تربیت گاہیں اوران کی حکمتیں - بنت شیروانی

ایک عمومی فرد کی جماعتی گھرانے میں شادی ہوئ۰شادی کے کچھ سالوں بعد اس سے ملاقات نے بہت ساری باتیں ہمیں بتائیں اور ان گنت جماعت کی خصوصیات سے متعارف کرایا۰کہنے لگی یہ تم لوگوں کی تربیت گاہیں کتنی اچھی ہوتی ہیں نا!ہم نے کہا ہاں ان تربیت گاہوں کے پروگرامات بہت اچھے ہوتے ہیں۰بہت سوچ سمجھ کر وقت وحالات کے مطابق اور اچھے مقررین کو بلا کر یہ سارے پروگرام ترتیب دیتۓ جاتے ہیں۰

کہنےلگی پروگرامات تو آگے کی بات ہے یہ تم لوگوں میں ٹیم ورک،فرد کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لۓ اس تربیت گاہ میں ہی مختلف ذمہ داریوں کی ادائیگی ،منظم طریقہ سے کام کرنا ،ان تربیت گاہوں میں فرسٹ ایڈ باکس کا موجود ہونا،تو چپل رکھنے سے لے کر افراد کا قطاروں میں بیٹھنا ،استقبالیہ کا موجود ہونا جن کے افراد آپ کو خوش آمدید بھی کہتے ہیں اور یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ کتنے افراد آۓ ،ان کے فون نمبر نوٹ کرنا کہ بعد میں بھی ان افراد سے بات ہوسکے اور اس استقبالیہ پر اضافی قلم ،کاپی کی سہولت کہ کوئ فرد بھول آۓ تو لے لے اور فرسٹ ایڈ باکس کا بھی موجود ہونا ۰

اور اسٹیج پر جالی والے دوپٹوں سے پھولوں کا لگا ہونا کہ ہم تو اس دوپٹّے کا کبھی یہ استعمال ہی نہ کر سکے،کہ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ کام تزءین وآراءش کے کارکنوں نے کیا ہے۰تمھاری تربیت گاہیں کیا کچھ سکھادیتی ہیں تم لوگوں کو!!!!۰اور وہ گوشہ اطفال کے بچوں کو لے کر بھی جاؤ تو بے فکر ہو کر پروگرام سُن لو کہ اتنی محبت سے تمھارے افراد کی بچیاں ہمارے بچوں کو سنبھال لیتی ہیں ،انھیں اچھی باتیں کھیل کھیل میں سکھاتی ہیں ،انھیں تحفے تحائف دیتی ہیں،کہ اتنا تو پیار شاید ہم خود بھی اپنے بچوں کو نہیں دے پاتے،اس بچوں کے کارنر میں اب وہ بولتے وقت اسے یہ الفاظ یاد نہیں آرہے تھے کہ گوشہ اطفال ہم نے یاد دلایا تو اسے یاد آیا ہاں ہاں وہی،اس میں بچوں کے لۓ غبارے تو کلرز اور بسکٹس وغیرہ نہ جانے کیا کیا۰کہ بچوں کی امیوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۰بہن کیا پلاننگ سیکھتے ہو تم لوگ ان تربیت گاہوں سے۰اور وہ زر تعاون کے ڈبہ کی یاد دہانی اسٹیج سے کئ بار کرائ جاتی ہے لیکن افراد کو پکڑ پکڑ کر نہیں کہا جاتا کہ پیسے ڈال دو اس میں۰

یہ طریقہ دوسرے کی عزت نفس کو برقرار رکھنا نہیں سکھاتا تو اور کیا سکھاتا ہے۰اور بیجز لگائ کارکن چاۓ اور کارکن پانی جو ہمہ وقت خدمت پر معمور ہوتی ہیں۰ہم تو سمجھتے تھے کہ مختلف کارکنان کا یہ بیجز لگانا اس لۓ ہوتا ہے کہ ایک ذمہ داری نبھانے والے افراد دوسرے کو پہچان سکیں کہ اس کی ڈیوٹی اور ہماری یکساں ہے۰اور بہ وقت ضرورت ایک دوسرے کو پکار سکیں۰لیکن کارکن طعام کارکن صفائ صفائ،کارکن نظم و ضبط یہ سب ۰

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

کا راز سمجھانے کے لۓ ہوتی ہیں۰

کارکن نظم و ضبط سے تو ہم نالاں ہی رہتے تھے کہ یہ تو پروگرام کے دوران زرا باتیں نہیں کرنے دیتیں لیکن جب ہماری ساتھی نے کہا کہ ہمیں وہ والی کارکن ۰۰۰۰۰۰۰۰وہ کیا ہوتی ہیں جو باتیں نہیں کرنے دیتیں ۰۰۰۰۰کچھ لکھا ہوتا ہے ان کے بیج پر ۰۰۰۰۰۰۰“کارکن نظم و ضبط”اور ابھی ہم آگے بھی بولنے والے تھے کہ ہاں بھئ بڑی ہی سخت ہوتی ہیں کہ مجال ہے کہ پروگرام کے دوران ذرا ہنسی مذاق کرنے دیں لیکن وہ کہنے لگی یہ والی کارکن بہت پیاری ہوتی ہیں اور ان کے ذریعہ ہمیں ایک راز معلوم ہوا ۰ہم حیرت سے اس کا منہ تکنے لگے کہ اتنے میں وہ بولی یہ والی کارکن “وقفہ”میں باتیں کرنے کو منع نہہیں کرتیں۰اس پر ہم نے اپنی ہنسی کو چھپاتے ہوۓ کہا تو تم کیا چاہتی ہو کہ کھانے و نماز نے وقفہ کے دوران بھی افراد کچھ نہ بولیں۰ارے بہن یعنی “کسی بھی کام کو اس کے وقت پر کرنے کا راز سمجھا دیا “انھوں نے۰۰۰اور ہم ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگے کہ کہتی تو وہ ٹھیک تھی۰

اور یہ کارکن صفائ جن کے اپنے گھروں میں تو ماسیاں ہوتی ہیں لیکن اطاعت امیر ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے کہ کبھی جھاڑو پکڑے تو کبھی ڈسٹ بن کے شاپر پکڑے نظر آتی ہیں۰
اور تزءین و آرائش کی ذمہ داری لگنے سے بھی تو تم لوگ گھروں کی بناوٹ وسجا وٹ بھی سیکھ جاتے ہو۰اور دوست تمھارے لۓ تو یہ بلکل عام سی بات ہو لیکن میرے لۓ انھونی بات تھی کہ جب کھانے کے وقت ساتھ بیٹھی ساتھی نے ایک روٹی کھانے کے بعد دوسری روٹی کے لۓ ہاتھ روک لۓ تو میں نے پوچھا کیا ہوا؟کیوں نہیں لے رہیں اور روٹی ؟تو پتہ ہے اس نے کیا کہا !!!!اس نے کہا کہ میری زیادہ روٹی کھانے سے کوئ ساتھی بھوکا نہ رہ جاۓ۰اور میں اس کی شکل دیکھتی رہ گئ تھی۰۰۰۰۰حالانکہ اس نے بھی تو زر تعاون دیا ہوگا۰۰۰۰ہم تو شادی میں جاتے وقت اگر پانچ سو کا نوٹ دیں تو کوشش کرتے ہیں کہ پورے پانچ سو کا کھانا کھا کر آءیں ۰دوسرے بھی کھانا کھا لیں یہ تو ذہن میں ہی نہیں آتا۰

اور وہ جذبات کو گرمانے والے ترانے اور پیش کۓ جانے والے خاکے۰۰اور آخر میں دۓ جانے والا “محاسبہ “کا فارماتنا کچھ کرنے کے بعد بھی محاسبہ!!معلوم ہے طعام کے حصہ میں نے کیا لکھا؟؟؟؟
میں نے تو لکھ دیا بس کولڈرنک بھی ہونا چاھۓ تھی۰کہ باقی سب کچھ تو بہت اچھا تھا۰اور میں تو نماز پڑھنے کی بھی عادی نہ تھی۰بڑے ڈرتے ہوۓ گئ تھی اس تربیت گاہ میں اپنی جٹھانی کے کہنے پر۰۰سوچا تھا کوئ کہے گا کہ نماز پڑھ لیں تو بہانہ بنا دوں گی۰لیکن وہاں نماز پڑھنے کی اسٹیج سے تو یاد دہانی کرائ گئ لیکن کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر نماز کے لۓ کھڑا نہ کیا۰۰اور میں سوچنے لگی کہ شکر زبردستی نماز نہیں پڑھاتے۰لیکن باقی افراد تو خود ہی وقفہ میں نماز پڑھ رہے تھے۰

اور تو اور نہ ہی میرے ہلکے جارجٹ کے دوپٹہ پر کسی نے اعتراض کیا۰کہ تمھارے ہاں شاید سمجھانے کا ،تربیت کرنے کا بہت ہی پیارا انداز ہے اور افراد ایک دوسرے کو دیکھتے ہوۓ بھی بہت سی اچھی چیزیں سیکھتے ہیں۰اور اس کی یہ تمام باتیں سُن کر میں سوچ رہی تھی کہ میں تو صرف ان تربیت گاہوں میں پروگرامات کو سننے کے لۓ جاتی تھی یا پھر اپنے اندر مثبت تبدیلیوں کو پیدا کرنے کے لۓ۰یا پھر اپنوں سے ملنے کے لۓ جاتی تھی۰اور یہ ایک میری پیاری مجھے کیا کچھ سمجھا گئ تربیت گاہ کی ان گنت حکمتیں۰

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */