چکوال کا نواز شریف - محمد فاروق خان

کتابِ لاریب میں رب کریم کا فرمان ہے۔یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بار ی باری بدلتے رہتے ہیں(القران)صاحبو! من مرضی کی تبدیلیوں کی چاہت نے ہمارے دماغوں کو مفلوج کر رکھا ہے۔فطرت کی تبدیلیاں کائنات کوتوازن کا حُسن دیتی ہیں۔یہ تبدیلیاں معاشرے میں انصاف بانٹنے آتی ہیں۔یہ تبدیلیاں معاشی نظام میں اصلاحات لاتی ہیں۔یہ تبدیلیاں نیا ٹیلنٹ اور نئی فکر تقسیم کرنے آتی ہیں۔جب تک کُن فیکون میں ڈھلتا رہے گا تبدیلیاں ہوتی رہیں گی۔

اس کائنات نے اپنے انجام کی طرف بڑھتے رہنا ہے۔جمود موت ہے چاہے نظام میں ہو،معیشت میں ہو یا سیاست میں۔ہم نظام بدلنے اور حالات کے سنورے کی خواہش تو رکھتے ہیں اور بعض مراحل میں اس کے لیئے جدوجہد بھی کرتے ہیں لیکن بے ربط وسائل اور بے سمت رستے منزلوں کو ہمارے مقدر نہیں کرتے ۔نظام کی تبدیلی کی شرط اول ہے کہ شخصیت پرستی سے اجتناب کیا جائے۔تبدیلیوں کے خوف میں رہنے کی بجائے فطرت کے بدلتے مزاجوں سے ہم آہنگ ہو کر پُرسکوں رہا جائے۔سیاست کی اکثریت حافظ عمار یاسر کو سیاست میں غیر ضروری اضافہ سمجھتے ہیں۔ حافظ عمار یاسرسیاسی حقیقت بن چکا ہے جس کی حلقے میںموثر سیاسی پیش رفت جاری ہے۔حافظ عمار یاسرفطرت کی مطلوبہ تبدیلی کا ثمر ہے۔حافظ عمار یاسرنے سیاسی وراثتوں پر ضرب کاری لگائی۔

سردار غلام عباس کے انداز سیاست پر بات ہوتی رہے گی،سردار غلام عباس کی سیاست کے حالات پر گفتگو جاری رہے گی۔سردار غلام عباس ضلع چکوال کی سیاست کی نصابی کتاب ہیں۔ سردار غلام عباس سیاست کی مستندتاریخ ہیں۔سردار غلام عباس سیاسی روابط کو استحکام دینے اور عوامی دلوںکو مسخر کرکے راج کرنے والے عوامی قائد ہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ سردار غلام عباس کے پاس ووٹ کم ہیںاور وفاداروں کے لشکر زیادہ ہیں۔سردار غلام عباس کے بہت ساری سیاسی اہلیتوں کی منظر کشی کی جا سکتی ہے۔سردار غلام عباس کی عوامی خدمت کوسالوں،مہینوں،اور دنوں پر تقسم کرکے بتایا جا سکتاہے۔سردار غلام عباس کے سیاسی فیصلوں پر مکالمہ ہو سکتا ہے۔ حالت زوال میں کیئے جانے والے درست فیصلوں کا نتیجہ غلط ہو جاتا ہے۔بعض اوقات موافق حالات نامواق حالات پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔کورٹ سارنگ کا جلسہ اور اس میں کیئے جانے والے اعلانات اور لیئے جانے والے سیاسی فیصلوں نے سردار غلام عباس کے گروپ کو نقصان پہنچایا البتہ افتاب اکبر کو حکوت میں رہنے دینے کی حکمت عملی کو دانشمندانہ فیصلہ کہا جا رہا ہے۔

سردار غلام عباس کے چاہنے والے کہہ رہے ہیں کہ سردار غلام عباس کی سیاست کا رخ جس طرف پھرے گا چکوال اسی طرف مڑ جائے گا۔سیاسی وابستگان اپنے اپنے قائدین کے متعلق ایسا ہی گمان کرتے رہتے ہیں۔سردار غلام عباس کی ساری سیاست کو آئیڈیل نہیں کہا جا سکتا اس میں بلبل چکوال محترمہ فوزیہ بہرام کی سیاست کی ابتدائی تقاریر میں ظلم کی داستانیں اور تلہ گنگ لاوہ سے متعصبانہ سیاسی رویوں کی گونج بھی ریکارڈ پر ہے۔حلقے سے مخصوص لوگوں کو چن کر اکثریت کو ان کی سیاسی غلامی میں دے دینے کی سیاسی روایت قائم کرنے سے بھی سردار غلام عباس کی سیاسی ساکھ پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔لیکن اس کے باوجود سردار غلام عباس کے چاہنے والوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ملک یاسراعوان دندہ کا یہ کہنا کہ سردار غلام عباس کا تحریک انصاف سے علیحدہ ہونے سے کوئی نقصان نہیں ہوگا اس بیان سے یاسر دندہ کی سیاسی نا پختگی سامنے آئی ہے۔

سردار غلام عباس نے بڑا لمبا عرصہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے رویوں کا جائزہ لیا اور سیاسی طور پر بری طرح نظر انداز کیئے جانے کی اذیت کو برداشت کیا اور با لاخر سیاسی فیصلہ کر لیا۔مسلم لیگ ن کی اعلی قیادت کی طرف سے گرین سگنل آنے کی خبریں گردش میں ہیں۔سردار غلام عباس کا مسلم لیگ ن میں شمولیت سے پہلے ہی اپوزیشن کے بیانیے کو اپنا لینے کے اعلان غیر دانشمندانہ ہے۔ سردار غلام عباس مضبوط اعصاب کے مالک ہیں لیکن ان کے اس فیصلے سے انکی سیاسی تھکن کا پتہ چلتا ہے۔حکومتی پارٹی میں مائینس عباس رہنے والے سردار غلام عباس کے متعلق مستقبل کی سیاست پر نظر رکھنے والے ن لیگ میں بھی سردار غلام عباس کو مائینس عباس ہی دیکھ رہے ہیں۔

سردار غلام عباس کو سیاسی طور پر محتاط رہنا پڑے گا کیونکہ ضلع چکوال میں سردار غلام عباس کے سیاسی وفاداروں کی اکثریت یا تو سابقہ فوجیوں کی ہے یا حاضر سروس والوں کی ۔یہاں کے قبرستانوں کو شہداء کا اعزاز حاصل ہے۔شہداء کے ورثا پہلے ہی عظمی بخاری کا ہندوں کو شہید کہنے پر رنجیدہ اور دکھی ہیں۔سردار غلام عباس کو اپنے حلقے سے فوج سے وابستہ اکثریت کا احترام کرتے ہوئے چکوال کا نواشریف بننے سے گریز کرنا ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */