ہمارے شہداء - امجد حسین امجد

ہمارے شہداء ہمارا فخرہیں ۔چاہے شہداء کسی بھی ادارے سے یا طالب علم ہوں۔وہ پاک بھارت جنگ کے شہید ہوں یا اقوام متحدہ کے امن دستے کے سپاہی،سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کے کمسن طالب علم ہوں یا اکیلا اعتزاز حسین شہید،پولیس کے کیپٹن مبین ہوں یا ائیر فورس کے راشد منہاس،آرمی کے کیپٹن کرنل شیر ہوں یا نیوی کے لیفٹیننٹ یاسرعباس ،چاہے وہ 65 کے گمنام سپاہی ہوں یا گیاری کے شہید،پشاور کے بشیر احمد بلور ہوں یا بلوچستان کے نوابزادہ سراج خان رئیسانی ،پنجاب کے ڈاکٹر غلام مرتضے ملک ہوں یا سندھ کے حکیم سعید، کشمیر کے زلزلے کے شہید ہوں یا دہشت گردی کا شکار معصوم شہری۔ان تمام لوگوں نے اپنا آج ہمارے مستقبل کے لئے قربا ن کر دیا اور سرخرو ہوئے۔

ان شہداء کے بارے میں کسی علاقائی ، مذہبی یا لسانی بنیاد کا فرق نہیں رکھا جاتا۔ہر سال اہم قومی تہوار اور خاص کر 6 ستمبر کو ان شہداء کو بھر پور خرج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ کا حوصلہ بلند کیا جاتا ہے۔کہ ہم کوئی شہادت بھولے نہیں اور ارض پاکستان میں مکمل امن ہونے تک متعلقہ ادارے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔کچھ عرصہ پہلے محترم عبدالستار اعوان کی کتاب ہمارے شہداء پڑھنےکا اتفاق ہوا تو سر فخر سے بلند ہو گیا کہ ابھی تک ہمارے ملک میں شہداء کے کارناموں کو مرتب کرنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔کتاب کا انتساب آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کے نام ہے جنہوں نے پوری قوم کو عزم و حوصلے،اتحاد و یقین ،جرات ،بے خوفی اور ولولے کا درس عظیم دیا۔ظالم کے آگے ڈٹ جانے کا سبق دیا۔جنرل مرزا اسلم بیگ اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تاریخ کسی کا ادھار نہیں رکھتی ۔ہم جانتے ہیں کہ غزوہ بدر سے لے کر عصر حاضر تک جتنے بھی جانبا زوں نے اسلام اور ملک و قوم کی سر بلندی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاریخ نے انہیں اپنی آغوش محبت میں لے لیا اور ان کے ذکر کو عام کر دیا ۔یہی وجہ ہے کہ کوئی مجاہد فلسطین میں ہو ،کشمیر میں ہو ،افغانستان میں ہو یا دنیا کے کسی کونے میں جام شہادت نوش کرے۔پوری امت مسلمہ اسے خراج تحسین پیش کرنا اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔

زندہ قومیں اپنے شہیدوں کی قربانیوں کی مقروض ہوتی ہیں اور قرض کو اتارنے کا آسان حل یہ ہے جس مقصد کی خاطر انہوں نے جان عزیز قربان کی اسے زندہ رکھا جائے۔شہداء کی قربانیوں کے ذکر کو پھیلانے کا مقصد یہ ہےکہ اہل ایمان ان کے ولولہ انگیز واقعات سے اپنے ایمان و یقین کو مزید پختہ کرسکیں۔یوسف عالمگیرین نے لکھا کہ ہمارے شہداء قابل صد احترام ہیں جنہوں نے وطن کے لئے جان کی بازی لگا دی لیکن اس پر آنچ نہیں آنے دی جو اقوام اپنے ہیروز اور محسنوں کو یاد رکھتی ہیں انہیں کبھی زوال نہیں آتا۔کتاب میں تقریباً پچاس شہداء کا ذکر ہے۔میجر جنرل ثناء اللہ نیازی شہید 1960 میں ایک فرض شناس محب وطن پولیس آفیسر کے ہاں پیدا ہوئے۔اپنی عسکری صلاحیتوں اور تجربےکے بل بوتے پر میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ ان کا پختہ عزم اور جذبہ ان کے ساتھی فوجی افسروں اور سپاہیوں کے لئے بھی تقویت کا باعث بنا۔ستمبر 2013 میں وہ اپر دیر میں کرنل توصیف اور لانس نائیک عرفان کے ہمراہ شہید ہوئے۔کیپٹن حسان عابد شہید 16 نومبر 1979 کو بہاولپور میں ڈاکٹر عابد( سابق آرتھو پیڈک سرجن بہولپور وکٹوریہ ہسپتال) کے ہاں پیدا ہوئے۔ڈاکٹر عابد کا یہی اکلوتہ بیٹا تھا ۔حسان عابد بہت ہی ہنس مکھ،حساس اور انتہائی دلیر افسر تھا۔کیپٹن حسان عابد کی ان کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ تصویر کو سوشل میڈیا پر بہت سراہا گیا۔

کیپٹن حسان حوصلوں ،ولولوں اور مسکراہٹوں کی عمدہ مثال تھے۔مجھے سکول آف آرٹلری نوشہرہ میں اسے بیسک کورس میں پڑھانے کا اعزاز حاصل ہے وہ کورس سینئر ہونے کے ناطے سے اپنے انتظامی فرائض بھی بخوبی ادا کرتے تھےاور وہ فروری 2011 میں آپریشن المیزان میں شہید ہوئے۔بہاولپور پوسٹنگ کے دوران شہید کے والد سے بھی ملنے کا موقع ملا۔ اور شہید کے بچپن کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔میجر احمد خان ٹوانہ شہید کارگل آپریشن کے دوران ہمارے کمپنی کمانڈر تھےوہ 1968 میں ضلع خوشاب میں پیدا ہوئے۔معرکہ کارگل میں اس بہادر فوجی افسر نے ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہوئے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوائے۔ان کی استقامت ،پامردی اور جم کر لڑنے کا اعتراف انڈین پریس نے بھی کیا تھاکہ ایک پاکستانی فوجی افسر نے خلیل فرنٹ پر ہمیں مسلسل کئی دن تک پریشان کئے رکھا۔فوجی ضابطے کے مطابق اس فرنٹ پر کسی بھی افسر یا جوان کو 21 دنوں سے زیادہ عرصہ نہیں ٹھرایا جاتا تھا تاہم اس بہادر فوجی افسر نے واپس پلٹنے سےمحا ذ پر لڑنے کو ترجیح دی۔ مجھے یا ہے کہ جب وہ ہماری پوزیشن پر آئے تو اپنے ساتھ تازہ سبزی، جلیبی اور پیپسی لائے ۔

فرنٹ لائن پر لڑنے والے لوگ اس بات کا صحیح ادراک کر سکتے ہیں۔سپاہی عاصم اقبال شہید جولائی 2013 میں کشمیر کے محاذ پر شہید ہوئے۔ یہ جوان بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرتا رہا اور آخر کا ر جام شہادت نوش کیا ۔فارورڈ کہوٹہ میں مجھے شہید کے جنازے میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔میجر جنرل محمد حسین اعوان شہید 17 ،اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ایک فضائی حادثے میں شہید ہوئے. جنرل محمد حسین اعوان نے ساڑھے تین سال تک جہلم میں ایک ڈویژن کو بڑے احسن طریقے سے کمانڈ کیا۔آپ انتہائی نیک اور خدا ترس انسان تھے۔ آپ نے بے شمار غریبوں کے کام کیے۔آپ نے کبھی زندگی میں نہیں سمجھا کہ یہ غریب ہے، یا امیر ہے، بلکہ سب کو ایک جیسا انسان سمجھا۔ آپ اکثر کہتے تھے کہ میں جو کچھ ہوں، ان لوگوں کی دعاؤں کی وجہ سے ہوں، میں کیونکر ان کو اپنے آپ سے دور کروں۔ آپ نہ صرف اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے مثال تھے بلکہ ہر وہ شخص جو آپ سے ایک بار ملا، وہ آپ کا گرویدہ ہوا۔کیپٹن ظہورالحق شہید بھی سکول آف آٹلری کے بیسک کورس میں میرے سٹوڈنٹ تھے۔بعد میں وہ ایوی ایشن میں چلے گئے۔اورانہوں دسمبر 2010 میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام چھپنے والی یہ کتاب ہمارے شہداء کی خدمات کا بہترین اعتراف ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */