے حالات میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔

آپ پوری زندگی اتحاد اہلسنت کی کوشش کرتے رہے۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اہل سنت کے نام میرا یہی پیغام ہے کہ ہماری زندگی کی بقاء اور نشوونما اتحاد میں مضمر ہے جو شاخ جڑ سے وابستہ رہتی ہے تو ہری بھری رہتی ہے اور جب جڑ سے تعلق ختم ہوجائے تو شاخ مرجھا جاتی ہے۔ آپ کے علم وفضل کی شہرت شرق و غرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہزاروں تشنگانِ علم و فیض آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر علم کی پیاس بجھاتے رہے ہیں۔دارالعلوم نعیمیہ کراچی میں آپ کے دفتر میں علماء و طلباء کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اکثر اہل علم و دانش آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے اور دست بوسی کے لیے اتوار کے دن ادارے میں حاضر ہواکرتے تھے۔ آپ ہر آنے والے خاص و عام کو اپنا مہمان سمجھ کر حسبِ توفیق خاطر تواضع کیا کرتے تھے۔ مہمانوں کو کتب و رسائل کے تحائف دیاکرتے تھے۔ یہ آپ کی عادتِ کریمہ تھی کہ کبھی کسی آنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا ۔ جب دینے کے لیے کوئی رسالہ یا کتاب نہیں ہوتی تو اپنی جیب سے عطر نکال کر اس کے ہاتھوں میں مل دیتے اور دعائیں دیتے ہوئے رخصت کرتے۔ آپ اپنے اس اندازِ کریمانہ اور مشفقانہ رویے کی وجہ سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کے محبوب تھے۔ آپ علیہ الرحمہ کی محبتوں اور شفقتوں کی محرومی عرصہ دراز تک محسوس کی جائے گی۔

آپ بے شمار کمالات و صلاحیات سے مالا مال تھے۔ بردباری آپ کی عادت تھی، کرم نوازی آپ کا شعار تھا، حسنِ اخلاق کے پیکر تھے، شفقت و محبت، رہنمائی و بے نیازی، عجز و انکساری، سادگی و اصاغر نوازی آپ کی ذات کا دوسرا نام تھا۔ آپ ظاہری تصنع و بناوٹ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے تھے۔ انتہائی سادہ مزاج تھے۔ سادگی پسند تھے۔اصاغر نوازی کے ساتھ اکابرین کے احترام میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ بزرگوں کے ادب کا عالم یہ تھا کہ کسی بھی بزرگ کا نام بغیر القابات کے نہیں لیتے تھے۔ بزرگوں کا مکمل نام لینا آپ کی گفتگو کا لازمی جزو تھا۔آپ قوی الحافظہ تھے۔ مذہبی وقومی شخصیات کا انسائیکلوپیڈیا تھے ۔ جب اہلسنت کے کسی عالم کا تذکرہ چھیڑتے تو ان کے آباء ا وجداد، خاندان ، اساتذہ اور شاگردوں کا تذکرہ بھی خوبصورت موتیوں کی لڑی بنتا چلا جاتا۔گویا کہ اکابرینِ اہلسنت کے حالات و واقعات آپ کو ازبر تھے۔ آپ اپنے شاگردوں اور چاہنے والوں سے بھی یہ توقع رکھتے تھے کہ اکابرینِ اہلسنت کی حیات وخدمات کو پڑھیں اور جن کے حالات ترتیب نہیں دیے گئے انہیں تحقیق کے بعد منظرِ عام پر لائیں۔ آپ اہلِ قلم کی بے حد عزت فرماتے تھے۔ ان کی تحریروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔ لکھنے والوں کو نئے نئے موضوعات پر قلم آزمائی کی ترغیب دلاتے تھے۔

آپ کی ترغیب و تحریص نے اہلسنت میں متعدد قلم کار پیدا کیے۔ آپ اہلِ قلم کی کاوشوں کو کتب و رسائل کی صورت میں اشاعت کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی اصاغر نوازی کا عالم یہ تھا کہ طلبہ اور نوجوانوں کو ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دیتے تھے۔ راقم خودزمانہ طالبِ علمی میں جب اپنے استاد محترم مفتی محمد عبداللہ نورانی کے ہمراہ پہلی مرتبہ حضرت کی خدمت میں اپنی پہلی تالیف لے کر حاضر ہوا تو حضرت جمیلِ ملت نے انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازااور تصنیف و تالیف کے سلسلے کو جاری رکھنے کی ترغیب دلائی۔حضرت والا نے نہ صرف دعاوں سے نوازا بلکہ راقم کی تالیف کو اتنا پسند فرمایا کہ اسی وقت پچاس کتابوں کی رقم جیب سے نکال کر تھمادی اور فرمایا کہ پچاس نسخے مجھے بھجوادیں ، میں یہاں رکھ لوں گا اور جو اہل علم یہاں تشریف لاتے رہیں گے ‘ اُن کی خدمت میں پیش کرتارہوں گا۔ بہرحال اہلِ علم و دانش اور محبین آپ کی شفقتوں کومحبتوں کو اپنے اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی رحلت سے اہلسنت میں بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے۔ آپ ایک یادگار جہد مسلسل تحریکی علمی فکری زندگی گزار کر طویل علالت کے بعد شبِ بدھ بتاریخ 17نومبر 2020ء کو دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ اللہ کریم آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی خدماتِ دینیہ کو شرف قبولیت عطافرمائے۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */