گلگت بلتستان - خالد ایم خان

چند دنوں پہلے گلگت بلتستان ( پاکستان ) میں الیکشن منعقد کیئے گئے ،جس کے لیئے ہم کافی ایکسائیٹڈ تھے ، گلگت بلتستان پا کستان کا بہت ہی خوبصورت مقام ہے ،آسمانوں کو چھوتے بلند وبالا پہاڑ ، جا بجا بھتے جھرنے ،خوبصورت وادیاں اور اُن میں سے گزرتا دنیا کا ایک حسین عجوبہ شاہرائے ریشم اور اُن میں بھاگتے دوڑتے گلگت بلتستان کے خوبصور ت باسی ،آپ یقین جانیں میرے پاس پاکستان کے اس جنت نظیر خوبصورت صوبہ کا احاطہ کرنے کے کئے دل ودماغ میں الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔

اور اسی خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مرتبہ ملک کے سیاسی قائد ین گلگت بلتستان کے لوگوں کو اپنے اپنے انداز میں قائل کرتے دکھائی دیئے ۔ہر ایک نے ،ہر پارٹی نے اپنے اپنے انداز میں اپنا اپنا چورن بیچنے کی بھرپورکوششیں کیں،کہیں ،،دلاں تیر بجاں ! الے ،، کی آوازیں سنائی دیں تو کہیں وہی ،،ہو ہا شیر آیا ،،میاں دے نعرے وجن گے ،،۔تو کہیں،، آئے گا عمران سب کی جان ،، آئی آئی پی ٹی آئی ،،کی للکاریں سنائی دیں ۔ کسی نے وہی اپنا پرانا،،مجھے کیوں نکالا ،، کا بیانیہ گھن گرج کے ساتھ استعمال کیا تو کسی نے پاکستان میں مسلسل ہوتی مہنگائی کی سچائی کا رونا زوروشورسے پیٹا تو کسی نے اس ملک اور خاص کر گلگت بلتستان کی عوام کی محرومیوں کو صحیح سمت میں متعین کرنے کی اپنی سے بھرپور کوششیں کیں ۔

اللہ اللہ کرکے الیکشن اپنے اختتام کو پہنچ گئے ہیں کون جیتا اور کون ہارا اس کا بھی آپ لوگو ں کو علم ہو ہی چکا ہے ، کوئی ہار جانے کا غم منا رہا ہے ، اور دنیا کے سامنے دہاندلی ،دہاندلی کی سدائیں دے رہا ہے تو کوئی خوش وخرم گلگت بلتستان کی گلیوں ،چوراہوں میں اپنے پارٹی کے لوگوں کے ساتھ اپنی جیت کا جشن مناتے دکھائی د ے رہے ہیں ،ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے شروح میں اچھا رنگ جمایا تھااور اپنے جلسوں میں کافی بڑی اور اچھی بھیڑ اکٹھی کی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے دلوں کی بھڑاس نکالی اور عوام کے سامنے گرج چمک کے برسے لیکن خان صاحب کے گلگت بلتستان آتے ہی الیکشن کے معاملا ت یکسربدلتے سے دکھائی دیئے ،کیوں کہ ۔

عمران خان صاحب اچھی طرح جانتے تھے کی اس وقت مہنگائی اس ملک کی عوام کا ایک بہت بڑا ایشو ہے جس کو لے کر عوام ان کے مخالف جا سکتے ہیں جس کو لے کر خود خان صاحب بھی کہیں نہ کہیں تو پریشانی کا شکار تھے جس کا توڑ نکالنے کے لیئے خان صاحب نے کمال ہوشیاری سے اک ایسا نیا پانسامیدان مین پھینکا جس کے گرتے ہی خان صاحب کے مخالفین چاروں خانے چت ۔یقین جانیں یہ ایک ایسی سیاسی چال تھی جس کے سامنے آتے ہی نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان میں گھڑن تختہ ہو گیا ۔

اور وہ سیاسی چال تھی گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ دینا جو کہ سالوںسے گلگت بلتستان کا ایک دیرینا مطالبہ تھاجس کے سامنے آتے ہی گلگت بلتستان کی عوام کے سامنے کے باقی تمام ایشو دھرے رہ گئے ،اور گلگت بلتستان کی عوام نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے زاتی ایشوز کو مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے بیانیئہ یعنی(گلگت بلتستان صوبہ ) پر سر تسلیم خم کر لیا ۔ دوسری جانب سوچنے کی بات یہ ہے کہ نون لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے اس ایشو کو کیوں نہیں اٹھایا کیا دونوں پارٹیاں اس ملک میں مزید صوبہ داریوں کے حق میں نہیں ہیں،کیا اندرون خانہ چور خانوں میں ان کویہ ڈر نہیں خائے جا رہا کہ اگر گلگت بلتستان صوبہ بن سکتا ہے تو پھر جنوبی پنجاب کے صوبہ کی بات اُٹھ سکتی ہے تو پھر ہزارہ صوبہ بھی ہزارہ کی عوام کا ایک دیرینا مطالبہ ہے او پھرکیوں بھول جاتے ہیں جناح صوبہ ؟

کیوں کیا دونوں ملکی پارٹیوں کو یہی خوف دامن گیر تھا اسی لیئے دونون پارٹیوں کے اقابرین جناب عمران خان کے گلگت بلتستان صوبہ کی بات سُن کر انگشت بدنداں دکھائی دیئے ۔ جناب عمران کان صاحب کے اس ایک چھکے نے بازی پلٹ دی اس کے چند دنوں کے بعد حالات کو اپنے ہاتھوں سے باہر نکلتے دیکھ کر دونوں سیاسی پارٹیوں نے بھی گلگت بلتستان کی عوام کو بلا بلا کر آوازیںزرور دیں کہ بھائی ہم بنائیں گے گلگت بلتستان کو صوبہ ہم بنائیں گے مجھے یاد ہے بلاول بھٹو +زرداری صاحب کا وہ بیانہ جب بلاول نے اپنے انداز میں اپنے جلسہ میں کہا ،، یہ بھیڑیا کیا بنائے گا گلگت بلتستان کو صوبہ ہم بنائیں گے،، لیکن جانب عالی مقام ،، اب کیا ہوات جب چڑیاں چُڑ گئیں گھیت ،،۔

بہاول پور صوبہ کا نام نا لینا یقینا زیادتی ہوگی جناب ہز ہائیلنس نواب سر صادق محمد خان صاحب کا پاکستان سے الحاق میں پاکستان سے دیرینہ مطالبہ تھا کہ میرے انتقال کے بعد بہاول پور کو صوبہ کا درجہ دیا جائےگا لیکن پہلے مارشل لاء اور بعد میں ملک میں ون یونٹ کے قیام نے بہاول پورصوبہ کی سمری کو دافل دفتر کر دیااور اُسی دفتر میں آج تک وہ سمری وحیں کہیں دور اور دور پڑی تو زرور دکھائی دیتی ہے لیکن؟؟؟ ہم صوبہ داریوں کے حق میں ہیں نئے صوبے بننے چاہیئںلیکن اب جب تک نئے صوبے نہیں بنتے تو پھر جناب عمران خان صاحب سے ہماری دیرینا درخواست ہے کہ گلگت بلتستان کو جلد از جلد صوبہ کا درجہ دیا جائے بلکہ دیں اور گلگت بلتستان کے تمام علاقون بشمول کارگل ،لیہ اور لداخ کے تمام علاقوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */