جسمانی نشونما کے لیے الخدمت کا سالانہ فن گالا - محمد ناصرصدیقی

تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے کھیل بچوں خاص طورپران طلبہ و طالبات کے لیے ضروری ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں۔ بچے فطری طور پر کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں، جس سے اُن کے اعضائے جسمانی کی ورزش ہوتی رہتی ہے، جو اُن کی بہتر نشوونما کا پیش خیمہ بنتی ہے۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ہے ضروری علم بھی اور کھیل بھی نہ ہونا ان دونوں سے غافل کبھی ،وقت پڑھنے کا جب آئے پڑھو خوب کھیلو کھیل کا جب وقت ہو،تیز ہو جاتے ہیں بچے کھیل سے جس طرح گاڑی کے پہیے تیل سے ۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کی مشین دیکھنا چاہتے ہیں بس گریڈ اچھا مل جائے۔

طالب علم جب تک جسمانی طور پر فٹ نہیں ہوگا اس وقت تک وہ بہتر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ جسم کو فٹ رکھنے کے لیے ورزش بے حد ضروری ہے اور جسمانی ورزش کا تعلق بالواسطہ یابلا واسطہ کھیلوں سے ہی ہوتا ہے۔ جس طرح نصابی تعلیم ذہنی صلاحیتیں اور بہتر کردارپروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اسی طرح کھیل کود بجوں میں نظم ونسق، احساس ذمے داری اور قائدانہ صلاحیتوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہے۔ دین اسلام بھی ہمیں مثبت تفریح اور کھیل کی اجازت دیتا ہے تاکہ انسان جسمانی اور ذہنی طورپر صحت مند رہے .الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ملک بھر میں14ہزار سے زاید بچوں کی ان کے گھروں پر کفالت کررہی ہے ، معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کھیل کود اور تفریح کا اہتمام بھی کرتی ہے ۔وقتاً فوقتاً ذہنی و جسمانی نشو نما کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا انعقادکرایاجاتاہے ۔ بچوں میں مثبت سوچ، اچھی عادات،اخلاقی قدریں اجاگر کرنے کے لیے اچھاماحول فراہم کیاجاتاہے، بچوں کو بتایا جاتاہے ایمانداری اور تعلیم ہی سے انسان کی حقیقی عزت ہوتی ہے،گھر کے قریب ترین مطالعہ سینٹر میں بلایا جاتاہے ۔ تمام بچوں کا سال میں ایک مرتبہ مکمل طبی معائنہ کرکے ہیلتھ کارڈ بنایا جاتاہے جس کے ذریعے معالج کو علاج کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔بچے کی والدہ اگر کوئی کام سیکھنا چاہتی ہیں یا گھر میں کوئی کام کرنا چاہتی ہیں تو الخدمت ٹرینگ سینٹر کے اخراجات اور قرضی حسنہ بھی دیاجاتاہے۔

ان تمام ہم سرگرمیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ یہ یتیم اور بے سہارا بجے معاشرے میں احساس کمتری کا شکار نہ ہوں بلکہ آگے بڑھ کر معاشرے لیے مفید شہری ثابت ہوں ،ڈاکٹر،انجینئر،عالم اور بیورو کریٹ بن کر ملک و قوم کی خدمت کرسکیں ۔ الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے زیر کفالت 851بچوں کے لیے سالانا فن گالا کا اہتمام کیا جاتاہے،جن میں 8 سال سے بڑے بچوں کو ان کے ورثا کی اجازت سے کراچی کے معروف فارم ہاؤس ڈریم ورلڈریزورٹ کی ہر سال سیر کرائی جاتی ہے،بچوں کومختلف اضلاع سے بسوں میں لایا جاتاہے ، طویل سفر کے باوجود بچے فن گالا پروگرام میں ہشاش بشاش رہتے ہیں ،بچوں کے مختلف گروپ بنا کر انہیں میں سے ایک نگران مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان میں تنظیم سازی ،نظم و ضبط اور لیڈر شپ کی خصوصیت پیدا ہوں۔

رواں سال بھی بچوں کے لیے فن گالا کا اہتمام کیا گیاجہاں بچوں کے لیے مختلف تربیتی سرگرمیاں کروائی گئیں ،بچوں نے تیراکی میں بھر پور حصہ لیا ، تیراکی طبی نقطہ نگاہ سے یقیناًعمدہ ورزش ہے ،بچوں نے ڈبکیاں لگا ئیں،سلائڈنگ کرکے بچوں نے سیکھا اپنے اعصاب پر کیسے قابو پایا جاتاہے ، ڈریم ورلڈریزورٹ میں اعلیٰ نسل گھوڑے اور بگھیاں بھی دستیاب تھیں ،گھوڑوں پر سوارہوکر بچوں نے اپنی شان بڑھائی اور مختلف جھولوں سے لطف اندوز ہوئے ،اس دور ان ہری بھری چٹانوں کے درمیان خوبصورت راہداریوں میں دوڑ کر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ۔ ان مصروفیات سے بچوں کو اپنی قوت،لچک،پھرتی اور توازن کو جانچنے کا موقع ملا۔ سالانہ فن گالا پروگرام میں ملک کی معروف شخصیت کرکٹر شاہد آفریدی اورشہر کراچی کی معزز شخصیات ،صحافیوں ، بلاگرز ، الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے ذمے داران نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا۔ تمام بچوں کا ڈریم ورلڈ پہنچنے پر میڈیکل چیک اپ کیا گیا اور ساتھ ساتھ ہاتھ دھونے کے کی مشق کروائی گئی ،شاہد آفریدی نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کوشیلڈ پیش کیں ، بچوں کے ساتھ فرداً فرداً گروپ فوٹو بنوائے ، لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور بچوں کو باؤلنگ اور بیٹنگ کرکے دکھائی اور اس کھیل سے متعلق کچھ خاص بتاتیں بھی بتائیں ۔

اس موقع پر سینیٹر امام الدین شوقین نے وڈیو لنک کے ذریعے بچوں کو پیغام دیا کہ آج اس پرو گرام میں آپ کے درمیان ہوتا تو مجھے بہت خوشی ہوتی، میں الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آپکے لیے عظیم الشان پروگرام کا انعقاد کیا۔پیارے بچواللہ تعالیٰ نے الخدمت کی صورت میں ایک ایسا ادارہ عطا کیا ہے جو آپ کی سرپرستی کررہا ہے ، کتابوں کی صورت میں،راشن کے ذریعے،آپ کو اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرنے میں مدد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیارے بچوں دنیا میں کسی بھی مقام پر پہنچنے کے لیے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے،قائد اعظم کے فرمان محنت ، ایمان ، اتحاد اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں ، مجھے امیدہے آپ دل لگاکر پڑھیں گے،اپنے اساتذہ کی تکریم کریں ، اپنے بڑوں کا ادب کریں ، محنت سے اپنا مقام حاصل کرکے ملک و قوم کے لیے عظیم سرمایہ ثابت ہوں ۔

تقریب کے مہمان خصوصی شاہد آفریدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیارے بچو میں صرف آپ کی وجہ سے اپنی مصروفیت ترک کرکے خصوصی طورپر اسلام آباد سے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے بچوں سے کہا کہ میں جب آپ کی عمر میں تھا میں کرکٹر بننے کا خواب دیکھا کرتا تھا مجھے ہروقت کرکٹر بننے کی دھن تھی ، اس کے لیے میں بھر پور محنت کرتا تھا۔ پیارے بچوں آپ کا بھی کوئی بڑا خواب دیکھنا چاہیے ، آپ سوچیں آپ کی دلچسپی کس شعبے میں ہے اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے محنت کریں ،جو پیشہ آپ اپنانا چاہتے ہیں اس سے عشق کریں۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو موقع دیتا ہےوہ سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے چاہیے وہ غریب یا امیر ، کالا ہو یا گورا ، لیکن یہ آپ پر منحصر ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو موقع فراہم کررہاہے اسے حاصل کرنے کی جستجو کریں۔آپ میں سے بھی بہت سے بچے سائنسدان ، ڈاکٹر، انجینئر ،سیاستدان، کرکٹر بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت بہت قیمتی ہے بہت تیزی سے گزار جاتا ہے ،اس زمانے میں تو وقت میں برکت ہی نہیں ہے ، لہٰذا کوشش کریں کسی بھی صورت آپ کا وقت ضائع نہ ہو،اپنے وقت کا شیڈول بنائیں ۔

انہوں نے بچیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ پڑھیں گی تو ہمارا معاشرہ آگے بڑھے گا ، ایک عور ت ہی معاشرے کو سدھار سکتی ہے ،پاکستان کی ترقی میں آپ کا کردار نمایاں ہے۔انہوں نے افسو س کا اظہار کیا وطن عزیز میں ڈھائی کروڑ بچے اور بچیاں اسکول سے باہر ہیں ، الخدمت کے ذمے داران آپ کے والدین کی طرح ہیں آپ نے ان کی عزت کرنی ہے یہ آپ کوخوراک کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم دینا چاہتے ہیں ۔ الخدمت کفالت یتامیٰ ، تعلیم، صحت، بلا سود قرض، ہنگامی اور قدرتی آفات میں فوری امداد اور سماجی خدمات دیگر شعبوں میں نمایاں کام کررہی ہے ، ان تمام شعبوں میں کفالت یتامیٰ پروگرام اس لیے اعلیٰ ہے اس میں غریب بچوں کو تعلیم ، ہم نصابی سرگرمیوں ، سیر و فریح ، مطالعے کے شوق کے ذریعے آگے بڑھنے اور معاشرے میں اپنا مقام بنانے کے مواقع مہیا کیے جارہے ہیں ،میں الخدمت کے آغوش ہوم کے دورےکیے پروگرام میں شرکت کی ،وہاں جو بچوں کو سہولیات میسر ہیں وہ امیر والدین کے بچوں بھی عام اسکولوں یا اسٹل میں میسر نہیں ہے ، میری خواہش ہوتی ہے کہ الخدمت کے پروجیکٹ میں اپنے حصے کا کام کروں۔

صدر الخدمت سندھ ڈاکٹر سید تبسم جعفری نے اس موقع پر کہا کہ دین اسلام میں بچوں کی تربیت اور نگہداشت پر بہت اہمیت دی گئی ہے۔سیر و تفریح بچوں کا حق ہے اور ان کی جسمانی اورذہنی نشوونما کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ بچوں کے لیے صحت مندانہ اورموزوں تفریح والدین اوراساتذہ کی ذمے داری ہے۔الخدمت یتیم بچوں کوتعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف ہم نصابی سرگرمیوںمیں مصروف رکھتی ہے، اس کی زندہ مثال فن گالا میں اندرون سندھ کے دور دراز مقامات آئے بچوں کی شرکت ہے۔یہاں بچے معروف کرکٹر شاہد آفریدی سمیت مختلف شخصیات سے ملے ،شخصیات نے انہیں اچھی اچھی نصیحتیں کیں بلکہ ان میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرکے اپنی بات کہنے اور سوال کا جواب دینے کی جھجک ختم ہوئی ،یہاں جن چیزوں سے بچے لطف اندوز ہوئے وہ یقیناًان کے اپنے علاقوں میں میسر نہیں ہو سکتیں یہاں تک کہ کراچی شہر اکثر بچے بھی ایسی تفریح سے محروم ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے ساتھ ان کی جسمانی ذہنی قوت بڑھانے کی ضرورت ہے ،صحت مند ذہن اور صحت مند جسم والے نوجوان ہی معاشرے میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے کے قابل ہوتے ہیں اس لیے الخدمت کے ایف ایس اوز اور بچوں کے سرپرست پر لازم ہےکہ بامقصد، جسمانی مشقت والے کھیل کودکی بچوں کو ترغیب دلائیں۔

حدیث مبارکہ میں آیاہے:”اپنے بچوں کو تیراکی، تیراندازی اورگھڑسواری سکھاؤ اور انھیں قرآن مجید کی صحیح تلاوت کرنا سکھاؤ ۔ کچھ دیر کھیل کربچے تھک جائیں گے، اوریہ جسمانی طاقت میں اضافہ کا سبب بنیں گے اور اس کے بعد وہ تازہ دم ہوکر پڑھ سکیں گے، تعلیم اور کھیل کے درمیان وقفے سے ذہن مستقل دباؤ اوربوجھ سے آزاد ہوگا۔ کھیل کودبچوں کے قوت حافظہ و یادداشت کو بہتر بناتا ہے،کھیلنے سے بچوں میں سننے،دیکھنے ، سونگھنے ، چکھنے اور چھونے کے حواس بھی مضبوط ہوتے ہیں جو نارمل زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ اس کے برعکس اگر وہ بیٹھے بیٹھے کارٹون اوروڈیوگیم میں مصروف رہیں گے تو پورادن گزرنے کے باوجود ان کا نہ دل بھرے گا نہ ہی ان کو حقیقی فرحت وخوشی نصیب ہوگی۔

ڈائرئکٹر آرفن کیئر پروگرام سید محمد یونس نے کہا کہ الخدمت یتامیٰ کے لیے فی کس 4000 روپے ماہانہ فراہم کررہاہے تاکہ ان بچوں کے سرپرست ان کی تعلیم کو بوجھ نہ سمجھیں،الخدمت زیر کفالت بچوں کی اسلامی احکامات کی روشنی ان عادات کا خاص خیال رکھاجاتاہے ،انہیں تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی پرانعام، سرٹیفکیٹ اور نقد انعام بھی دیے جاتے ہیں،یہ وجہ ہے کئی بچوں نے میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے ، اس خدمت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہالا ضلع مٹیاری میں آغوش ہوم کی تعمیر جاری ہے ، جہاں والدین اور سرپرستوں سے محروم 200بچوں کو رہائش،تعلیم، خوراک ، صحت و دیگرضروریات اعلیٰ معیارکے مطابق مفت فراہم کی جائیں گی،یہ سلسلہ یتیم بچوں تک محدود نہیں ایسے بچے بھی جو دکانوں ، ورکشاپوں پر کام کرنے والے یا بے کار گھومنے والوں بچوں کے لیے گھوٹکی میں چائلڈ پروٹیکشن سینٹر قائم کیا گیا ہے ۔

جہاں بچوں کو کچھ وقت کے لیے بلایا جاتاہے ، جہاں انہیں ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے ،اسلامی و اخلاقی اقدار سمجھائی جاتی ہیں جبکہ سندھ کے سب سے پسماندہ ضلع تھر پارکر کے دور دراز گھوٹھوں میں 11چونرا اسکول بنائے گئے ہیں جہاں 4سو کے قریب بچوں کو پرائمری تک مفت تعلیم دی جارہی ہے ،ان طلبہ کے لیے بھی مقامی سطح پر وقتاًفوقتاً تفریحی سرگرمیوں کا انعقاد کیاجاتاہے ، الخدمت یہ کاوشیں اہل خیر حضرات اور مختلف اداروں کے تعاون سے ہی سر انجام دیتی ہے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */