تھر اور سفید چمکتا نمک - مزمل فیروزی

نمک روزمرہ استعمال ہونے والی معدنی غذا ہے، نمک جس کے بغیر ہمارے کھانے بے ذائقہ ہوتے ہیں وہاں اسے صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے،سندھ کے صحرا تھرپارکر میں 100کے قریب نمکین پانی کی جھیلیں موجودہیں جہاں نمک کے وسیع ذخائر ہیں۔ تھر کا نام تھل سے اخذ کیا گیاہے جو مقامی زبان میں نمک کے لیے استعمال ہوتا ہے،مون سون میں ہونے والی بارشوں کے بعد تھر سے بڑی مقدار میں نمک حا صل ہوتاہے، بارش کے بعد جھیلوں میں پانی بھر جاتا ہے اور سوکھنے کے بعد نمک کی شکل اختیار کرلیتاہے، نمک کی جھیلیں تب بنتی ہیں جب پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے تو پھر اس نمک کو نکالا جاتا ہے اور پھر اس کی صفائی کی جاتی ہے۔گزشتہ دورے پر ہمارا ڈیپلو کے مقام پر ایک نمک جھیل پر جانا ہوا تھا جہاں پر مقامی افراد یہ کا م ہاتھوں سے کرتے تھے جن سے ان کے ہاتھوں اور پاؤں پر چھالے پڑے ہوئے تھے جسے دیکھ کر ہم سوائے افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے تھے۔

اس بار تھرپارکر دورے کا مقصد نمک کی جھیلوں پرجاناتھاجب ہماری گاڑی تھر کول ایریا تک بنی ہوئی زبردست سڑک سے گزر کر جیسے ہی خستہ حال سڑک پر ہچکلولے لیکر چلنا شروع ہوئی تو ہمیں احساس ہوا کہ اب ہم واقعی کسی پسماندہ علاقے کی طرف گامزن ہے، اسلام کوٹ سے 80کلومیٹرکے فاصلے پر موکھائی کے مقام پرحب سالٹ ریفائنری نے 2011 میں حکومت سندھ سے لیز پر بارہ سو ایکڑ پر نمک جھیل حاصل کی تھی حکومت کی جانب سے بجلی فراہم نہ کیے جانے پر انہوں نے اپنا بجلی گھر قائم کیا اور نمک جھیل پر کام شروع کروایا جس سے مقامی افراد کو نہ صرف روز گار ملا بلکہ ان کے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے مدرسہ اور مسجد کا انتظام بھی کیا۔ موکھائی نمک جھیل کی گہرائی چار سے پانچ فٹ ہے اور جب یہ سوکھنے لگتی ہے تو یہاں سے نمک کشید کیا جاتا ہے ۔ پیدا ہونے والے اس نمک کو کرین اور ٹریکٹر ٹرالیوں کی مدد سے ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد اس نمک کو پراسس کرکے صاف کرنے کے بعد قابل استعمال شکل میں لایا جاتا ہے۔ اس جھیل سے نکلنے اور تیار ہونے والا نمک برآمد کیا جاتا ہے۔

سائٹ مینیجر طارق محمودستی کے مطابق موکھائی نمک جھیل سے دو لاکھ ٹن سالانہ نمک نکالا جاتاہے جس کی برآمدات یورپ، امریکا، کینیڈا، جاپان،چائنا سمیت دیگر ممالک میں کی جاتی ہے، یہ نمک ڈائنگ فیکٹری میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ پورے ملک میں کھاد بنانے والی کمپنیوں اور چمڑے کی فیکٹریوں کو بھی نمک تھر سے فراہم کیا جاتا ہے۔

موکھائی سائٹ پر کام کرنیوالے مقامی مزدوروں کا کہنا تھا کہ پہلے ہم یہ کا م ہاتھوں سے کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں اور پاؤں پر چھالے پڑجاتے تھے اور ہماری صحت بھی بہتر نہیں رہتی تھی اور مزدوری بھی بہت کم ملتی تھی مگر جب سے یہاں پر جدید مشینریز لگی ہے ہمارا کام بھی آسان ہوگیاہے اور ہمیں پیسے بھی اچھے ملتے ہیں۔

حب سالٹ کے سی ای اواسماعیل ستار کا کہنا تھا کہ نمک اور اس کی مصنوعات کی برآمد سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ کماکردے رہے ہیں،پاکستان سے 280ملین ٹن نمک کی کھپت ہے،گلوبل مارکیٹ میں ہمیں نمک کی وہ قیمت نہیں مل رہی جس کے ہم مستحق ہیں،اس لئے ہمیں عالمی مارکیٹ پر اپنی دسترس مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔اسماعیل ستارکے مطابق اگر حکومت مناسب توجہ دے اور ہمارے ساتھ تعاون کرے تو ہم نمک کی برآمدات سے آئندہ پانچ سال میں ٹیکسٹائل برآمدات سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کے نصف زرمبادلہ تک کما سکتے ہیں۔ صنعتکار اسماعیل ستار نے مطالبہ کیا کہ حکومت نمک کی جھیلوں اور نمک سازی کے لیے لیز کی شرائط نرم کر کے مفت اراضی فراہم کرے اور سہولتیں دے تو نمک کی برآمدات 5 سال کی مختصر مدت میں ٹیکسٹائل کی مجموعی برآمدات سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ نمک کیمکلز‘ مصنوعات کی تیاری اور ادویات کے خام مال کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور صنعتی کیمیکلز کی ایک بڑی تعداد جس میں سوڈایش‘ سوڈیم‘ فارلک ایسڈ‘ فلوریک ایسڈ اور دیگر نمک سے ہی تیار ہوتے ہیں اور حکومت سہولتیں دے تو پاکستان نمک برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے۔

حب سا لٹ کی جانب سے کراچی میں سالٹ سیکریٹ کے نام سے باقاعدہ طور پر سالٹ روم کا قیام عمل میں لایاگیا ہے۔، سالٹ تھراپی کے ذریعے کمرہ نمک کے قدرتی ماحول میں نمک کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ مشہور طریقہ علاج مختلف بیماریوں خصوصاً سانس پھیپھڑوں فلور اور جلدی بیماریوں کے لیے موثر ہے۔ نمک سے علاج کا طریقہ کار یورپ میں سب سے پہلے پولینڈ میں شروع ہوا جہاں نمک کی بڑی بڑی کانوں کو ہسپتال میں تبدیل کردیا گیا جہاں مریض عام طور پر ایک ہفتہ گزارتے تھے اور ان کو فائدہ ہوتا تھا۔ نمک کے علاج کے مراکز اب بھی یورپ اور روس کے مختلف علاقوں میں قائم ہیں۔ حب سالٹ نے اس طریقہ علاج کوپہلی بار پاکستان میں متعارف کرایا ہے اور اس طرح سانس، پھیپھڑوں اور جلدی امراض وغیرہ میں مبتلا مریض ہزاروں ڈالر خرچ کر کے یورپ جانے کی بجائے پاکستان ہی میں علاج کرا سکتے ہیں۔ سالٹ سیکریٹ کے نام سے کمرہ نمک سے ہر طبقے اور ہر عمر کے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اس سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔ اس کے علاج کے لیے کم از کم ہفتے میں 3 بار 45 منٹ تک کمرہ نمک میں گزارنے سے علاج کے ساتھ ساتھ صحت اور تندرستی میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تھر پارکر میں معدنی وسائل و اربوں روپوں کی لاگت سے جاری کول منصوبوں،چائنا کلی و نمک فیکٹریز کی سی ایس آر پالیسی کو بالا تاخیر تھر کے لوگوں پر خرچ کروایا جائے۔ موجودہ حالات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چار صوبائی،دو قومی ممبران،صوبائی مشیرو سینٹرز موجود ہیں دیکھا جائے توتھرپاکر کے تمام نشستیں پی پی پی کے پاس ہونے کے بعد بھی صوبائی حکومت کے کرنے کے انتظامی وترقیاتی کاموں کے متعلق وفاق کے حوالے دے کر مورد الزام ٹہرانا یقینا یہاں کے عوام سے بڑی زیادتی ہے، معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق تھر واسیوں کا اگر ان وسائل سے ان کی زندگی نہیں بدلتی تو یہ سراسر زیادتی ہوگی۔

Comments

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی

مزمل احمد فیروزی بلاگر اور کالم نگار ہیں۔ انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی روزنامہ آزاد ریاست سے منسلک ہونے کے ساتھ شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */