بنک مینیجر واقعہ ، جہالت کے ہاتھوں " قتل" کی واردات - محمد عاصم حفیظ

قائد آباد میں نیشنل بنک کے مینیجر کو گارڈ نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا۔ واردات کے بعد بعض مقامی مولوی حضرات اور مشتعل افراد کو لیکر ریلی بھی نکالی گئی ۔ گارڈ کے نعرے لگتے رہے ۔ اب اس واقعے کی تفصیلات سامنے آ چکی ہیں ۔ دراصل یہ گارڈخود ایک مجرمانہ ذہنیت کا حامل ضدی شخص تھا۔اس نے ذاتی رنجش اور بحث کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی ۔ بنک مینیجر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ حالیہ فرانس واقعے سمیت کافی حد تک مذہبی رجحان رکھتا تھا ۔

اس کی پروفائل پکچر ہی فرانس کی مذمت والی تھی ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان چند معمولی مسائل پر اختلاف ہوا ۔ جس کی رنجش میں اس گارڈنے مینیجر کو قتل کر دیا ۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس جاہل کی مزموم حرکت کی جذباتیت میں حمایت بھی کی گئی اور پورے شہر میں ریلی نکالی گئی جس میں بعض مذہبی جماعتوں کے ارکان بھی موجود تھے ۔ بنک مینیجر کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے ۔ یہ اس کی دین سے محبت کا اظہار تھا ۔ لوگوں نے اس جہالت کو مسترد کر دیا ۔

اس طرح محض الزام اور ذاتی رنجش پر کسی کا قتل انتہائی خطرناک ہے , کسی بھی قسم کی تحقیق اور تفتیش کے بغیر۔ دراصل اس معاملے کو مذہبی رنگ دینا بھی مناسب نہیں کیونکہ یہ سراسر جہالت ہے ۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کے متشدد رویے ، جاہلانہ رسومات ، انا پرستی ، برادری ازم ا اور کئی دیگر معاملات کو بھی مذہبی رنگ دیکر حمایت لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جس نے خود کبھی مسجد کا رخ نہیں کیا ہوتا ، فرض احکام تک کا خیال نہیں رکھتا وہ بھی " عشق " اور اپنی مرضی کے معاملات میں مشتعل ہوکر اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے ۔ قانون کو ہاتھ میں لینے اور خود ہی کسی معاملے کا منصف بن کر فیصلہ کرنے کا اختیار دین نہیں دیتا ۔ اگر ایسا ہوجائے تو پھر معاشرے کی اس سے بڑھ کر اور کیا تباہی ہو گی ۔ ایسے واقعات کو مذہبی رنگ دینا انتہائی نا مناسب ہے ۔ کوئی بھی صاحب شعور اس کی حمایت نہیں کر سکتا ۔ کچھ ذہنی بیمار ، اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے شرپسند اپنی نفساتی کشمکش اور پریشانی میں کوئی حرکت کر بیٹھتے ہیں اور بعدازاں حمایت کے لئے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارا نظام انصاف بھی ایسے عناصر کو سخت سزائیں دینے میں ناکام رہا ہے ۔ ایسےواقعات کو عبرت بنا دینا چاہیے ۔

سخت اور کڑی سزا فوری دی جائے ۔ ایسے واقعات سے مذہب کی بھی بدنامی ہوتی ہے اور سیکولر ، دین بیزار عناصر ان واقعات کو استعمال کرکے مذہب پر تنقید کرتے ہیں ۔ شدت پسندی اور خودساختہ فیصلہ سازی معاشرے کے لئے زہر قاتل ہے ۔ قائد آباد واقعہ ہو ،بہاولپور میں پروفیسر کا ناحق قتل ہو، پشاور میں پرنسپل کے قتل کا واقعہ ہویا کوئی بھی اور اس کو مذہبی رنگ دینے کی بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق دیکھنا چاہیے ۔ اس سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ میڈیا کے ذریعے معاشرے میں دین کی مستند ، متوازن اور مثبت تعلیمات کو فروغ دینے کی کس حد تک ضرورت ہے تاکہ کوئی ذہنی بیمار، نفسیاتی مریض یا سفاک مجرم اپنی کسی مزموم حرکت کو دین کا نام نہ دے سکے ۔ دوسری جانب ایسے واقعات کو لیکر مذہب کو تنقید کا نشانہ بنانا بھی مناسب نہیں کیونکہ اگر یہ مذہب کے تحت ہوتا تو پھر تو ہر گلی بازار میں قتل و غارت ہوتی ۔ حالیہ دنوں میں فرانس کی جانب سے توہین آمیز واقعات ، مصنوعات کے بائیکاٹ ، کچھ عرصہ قبل مختلف شہروں میں عورت مارچ کے نام پر فحش ترین پوسٹرز اور نعروں کے واقعات ہوئے۔

معاشرے کے سب طبقات نے ان کی حوصلہ شکنی کی ، سوشل میڈیا پر بات کی لیکن کہیں بھی کسی نے اشتعال و شدت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ کسی نے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مکالمے اور اظہار رائے کے ذریعے اس پر بات کی گئی ۔ حقیت یہی ہے کہ ملک کا بڑا مذہبی طبقہ اعتدال اور رواداری پر عمل پیرا ہے ۔ ہمیں باہم ملکر شدت پسندوں کا مقابلہ کرنا ہے ، ان کی حوصلہ شکنی کرنے ہے کیونکہ اسی میں معاشرتی بھلائی ہے ۔ آج ہمیں جہالت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ، فرسودہ روایات، جھوٹی انا پرستی ، شدت پسندی اور دیگر رویوں کے تدارک کی ضرورت ہے جو ایسے واقعات کے باعث بنتے ہیں ۔ قائد آبادمیں " جہالت" کے ہاتھوں ایک ناحق قتل ہوا۔ ہمیں اسے روکنا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */