ترکی دیکھنے کے لائق ملک - پروفیسر محمد حسین چوہان

ترکی یقیناٗ دنیا کے ان چند ملکوں میں شمار ہوتا ہے جسکی سیاحت سے زیادہ اس کی تاریخ کا مطالعہ زیادہ ضروری و دلچسپ ہے،ویسے تاریخ کے بغیر کونسا ملک خالی ہے مگر ترکی تاریخ وجغرافیہ کے اعتبار سے اپنے اندر ہشت پہلو رکھتا ہے،اور اسکو جس پہلو سے بھی دیکھو ایک شوکت و سطوت کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔ جغرافیہ ایسا کہ ایشیا اور یورپ کے سنگھم پر واقع ہے ،آبنائے باسفورس کو پھلانگ کر یورپ کے قدموں کو آدمی چھو لیتا ہے۔آبنائے باسفورس کی دوسری جانب مشرقی یورپ کے ممالک بلغاریہ،رومانیہ ،مالدیوا،یوکرین اور روس واقع ہیں،جبکہ اسکی سرحدیں آرمینیا،آزر بائیجان،ایران،عراق اور شام سے ملتی ہیں۔

آبنائے باسفورس کی ۳۱ کلو میٹر لمبائی اسکی خوبصورتی،دفاع اور تجارت میں اہم مقام رکھتی ہے ،جہاں رات دن کشتیاں اور جہاز چلتے رہتے ہیں روس،یوکرین۔بلغاریہ،جارجیا اور رومانیہ کا تجارتی راستہ آبنائے باسفورس سے گذرتا ہے۔بحیرہ اسود اور مر مرہ سمندر کے درمیان آبنائے باسفورس کی سمندری پٹی نے استنبول کو وہ تاریخی مقام عطا کیا،جس کی اہمیت و افادیت پر اسلام وعیسائیت کئی صدیوں تک دست وگریباں رہے،مسلمانوں کو اپنے خواب کی عملی تعبیر کے حصول کے لئے سات صدیاں انتظار کرنا پڑا۔استنبول کوئی تین ہزار سال پرانے شہر پر دوسو قبل مسیح سے ۳۳۰ عیسوی تک رومییوں کی حکومت رہی۔ سات سو سال قبل مسیح میں یونانی بادشاہ بازنطین نے اس کو اپنی کالونی بنایا تھا ور یہ ان کا دارلحکومت بھی رہا ۔۳۳۰ کے بعد رومی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور ۳۳۰ میں کونستینٹائن نے قسطنطیہقسطنطیہ کو اپنا دارلخلافہ بنایا جسکے نام کی مناسبت سے اس کا نام قسطنطنیہ پڑ گیا جسے روم کی مشرقی سلطنت شمالی افریقہ ،مغربی ایشیا،عرب اور مشرقی یورپ تک پھیلی رہی اور روم مغربی یورپ سمیت دیگر ممالک پر قابض رہا دنیا کی یہ ایک وسیع سلطنت تھی جو ایک ہزار سال کے لگ بھگ قائم رہی،عیسائیت اس کا مذہب تھا،بادشاہی نظام رائج تھا،قانون اور تہذیب سے اس نے دیگر دنیا کو بھی روشناس کرایا۔

اس عرصہ میں استنبول مشرقی رومی سلطنت کا مرکز رہا،مگر روم سے ہر معاملہ میں جڑا بھی رہا۔۳۳۰ کے بعد بازنطینیوں یعنی یونانیوں کا اس شہر پر زیادہ اثر ورسوخ رہا جو یونانی طبع ومزاج کے حامل آرتھو ڈکس عیسائی تھے۔انکے مشہور بادشاہ جسٹنین نے سلطنت کا دائرہ یروشلم اور اسپین تک بڑھا دیا تھا ۱۴۵۳ میں عثمانیوں کی فتح کے بعد اسکا نام اسلام بول کو تحریف کر کے استنبول پڑ گیا۔بازنطینی، نیو روما،قسطنطنیہ اور استنبول جیسے ناموں سے یہ شہر پکارا جاتا رہا۔تین بڑی سلطنتوں کا دارالخلافہ رہا۔ ایشیا اور یورپ کا تجارتی مرکز رہا۔عیسائی وہاں بیٹھ کر یورپ والوں پر فرمان جاری کرتے تھے تو ترک عثمانی تین بر اعظموں یورپ،ایشیا اور افریقہ والوں سے اپنے نام کاخطبہ پڑھاتے تھے ۔مسلمان قسطنطنیہ کی اہمیت سے عہد رسالت سے بخوبی واقف تھے،اور آپ صلعم کی حدیث کہ جو قسطنطیہ کو فتح کرے گا بڑا ہی باکمال ھوگا کی حدیث کی چنگاری سات سو سال تک انکے دلوں میں بھڑکتی رہی۔۶۷۴ میں مسلمانوں نے قسطنطنیہ کو فتح کر چاہا چار سال تک شہر کا محاصرہ رہا مگر مسلمانوں کے بحری بیڑے آتش یونانی کا مقابلہ نہیں کر سکے اسی عرصہ میں صحابی رسول حضرت ایوب انصاری نے جام شہادت نوش فرمایا اور وہیں دفن ہوئے۔پھر ۷۱۷ میںبنو امیہ کے امیر سلیمان عبدالملک نے دو ھزار جنگی کشتیوں کیساتھ حملہ کیا مگر قلعہ کی فصیلیں توڑنے میں ناکام رہا دو ہزار میں صرف پانچ کشتیاں بچیں اور مسلمان شکست کھا کر واپس چلے گئے اس وقت بھی یہ آتش یونانی کا مقابلہ نہیں کر سکے ۔

عیسائی آ گ کے گولے مسلمانوں کے جہازوں پر پھنکتے جس سے ان میں آ گ بھڑک اٹھتی اور اس کا توڑ انکے پاس نہیں تھا،اس وقت حکمت یونان کے آگے دانش عرب کمزور تھی،مگر قسطنطنیہ کی فتح کا جنوں مسلمانوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ ارطغرل کا تعلق تاتاری خانہ بدوش قبیلہ سے تھا جن کی حکومت کا دائرہ کار بحیرہ اسود،بلقان کی ریاستوں کے کچھ حصے،شمالی چین کی سسر حدوں اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ھوا تھا ۔،مگر استنبول کی فتح کی سہرا سلطان محمد فاتح کے سر سجنا تھا،جو سات سو سال کی جدوجہد کے بعد پورا ھوا ،سلطان محمد فاتح بھی قلعہ کی فسیصلیں توڑنے میں ناکام رہا ،آبنائے باسفورس کے تینوں اطراف لوہے کی زنجیریں بحری جہازوں کا راستہ روک لیتی تھیں اور قلعہ کی فصیلوں کو توڑ کر اندر داخل ھونا مشکل تھا،دوسرا آتش یونانی کا مقابلہ کرنا بھی مشکل تھا۔مگر معرکہ عشق میں پائوں پیچھے نہ ہٹے کے مصداق ایک دن اس نے یہ ترکیب نکالی کی دوسری جانب خشکی کے راستے سے جہاز گزار کر قلعہ تک رسائی حاصل کی جائے تو اس نے لکڑی کے تختوں پر جانوروں کی چربی لگائی جسے ان کی تہ پر چکنائی پیدا ہوئی اور ان تختوں پر رات کے سماں میں جہاز گزار کر یہ قلعہ کی دیواروں تک پہنچ گئے دوسری طرف عیسائوں نے یورپ بھر سے دفاعی افواج جمع کر رکھی تھی ،مگر توازن اور طاقت کے تناسب سے مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا ۔۲۲ اپریل ۱۴۵۳ بروز جمعرات کو سلطان محمد فاتح کے سپاہی بے جگری سے لٹرتے ہوئے قلعہ کی دیواروں کو عبور کرگئے۔

سلطان محمد فاتح بھی سفید گھوڑے پر سوار ہو کر محل کے اندر داخل ھوا اور آیا صوفیہ کے مقام پر گھوڑے سے اتر کر زمین سے خاک لی اور اپنی پگڑی میں ڈال دی۔یہ اسکی عاجز ی تھی،جسے دیکھ کر سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ قسطنطیہ کے انہدام سے عیسائی دنیا میں صف ماتم بچھ گئی ،سترہ سو سالہ رومی ویونانی عیسائیوں کا مرکزی شہر مسلمانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ا،مرثیے اور نوحے لکھے گئے اور یونان میں جمعرات کے دن کو اسی بنا پر آج بھی منحوس سمجھا جاتا ہے۔ سلظان محمد نے آیا صوفیہ کو جو ایک عالیشا ن کلیسا تھا کو مسجد میں تبدیل کر دیا اور باقی تمام کلیساوٗں کو بحال رکھا،تمام شہریوں کی جان عزت ومال کی ضمانت کا اعلان کیا۔اور یہ وہی آیا صوفیہ ہے جسکو بازنطینی عہد میں تعمیر کیا گیا تھا۔پھر اتا ترک نے اسکو میوزیم بنا دیا جبکہ موجودہ صدر اردگان نے دوبارہ اسکو مسجد میں تبدیل کر دیا ۔ جس پر آج بھی یونان کے آرتھو ڈکس عیسائی سراپا احتجاج ہیں کہ اسکو میوزیم کی شکل میں رہنے دینا چائیے تھا ۔آیا صوفیہ اور بابری مسجد کے قضئہ میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے توپی کاپی محل اور آیا صوفیہ کی شان و شوکت آج بھی نظروں کو خیرہ کرتی ہے جہاں سلطان محمد فاتح نے اپنے قدم رکھے تھے،سلطان محمد فاتح ایک درویش منش انسان تھا جب اسکی موت واقع ہوئی تو ایک لباس اور ٹوپی کے سوا اسکے پاس کچھ نہیں تھا، استنبول کی فتح میں اس کی ہمت،جذبہ جہاد اور ترکیب کام آئی۔

قلعے کی فصیلیں توڑنے کے لئے اس نے ہنگری سے ایک جنگی ماہر انجنئیر اوربان کی خدمات حاصل کی تھیں جس نے توپ اور بارود کے استعمال کی ترکیب مسلمانوں کو سکھائی تھی ۔اوربان قلعہ شکن توپ تیار کرنے کا ماہر تھا اس نے اسے قبل اپنی خدمات استنبول میں بازنطینی بادشاہ جسٹنین دوم کو پیش کی تھیں ،مگر وہ اسکی خدمات کا معاوضہ ادا نہیں کر سکتے تھے ،بعد میں اس نے سلطان محمد سے رابطہ قائم کیا کہ وہ ایسی توپ بنا سکتا ہے جسے بڑے بڑے قلعوں کی دیواریں مسمار ہو سکتی ہیں ۔سلطان محمد نے اس کی خدمات قبول کر لیں اور اس کو جنگی توپوں کی تیاری پر لگا دیا اس نے ایسی توپ تیار کی جسے استنبول کا قلعہ فتح ہوا ورنہ اسے قبل مسلمان کئی صدیوں تک اسکو فتح کرنے کی کوشش میں ناکام ہو کر واپس لوٹتے رہے ورنہ اسے قبل جذبہ جہاد کے جنوں کے بل بوطے پر دوبا مسلمانوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ا ستنبول کی فتح میں سلطان کی ذاتی ترکیب یعنی چربی سے پھسلن تیار کرنا اور دوسرا بارود کا استعمال اور جذبہ وہمت تھی جسے دنیا کی تاریخ پلٹ گئی۔دوسری اہم بات مسلمانوں کی تماتر تہذیب خذ ماصفا ودعا ماکدر پر قائم تھی جس پر سلطان نے عمل پیرا ہوتے ہوئے جنگی تکنیکی خدمات عیسائیوں سے ہی حاصل کیں۔ تاریخ ایسی کہ عیسائیت اور اسلام کی روح اسکے اندر سمٹ کر رہ گئی ہے۔ سفید پگڑی والوں نے۱۴۵۳ میں کوئی دوماہ کے بحری وبری محاصرے میں زندگی و موت کا کھیل کھیلتے ہوئے ایک ہزار سال کے رومی اقتدار کا خاتمہ کیا ا اور عثمانیہ سلطنت کا پرچم قلعہ توپی پر لہرایا۔

جسکے سائے کے نیچے پانچ سو سال مملکت اسلامی سانس لیتی رہی۔ابتدائی دور کے ہ مسلمان جذبہ جہاد اور مہم جوئی کے دلدادادہ تو تھے ہی مگر عملیت پسندی اور تجربیت بھی انکے نظریہ علم و عمل میں موجود تھی۔روحانیت انکے عبادت وریاضت میں کارفرما تھی مگر سائنسی ترکیب سے کام لیتے تھے۔ویسے بھی ترک وہ قوم ہے جن کی تہذیب وثقافت پر مغربی رنگ غالب ہے اور یونان کے علم وفلسفہ کی چھاپ صدیو ں سے انکی فکر ونظر میں رنگ بکھیرتی رہتی ہے،مشرقی روحانیت وتصوف کو عملی زندگی میں شامل نہیں ہونے دیتے۔سخت جان واقع ہوئے ہیں۔ایک طرح کی انا و غرور انکی چال ڈھال اور لہجے سے ٹپکتا ہوا محسوس ہوتا ہے، مرد وخواتین کے قد وکاٹھ سے جمال کے برعکس جلال ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ بیک وقت مسلمان بھی ہیں اور سیکولر مزاج بھی رکھتے ہیں۔دنیوی معاملات کو سائنسی طرز عمل وفکر سے دیکھتے ہیں۔مزاج میں نرمی کی بجائے ترشی زیادہ ہے،شاید تاتاری خون کی آمیزش کا نتیجہ ہے،مگر عربوں کی طرح نکمے،متعصب اور عراقیوں و ایرانیوں کی طرح فتنہ پرداز نہیں ہیں اور نہ ہی برصغیر والوں کی طرح چرب زبان اور نوسر باز،بلکہ مشرقی و مغربی مزاج کا امتزاج ہیں۔صاف گو ہیں اور مزاج میں ہمیشہ اکڑ خوں قائم رہتی ہے۔خلافت عثمانیہ کی تین بر اعظموں پر حکومت کے احساس کی تاریخی جھلک انکی شخصیت میں نمایاں ہے۔انگریزوں ،امریکیوں اور سعودیوں سے سخت چڑ کھاتے ہیں،انگریزی نہ سیکھتے ہیں اور نہ ہی بولتے ہیں اپنی ثقافت پر آج بھی نازاں ہیں۔

بحیرہ روم کے دایئں بائیں کی ریاستوں کو دبا کر رکھا ھوا ہے۔مشرقی یورپ و بلقان کی ریاستیں انکے آگے سر نگوں ہیں،قفقاز کی بلند پہاڑیوں تک ان کا سکہ چلتا ہے۔ حالیہ آرمینیا اور آزربائیجان کی نیوروکارا باخ پر جنگ میں ترکی نے بڑھ چڑھ کر آزریوں کا ساتھ دیا کیونکہ اخلاقی و سیاسی طور پر آزریوں کا موقف درست تھا۔ آرمینیا والے ترکوں سے سخت چڑ کھاتے ہیں ،تاریخ میں ترکوں نے آرمینیوں کا ناحق قتل عام بھی کیا،مگر ترک عیش پرست خلیفے آرمینائی حسیناوں کے سوا کسی دوسرے ملک کی عورت کو اتنا پسند نہیں کرتے تھے اس بنا پر ہمیشہ انکے ہاں انکی مانگ بڑھی رہتی تھی۔عثمانی قفقازی حسیناوئں کو عقاب کی طرح کوہ قاف کے پہاڑوں سے اٹھا لاتے تھے۔قفقازی حسن اور شراب عشمانیوں کی بہت بڑی نفسیاتی کمزوری تھی۔ دوسری طرف یونانیوں کو کبھی کبھار کہنی مار ہی دیتے ہیں،جسے کبھی بھی ان سے انکے خوشگوار تعلقات قائم نہیں ہوئے،استنبول یونانیوں سے چھینا ہواا شہر انکے پاس ہے۔اپنے مزاج کلچر اور مذہب کی بنا پر انکو یورپی یونین میں شامل نہیں کیا گیا۔ورنہ سیکولرازم انکی زندگیوں میں بدرجہ اتم موجود ہے۔لیکن مسلمان کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں،دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم میں دیگر مسلم ممالک سے بہت آگے ھے،ان کی ترقی کا بنیادی راز عملیت پسندی ہے ۔

ترکی بالخصوص استنبول میں گھومتے ہوئے آدمی ترک تعمیرات کے سحر سے باھر نہیں نکل سکتا،جس عمارت کو دیکھیں تاریخ ذہن میں گھومنے لگتی ہے،شہر کی ناہمواری ہی استنبول کے حسن میں اضافہ کرتی ہے عالیشان مساجد اور دیگر عمارات دور سے نظر آتے ہیں،ساتھ ساتھ آبنائے باسفورس میں چلتے جہاز نظارے میں رومانس کا رنگ بھر دیتے ہیں۔ آبنائے باسفورس میں کشتی کی سیر سے شہر کی خوبصورت اور عالیشان عمارات کا نظارہ اور پرکیف منظرایک طلسماتی دنیا میں پہنچا دیتا ہے،جہاں سیاح کچھ دیر کے لئے دنیا کے غم بھول جاتے ہیں،استنبول کی جغرافیائی اہمیت یہ ہے کہ یہ آدھا ایشیا اور آدھا پورپ میں واقع ہے،مگر یورپ والا حصہ زیادہ ترقی یافتہ ہے،جہاں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ ایک طویل پل کے ذریعے شہر کے باسیوں کا رابطہ قائم ہے۔ استنبول تاریخ اسلام کی عظیم فتح ہے،جسکے لئے یہ سات صدیوں تک پیچ وتاب کھاتے رہے۔اس شہر کی فتح نے مسلمانوں کے سر کئی صدیوں تک بلند رکھے اور یورپ ماتم مناتا رہا۔حالیہ کرونا کی وبا سے اس کی رونق ماند نہیں پڑی،سیاحوں کا رش جاری رہا،کیونکہ کرونا وائرس کے پھلائو میں اتنی تیزی نہیں تھی۔۔گرانڈ بازارتاریخی،تجارتی اور ثقافتی دلچسپی اور حسن کا شاہکار ہے،آیا صوفیہ مسجد اور قلعہ ٹوپی کے پڑوس میں واقع ہے۔

ہم اس بازار کی دوسری جانب پل کے پار ہوٹل میں ڈھیرے جمائے ہوئے تھے،جو ٹیکسی کی مختصر مسافت وہاں پہنچا دیتی تھی۔ہم اکیلے ہوتے تو شائد سر سری نظر سے وہاں سے گذر جاتے مگر بیگم کا شکریہ کہ دن میں صبح ناشتہ کے بعد اور شام بازار بند ہونے سے پہلے بیگم وہاں کی دکانوں کا تسلی بخش مطالعہ کر لیتی۔اس بنا پر اس شہر کی رونقوں کو دیکھنے کا کئی بار موقع ملا اور کوئی گلی اور دکان ایسی نہیں تھی جس کی مصنوعات سے کماحقہٰ آگاہی حاصل نہ ہوئی ہو۔سلطاں فاتح محمد نے اسکو ۱۴۵۵ میں تعمیر کیا۔جو ناہموار بل کھاتی ہوئی اکسٹھ اسٹریٹ اور چار ہزار دکانوں پر مشتمل ہے، یہ امرکیٹ ایک ہی چھت کے نیچے واقع ہے اس لئے اس کو کورڈ مارکیٹ کہا جاتا ہے،اسکی خوبصورتی کا راز بھی یہ ہے کہ اسکی تعمیر تاریخی تعمیر کا شاہکار ہے گلیاں اینٹوں اور تارکول کی بجائے پتھروں سے بنی ہوئی ہیں،دکانوں کی چھتیں لکڑی کے شہتیروں سے مزین ہیں،سالانہ دس کروڑ کے لگ بھگ سیاہ یہاں کا سفر کرتے ہیں۔گرانڈ بازار یورپی اور ایشیائی تاجروں کی گزر گاہ کیساتھ ایک تجارتی مرکز بھی رہا ہے اور اب بھی سیاح اس کے اندر جھانکے بغیر واپس نہیں لوٹتا۔اس بازار میں جاکر ہر قومیت نسل و رنگ کے آدمی سے ملاقات ہوجاتی ہے۔مصنوعات سستی ہیں مگر برانڈڈ نہیں ہیں۔چینی مصنوعات کے مقابلے میں ان کا معیار بہتر ہے،ترک تاتاریوں کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی ہی تیار کردہ مصنوعات فروخت کرتے ہیں وہ کسی ملک سے در آمد نہیں کرتے۔

مصنوعات کی تیاری میں وہ خود کفیل ہیں اور بر آمدات کا یہ حال کہ اس سال انہوں نے یورپ کے چند ممالک میں کپڑوں کی فروخت میں گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔یہی گرانڈ بازار ہے جہاں تک ایشیائی تاجروں کے قافلے آتے تھے مگر برصغیر والوں کی کھڈیوں کو بھی انگریزوں نے مقامی غداران وطن کے ذریعے بند کرا دیا تھا۔مگر ترکوں کی خلافت کے خاتمہ کے با وجود اس شہر کی رونقیں بحال رہیں۔کئی بار یہ شہر آگ سے خاکستر ہوا زلزلوں سے تباہی آئی مگر ترکوں نے اس کو اپنی اصل شکل میں دوبارہ تعمیر کر دیا۔یہ زیادہ تر عوامی بازار ہے،مگر اسکے بر عکس تقسم اسکوائر کیساتھ ترکوں کی شوکت وسطوت کا اظہار شاہراہ استقلال سے ہوتا ہے جو اپنی کشادگی وحسن میں بے نظیر ہے یہاں برانڈڈ مصنوعات مل جاتی ہیں،مگر لندن کے مقابلہ میں کافی سستی ہیں،راقم نے خریداری کی قسم کھائی ہوئی تھی کہ خریدوں تو رکھوں کہاں الماری میں جگہ نہیں پہلے ہی خریدے گئے ملبوسات کی کئی سالوں سے پہننے کی باری نہیں آئی،مگر مارکیٹنگ کرنے والے ساتھ موجود تھے،جن کے پر زور اسرار پر ایک لیدر جیکٹ اسلئے خرید لی کہ لندن میں اسکے نرخ دو لاکھ روپے سے زائد ہیں اور یہاں ستر ہزار کی مل جاتی ہے۔حکم نازل ہوا اور فوراٗ تعمیل ہوگئی نجانے کتنے سالوں تک الماری کی زینت بنی رہے گی،شاید گھر والے میرا روزہ توڑنا چاہتے تھے ،کیونکہ انکی طلب بے جا سے جہاز کا مطلوبہ وزن پورا ہو چکا تھا۔اس جرم خریداری میں ہم اکیلے نہیں تھے،برطانیہ سے پاکستانی وکشمیری خاندانوں کی خول در خول وہاں امڈ آئے تھے،جہاں جاتے میرپوری خاندان سے ملاقات ہو ہی جاتی،مگر کمال یہ تھا کہ لشکروں کی کما نڈ بیویوں کے ہاتھ میں تھی۔

خاوند دکانوں کے دروازے کے باہر بچوں کیساتھ کھڑے ہوتے اور خواتین ایک پل میں لٹکے ہوئے کپڑوں کا ایکسرے کر کے باہر آجاتیں۔اسطرح اس جذبہ شوق نے پورے شہر کی ایک ایک اینٹ کا مطالعہ کرایا،ورنہ اکیلے شوہر دکانوں سے باہر موٹر سائیکل کی طرح گذر جاتے ہیں۔ایک بات پکی ہے کہ شوہر حضرات بیویوں کی ہمراہ شاپنگ اور سیاحت میں اتنے ہی سنجیدہ اور خاموش ہوتے ہیں جتنے نیب کی حراست میں سیاستدان،مگر شوہروں کا المیہ یہ ہے کہ انکی مونیٹرنگ چئیرمین نیب یعنی زوجہ محترمہ کر رہی ہوتی ہے،اسے بہتر ہے کہ کبھی کبھار انہیں اپنے طور پر اکیلے سیاحت کا موقع فراہم کیا جائے،کیونکہ مشاہدے میں یہ بات آئی کہ رنگین سیاحتی مقامات پر بھی شوہروں کے چہرے کے تاثرات یہ بتا رہے تھے کہ یہ آخری عمر میں معافی تلافی کے لئے مکہ معظمہ میں گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں، بلکہ اندر سے پنجابی کے شاعر کی نظم پڑھ رہے ہوتے ہیں۔کدی تے پیکے جا نی بیگم۔ آوے سکھ دا سا نی بیگم۔ترکی خوراک میں نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ اس کی تئیس فیصد معیشت کا انحصار ذراعت پر ہے۔دنیا کی بہترین اور معیاری غذا پیدا کرنے والا ملک ہے،بحیرہ روم کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے مشرق ومغرب کا حسین موسمی امتزاج اسکی ہوائوں میں شامل ہے۔بہترین خوراک نے ایک صحت مند قوم کو جنم دیا ہے۔خوراک کی پیداوار کے ،مظاہر نہ صرف ترکی میں دیکھے جا سکتے ہیں بلکہ یورپ میں بھی بڑی بڑی سبزی وپھلوں کی دکانیں چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں جن کو ترک نژاد د باشندے چلاتے ہیں،ترکی میںپچھتر اقسام کے وافر مقدار میں پھل اگائے جاتے ہیں۔گندم کی کاشت وسیع پیمانے پر کی جاتی ہے۔دودھ،گھی پنیر بر آمد کیا جاتا ہے۔

خشک پھل اور جڑی بوٹیوں کی پیداوار میں خود کفیل ہے۔انجیر اور خوبانی کی پیداوار میں دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔خشک میوہ جات اور نامیاتی خوراک کی تیاری میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔گوشت کی اتنی پیداوار ہے کہ ہر ترکی دستر خوان پر گوشت کی بنی ہوئی ایک آدھ ڈش موجود ہوتی ہے۔ڈونر کباب اور شورماانہی کی ایجاد ہے۔کیونکہ انکے پاس ہمیشہ سے گوشت کی فراوانی رہی ہے۔ترکی میں جانے سے پہلے ترکی کے بارے میں ہمیں بتا دیا تھا کہ وہاں کی خوراک اہمیت کی حامل ھے،کیونکہ جہاں کہیں بازاروں میں دیکھو گوشت اور فروٹ سے بھری دکانیں نظر آتی ہیں اور خالص جوس کی دکانیں چند قدموں کے فاصلے پر واقع ہیں۔ہم بھی جی بھر کر ان نعمت خداوندی سے لطف اندوز ہوتے رہے،کمال کی بات یہ ہے کہ صفائی کا معیار بلند ہے،گوشت وہ اپنے انداز سے پکاتے ہیں،گوشت کی چانپیں بہت مژہور اور ذائقہ دار ہیں۔انکی تعریف دوسروں سے سن رکھی تھی مگر ہمارے لئے کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی،سوچا چلو کھا کر دیکھتے ہیں،اسکی تصدیق اس وقت ہوگئی جب بیگم کیساتھ بیٹھ کر ہم نے کھاناکھایا اور احساس ہوا کہ اس گھڑی میں بھی جس کھانے میں لطف باقی ہے اسکے ذائقے میں شک کرنا کفران نعمت کے مترادف ہے،کیونکہ برطانیہ کی مصروف زندگی میں صرف پیٹ بھرا جاتا ہے زبان کو ذائقے کا سرے سے احساس نہیں ہوتا۔آڑو وہاں چھری سے کاٹ کر کھایا جاتا ہے،کیونکہ اس کا سائز ہی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اکیلے ہاتھ میں پکڑ کر نہیں کھایا جاتا۔بندہ ناچیز نے حسب روائیت دونوں ہاتھوں میں تھام کر تناول کیا۔

انجیر کا سائز بھی ہمارے کینو کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ بہی اور انجیر کی پیداوارمیں ترکی دنیا بھر میں سر فہرست ہے،اور بہی وہی پھل ھے جسکے بارے میں ہمارے حکیموں کا کہنا ہے کہ اسکو کھانے سے چالیس مردوں کی طاقت حاصل ہوتی ہے اور انجیر وزیتوں کے فوائد سے تو آپ واقف ہیں ہی۔ہمارے ہاں جن پھل اور جڑی بوٹیوں کے مشکل نام حکیموں کے نسخوں میں ہی پڑھنے کو ملتے ہیں وہ سب اشیا ترکی کے بازاروں میں موجود ہیں۔قدرت نے اس ملک کو ہر نعمت سے نوازا ہے،مگر حکیموں کے اشتہارات دیواروں پر چسپاں نظر نہیں آتے،جن کا چلن ہمارے ہاں عام ہے لیکن استنبول رنگینیوں اور مسرتوں کا شہر ہے۔دنیا بھر کے سیاح آتے ہیں۔پبوں کے باھر جام نوشی کے مناظر ورطہء حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وہاں اکثربادہ نوشی میں جوڑے اکھٹے بیٹھے نظر آتے ہیں،اس خوبصورت منظر کی ایک بڑی وجہ معتدل موسم اور جغرافیہ ہے۔پبوں کے باہر کرسیاں ڈھلوان میں لگی ہوتی ہیں ۔تکسم اسکوائر کے آس پاس یہ مناظر بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔استنبول کی چہل پہل کی بڑی وجہ سیاحت اور دنیا بھر کے لگ بھگ تیس ارب پتیوں کا وہاں قیام بھی بتا یا جاتا ہے۔ترکی میں استنبول ایک مشہور سیاحتی شہر ہے مگر دوسرے شہر بھی اسے کم نہیں ہیں سیاحت وتجارت دوسرے شہروں میں بھی ہوتی ہے۔

ترکی میں ترکوں کے شانہ بشانہ بلقان ریاستوں کے باشندے بھی ہجرت کر کے آباد ہوئے ہیںجسمیں وسطی ایشیائی لوگ بھی کام کاج کی غر ض سے وہاں جاتے ہیں،مگر عثمانیہ سلطنت کے زیر اثر جتنی بھی ریاستیں تھیں وہاں کے باشندے وہاں آباد ہیں۔شام کے بحران کی وجہ سے مہاجرین کی آمد میں اضافہ ہوا ہے جسے روزگار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ترک امریکی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے انکی معیشت پر برا ثر مرتب ہوا ہے مگر ترکی پھر بھی پر اعتماد ہیں۔بلغاریہ،رومانیہ،بلدیویہ ،یو کرین سے غیر قانون انسانی اسمگلنگ اب بھی ہو رہی ہے،جسکی وجہ ترکی کی سیاحت ہے ،جنس و سیاحت کا ہمیشہ چولی دامن کا ساتھ رہا ہے ،مشرقی یورپ کی حسینائیں آبنائے باسفورس کو پھلانگ کر استنبول میں ڈھیرے جما لیتی ہیں،جسے منچلے سیاحوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں۔

موجودہ عالمی کرونا وائرس کے مضر اثرات سے ترکی بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔اسکی معیشت اور سیاحت پر برے اثرات مرتب ہوئے،لیرا ڈالر کے مقابلے میں اکیس فیصد گر گیا،سیاحوں کی آمد میں کمی دیکھنے میں آئی،مگر ترکی اٹلی اور یونان جو اسکے پڑوسی ممالک ہیں سے کافی حد تک بہتر رہا ،ایک تو ہلاکتیں کم ہوئیںاور معاشی سرگرمیوں کا سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا،مگر کساد بازاری اور بیروزگاری میں اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا،ہوٹل اتنے بھرے ہوئے نہیں تھے،کشتیوں میں سیاحوں کی تعداد کم تھی۔ریسٹورینٹ بھی کھچا کھچ بھرے ہوئے نہیں تھے یہ استنبول کی خالت ہے جہاں دنیا بھر کے سیاحوں سے سڑکیں بھر جاتی ہیں،مگر اسکے باوجود معیشت کا پہیہ پہلے گئیر میں چل رہا تھا۔ترکی ایک ایمرجنگ اکانومی ہے اور یہ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے میں اتنی تیزی سے ترکی کر رہاتھا کہ مشہور مجلہ ,,اکانومسٹ،، کا ہر شمارہ بسم اللہ کا آغاز ترکی سے کیا کرتا تھا۔کیونکہ ترکی نے ذراعت،مینو فیکچرنگ،اسٹیل انڈسٹری،ہیوی وہیکل ،چھوٹی گاڑیوں۔

الیکٹرانک مصنوعات،ٹیکسٹائل انڈسٹری اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت حاصل کر لی تھی،اور انکی بر آمدات میں تیزی پیدا ہو گئی تھی،مگر کرونا وبا سے قبل ہی امریکہ نے اسکی معیشت کو کمزور کرنے کے لئے اسکی مصنوعات پر بے جا ٹیرف لگا دئیے،دوسرا شرح سود میں کمی واقع نہیں ہوئی،اصل تنازعہ کا باعث علاقائی جیو پالیٹکس ہے،جسمیں امریکہ اسکی مداخلت کو قبول نہیں کرتا،مگر ترکی بھی اپنی ہٹ کے پکے ہیں انہوں نے امریکہ کے آگے سپر ڈالنے کے برعکس مقابلہ کرنا بہتر سمجھا جسے انکی پروڈکٹ میں تو اضافہ ہوا مگر فروخت میں کمی واقع ہوئی۔اسکے باوجود اپنی مدد آپکے تحت بہت سے شعبوں میں یہ خود کفیل ملک ہے۔اپنے آپکو ریجنل چودھری سمجھتا ہے۔۔توقع کی جا رہی ہے کہ انیس سو تئیس کے بعد مسلم دنیا اور عالمی تناظر میں اسکی حیثیت مختلف ہو گی۔جدید ترکی کا آغاز کمال اتا ترک کے ہاتھوں ہوا تھا اور اسکے اثرات وشمرات سے آج قوم مستفید ہو رہی ہے،دولت عثمانیہ کے زوال کی جہاں بہت سی دیگر وجوہات ہیں وہاں ایک بڑی وجہ یورپ کی نشات ثانیہ میں شامل نہیں ہونا بھی ہے۔ادھر اٹلی میں روشن خیالی اور عقلی توجیہ کے دور کا آغاز ہوچکا تھا،یورپ عقیدہ پرستی کے برعکس مسائل کو عقل وتجربہ سے دیکھ رہا تھا۔دور مدرسیت سے تیزی سے نکل رہا تھا،آرٹ و سائنس کو سائنسی وعقلی رنگ میں دیکھا اور پیش کیا جا رہا تھا۔

یونانی فلسفہ ۔یعنی انسان ہی اشیا کا حقیقی معیار ہے کو فروغ مل رہا تھا۔انسان دوستی اور احترام آدمیت کو ایک نئے مسلک کے طور پر اپنایا جا رہا تھا۔ کوپر نکس کے نظریہ کائنات نے کلاسیکی نظریہ کی دھجیاں بکھیر دی تھیں،نیوٹن کے قوانین حرکت نے یک لخت تمدنی میں حرکی وصنعتی انقلاب کی بنیادیں رکھ دی تھیں،سماجی سائنس میں مارکس ولینن نے جمہوری،معاشی وسیاسی انقلاب بپا کر دئیے تھے ۔اسکے اثرات سے استنبول کی زمین بھی روشن ہو رہی تھی ۔چودہویں اور سولہویں صدی کے درمیان یورپ قرون وسطیٰ کے عہد کی علمیات سے نکل چکا تھا،مگر دوسری طرف ترک عثمانی عیش پرستی کیساتھ ساتھ قرون وسطیٰ کی علمیات اور مدرسیت سے چپکے ہوئے نظر آتے ہیں،انہوں نے اس عہد میں تجربی سائنس اور فلسفہ سے مستفید ہونے کے بر عکس اپنی عظمت رفتہ کے خول کے اندر مقید ہونے کو کافی سمجھا۔استنبول درسگاہوں اور مدارس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا،مگر تکنیکی علوم سے مستفید ہونا بدعت و گمراہی سمجھی جاتی تھی۔چھاپہ خانہ ۱۴۳۹ میں شروع ہو چکا تھا،مگر ۱۴۸۳ میں سلطان فاتح کے بیٹے بایزید یلدرم نے عربی کتب کو شائع کرنے کی سزا موت مقرر کر دی تھی،علوم وفنون کی ترسیل وترقی اور فروغ میں عثمانیوں کی دقیانوسیت نے انکے زوال کے اسباب فراہم کر دئیے۔

تین بر اعظموں تک پھیلی ہوئی خلافت کہنگی اور عظمت رفتہ کے جنون میں مبتلا تھی۔جمہوریت،انقلاب،اصلاحات اور جدید علمیات سے نا واقفیت اور صرف قومیت پرستی کے زعم میں مبتلا ترکوں کے ہاتھوں سے انکی مقبوضات مٹھی میں ریت کے ذروں کی طرح سرکنا شروع ہو گئی تھیں۔ ترک مومنیں اور صالحین کا بس یہ قصور تھا کہ وہ جدید علمیات سے ہم آہنگ نہیں تھے اور طاقت کا پلڑا دوسری جانب بھاری ہو گیا تھا۔ اتا ترک نے رد عمل کے طور پر ترکی کو خانقاہوں ،صوفیوں، ملنگوں اور درویشوں سے پاک کیا ، عربی اور فارسی کی جگہ رومن رسم الخط کا اجرا کیا۔نماز کو بھی ترکی زبان میں ادا کرنے کی کوشش کی۔ تاکہ ترکی کو جدید عہد کے سانچے میں ڈ ھال سکے،ترکی کو ایک مسلمان سیکولر ملک بنانے کے نتیجہ میں آج وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ترکی کی موجودہ ترقی تجربی و افادی سائنس کا نتیجہ ہے جو انہوں نے مغرب سے مستعار لیااور عالم اسلام سے ایک الگ راہ اختیار کی ورنہ صدیوں تک وہ افغانستاں کا ناک ونقشہ بنے رہتے،ترکی میں جمہوریت مکمل طور پر پنپ نہیں سکی جسکی وجہ فوج کی مداخلت ہے مگر کمال کی بات یہ ہے کہ ترک فوج سیکولرازم پر مکمل ایمان رکھتی ہے۔وہ عقیدہ پرستی کو فرد کا ذاتی مسلہ سمجھتے ہیں مگر اسکے با وجود ترکی میں نوے فیصد مسلمان ہیں اور اسی فیصد سنی ہیں۔

دیگر مسلمان ممالک کو بھی ترکی کی پیروی ک کرنی چائیے اگر وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہتے ہیں،اور عربوں کو جہالت وتعصب کی خول سے باہر نکلنا ہو گا،ورنہ تمہاری داستان تک نہیں ہو گی داستانوں میں۔ ترکوں یورپین کی طرح سائنسی تہذیب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں ہیں مگر انکے قریب رہنے کی وجہ سے اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں بھی پیدا کر چکے ہیں،سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے وسائل بروئے کار لا کر ملک کو ترقی کا شاہرا پر گامزن کر دیا ہے،جس کی معمولی سی مثال بھی ابھی پاکستان کی مدینہ ریاست میں نظر نہیں آئی ہے۔خان کی حکومت سے ہماری التماس ہے کہ احتساب کے سلسلہ میں تیزی خوش آئند ہے مگر عوام معاشی اصلاحات بھی چاہتے ہیں،صنعتی ترقی کے ذریعہ روزگار کے خواہاں ہیں۔ذرعی اصلاحات اور بے گھری کا خاتمہ بھی چاہتے ہیں،مگر لگتا یوں ہے کہ اصلاحات وانقلاب کے نام پر معرض وجود میں آنے والی حکومت،پھر اشرافیہ،جاگیرداروں اور عسکریت پسندطاالع آزمائوں کے ہاتھوں یرغمال ہو رہی ہے۔ اور طوائف تماش بینوں میں میں گر چکی ہے۔اسے بڑی قوم کی اور کیا بد قسمتی ہو گی کہ یہ دوبارہ روائیت پسند حکمرانوں کے زیر سایہ رہنے پر مجبور ہوجائیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */