آپ کا مقصد حیات کیا ہے - عمر محمود وٹو

یہ وہ پہلا سوال ہوتا ہے جو میں ہر کلاس میں جاتے ہی سب سٹوڈنٹس سے پوچھتا ہوں ۔ یونیورسٹیز میں جن کلاسز کو بھی مینے پڑھایا ہے ان میں سے آج تک تقریباً ٢٠٠ سٹوڈنٹس سے یہ سوال میں پوچھ اور ڈسکس کر چکا ہوں جن میں پاکستان، افغانستان، سوڈان اور کٸ اور دوسرے مسلم ممالک کے بیچولر اور ماسٹرز کے سٹوڈنٹس شامل ہیں۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان ٢٠٠ میں سے ١٩٩ سٹوڈنٹس کو ان کے مستقبل کا کچھ خاص پتہ نہیں اور نہ ہی ان کا کوٸ پلین یا گول وغیرہ ہے۔

اس پر ا کبر آلہ آبادی نے کیا خوب ہمارے حالات کی عکاسی کی ہے کہ”کیا بتائیں احباب کیا کارنامے کر گےُبی اے کیا ، نوکر ہوے ، پینشن لی اور مر گےُ“یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ آج پوری مسلم امہ کی نوجوان نسل کی اکثریت کا کوٸ مقصد حیات ہی نہیں ہے۔کچھ دن پہلے ایم ایس ایکنامکس کی کلاس میں مصطفیٰ نامی سوڈانی سٹوڈنٹس نے مجھے وہ جواب دیا جس کا مجھے کافی عرصے سے انتظار تھا۔ اس کے جواب نے مجھے ایک نٸ امید کی کرن دکھاٸ جس پر علامہ اقبال کا یہ شعر مجھے یاد آیا کہ

”وقتِ فرست ہے کہاں کام ابھی باقی ہے.

نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے“

ہمارہ مکالمہ کچھ یوں شروع ہوا۔
ابتداٸ گفتگو۔۔۔۔

مصطفیٰ: السلام علیکم سر۔

میں: وعلیکم السلام۔ آپ لیٹ ہو گۓ ہیں ؟

مصطفیٰ: سوری سر، کلاسز کا تھوڑا کلیش آرہا ہے۔

میں: ٹھیک ہے، بیٹھ جاٶ۔

مصطفیٰ: سر حاضری۔

میں: سی آر، لگا دو حاضری۔

میں: اپنا تعارف کرواٸیں۔

مصطفی نے اپنا تعارف کروایا۔

پھر مینے وہی سوال پوچھا جو میں مصطفیٰ کے آنے سے پہلے پوری کلاس سے پوچھ چکا تھا اور کلاس کی اچھی خاصی کلاس بھی لے چکا تھا۔

میں: اچھا تو مصطفیٰ یہ بتاٸیں کہ آپ کا مقصد حیات کیا ہے؟

مصطفیٰ: اللہ کی عبادت کرنا۔

میں: بہت اچھی بات ہے مگر کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صرف عبادات آپ کو بخشوا دیں گی۔ رہبانیت کا تو اسلام میں کوٸ تصور ہی نہیں ہے۔ آپ کو معاملات بھی ساتھ لے کر چلنے ہوں گے۔ آپ کو اپنی زندگی کا کوٸ مقصد بھی متعین کرنا ہوگا اور اس کے مطابق آگے زندگی بھی گزارنی ہو گی۔

مصطفیٰ: پہلے تو مصطفیٰ نے حیران ہو کر مجھے دیکھا کہ میں کہیں اس کو غیر ملکی ہونے کی وجہ سے پریشان تو نہیں کر رہا مگر پھر جلد ہی کلاس کے ماحول کی سنجیدگی دیکھ کر سمجھ گیا اور جواب دیا کہ، سر میری زندگی کا مقصد اسلام کے لیے کام کرنا ہے۔

میں: اچھا! آپ کس گھرانے میں پیدا ہوۓ ہیں؟

مصطفی: حیران ہوتے ہوۓ بولا، مسلم گھرانے میں۔

میں: آپ کس ملک میں پیدا ہوۓ ہیں؟

مصطفی: سوڈان میں۔

میں: یعنی آپ کی زندگی کا مقصد اسلام اور سوڑان کو ڈیفنڈ کرنا ہے کیونکہ آپ کا کیمپ اسلام اور سوڈان ہے؟

مصطفی: جی سر، بلکل یہی ہے۔

میں: تو آپ اسلام اور سوڈان، جسے آپ اپنا کیمپ بتا رہے ہیں اسے کیسے ڈیفنڈ کریں گے؟

مصطفی: سر، اس کے لیے کام کر کے۔

میں: اسلام اور سوڈان کے لیے تو کٸ طریقوں سے کام کیا جا سکتا ہے، مگر آپ وہی کام کر سکیں گے جس میں آپ کو مہارت حاصل ہو اور اس مہارت کے پیچھے آپ کے حالات و واقعات ہوں جنہیں نے آپ کی پرسنیلیٹی (شخصیت) پروان چڑہاٸ ہو اور یہی حالات آپ کو مزید مدد کریں گے آگے اسلام کے لیے کام کرنے کے لیے۔

مصطفی: جی میں اسلام کے لیے ایکڈیمک ساٸیڈ میں کچھ کرنا چاہتا ہوں۔

میں: وہ کیسے ؟

مصطفی: سر میں پاکستان، اسلامی معاشیات میں ایم ایس کرنے آیا ہوں، اس کے بعد میں اسلامی معاشیات میں پی ایچ ڈی کروں گا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں اسلامی معاشی نظام پر وہ آسان اور قابل عمل طریقے اپنی کتب میں لکھوں گا اور کوشش کروں گا کہ مغربی معاشی نظام کی بجاۓ دنیا اسلامی معاشی نظام کی طرف راغب ہونا شروع ہو جاۓ۔ بس اسی مقصد پر میں اپنی پوری زندگی وقف کروں گا انشإاللہ۔ اگر کامیاب ہو گیا تو بہت اچھا، اگر کامیاب نہ بھی ہو سکا تو کم سے کم قیامت کے روز اللہ کو منہ دکھانے کے قابل تو ہوں گا کہ مینے زندگی بے مقصد نہیں گزاری۔ ویسے بھی اللہ نے ہماری نیت اور کوشش دیکھنی ہوتی ہے نہ کہ نتیجہ۔

میں۔ ماشإاللہ

خود بھی کھڑا ہو گیا اور ساری کلاس کو کھڑا کر کے مصطفیٰ کے لیے تالیاں بجواٸیں ابھی تالیاں بند ہی ہوٸ تھیں کہ ایک پاکستانی سٹوڈنٹ بولا: سر بسز نکل رہی ہیں ہم جاٸیں۔
میں: ٹیڑھا میڑھا سا منہ بنا کر بولا کہ بیڑا ترے تم لوگوں گا، سارے ایموشنز کی ایسی تیسی پھیر دی ہے تم نے۔ جاٶ چھٹی کرو سب۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج میڈیا نے ہمیں دوسرے الٹے سیدھے کھیل تماشوں میں مصروف کیا ہوا ہے اور ہمیں ابھی تک یہ سوچ بھی نہیں سوچنے دی جا رہی ہے کہ ہماری پیداٸیش کا مقصد کیا ہے۔ہمیں کیوں پیدا کیا گیا ہے۔ اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ہم پر کون کون سی زمہ داریاں عاٸید ہوتی ہیں۔کیا ہم جانوروں کی طرح کھانا پینا ، شادی کرنا ، بچے پالنا اور مر جانے کے لیے اس دنیا میں آۓ ہیں یا ہمارے کوٸ اور بڑے مقاصد بھی ہیں؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */