غربت کا خاتمہ بذریعہ حلال ذرائع - سمیعہ گلِ شمیم

معاشرے میں غربت' اور اس کے روک تھام کے حلال ذرائع پر روشنی ڈالتا ہے مگر اس سے پہلے ضروری ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ غربت ہے کیا؟ اور اس کا معیار کیا ہے؟ غربت سے مرادکسی معاشرے یا انسان کی مادی ضروریات کی کمی کا ہو نا ہے۔مہنگائی کے سر مست ہاتھی نے آج غربت کے دائرہ کار کو بہت وسیع کر دیا ہے ۔
غربت اب صرف تیسری دنیا کی خاصیت ہی نہیں رہ گئی ہے بلکہ دوسری اورپہلی دنیا میں بھی غربت نے اپنے پاوٴ ں پھیلالئے ہیں اور وہ ممالک جو کبھی خوابوں کی سرزمین کہلاتے تھے یعنی امریکہ اوریورپ وہ بھی بے روزگار کی بڑھتی شرح اورغریبوں کی تعداد میں اضافہ سے پریشان ہیں۔گویاکہاجاسکتاہے کہ غربت کا بھی گلوبلائزیشن ہواہے۔

غربت کے حوالے سے اگر سر زمینِ پاکستان کی بات کی جائے تو بد قسمتی سے یہاں آنے والی کم و بیش ہر حکومت ہی نے اجتماعی فوائد کی بجائے ذاتی مفادات اور ذاتی تجوریوں کے بھرنے کے چکّر میں پاکستان کی زبوں حالی میں مزید اضافہ ہی کیا ہے ۔جو وطن ِ عزیز اسلام کے نام پر حاصل ہوا وہیں اسلامی احکامات کو کھلے عام پاوٴں تلے روندا گیا اور آج معاملہ یہاں تک آ پہنچا ہے کہ پاکستان غربت جیسی معاشرتی پستی شکار ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا غربت مکمّل طور پر ختم ہو سکتی ہے؟ اور اگر ختم ہو سکتی ہے تو اس کے کیا ایسے موٴثر اقدامات ہو سکتے ہیں جن کو اپنا کر معاشرے سے غربت کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ خدا کی بنائی دنیا ہے کہیں پہاڑ ہیں توکہیں کھائی،کہیں صحرا ہے تو کہیں دریا ۔ویسے ہی انسانوں کی دنیامیں کچھ لوگ مالدار اورکچھ لوگ غریب ہوں گے۔ اس کو بزور بازوختم نہیں کیاجاسکتا۔ جواباً اگر ہم خلیفہٴ دوم کے اس دور کو دیکھیں جہاں زکوٰۃ دینے والے تو موجود تھے مگر گردش ِ مال کا ایسا بہترین نظام تھا کہ زکوٰۃلینے والا کوئی نہ بچا تھا تو ہمیں اس سوال کا جواب ملے گا کہ جی ہاں معاشرے سے غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے اگرمال کی تقسیم کو موٴثر بنا دیا جائے۔لیکن مہنگائی کے بے لگام گھوڑے کو دیکھا جائے تو یہ امر مشکل نظر آتا ہے کہ معاشرے سے غربت کو ختم کیا جا سکے۔

غربت کا علاج کیسے ممکن ہو؟

یہ امر مسلّم ہے کہ غربت کو مکمل طورپر ختم نہیں کیاجاسکتا لیکن غربت کے بڑھتے تناسب کو ضرور کم کیاجاسکتاہے اوردولت کی گردش،وسائل پر قبضہ ،بازارپرگرفت کو چند افراد تک محدود ہونے سے روکاجاسکتاہے۔اسلام کا بھی مال کی گردش کا عمل اسی بات کی تعلیم دیتا ہے کہ مال چند مخّیر حضرات تک محدود نہ ہو جائے۔۔ اسلام کی راہ کمیونزم اورکیپٹل ازم دونوں سے الگ اورجدا ہے۔ یہ تو دولت کی منصفانہ گردش کی تعلیم دیتاہے اوربازار تک ہر شخص کی رسائی کو ممکن بنانا چاہتا ہے، علاج معالجہ کے لئے اسپتال ہر طبقہ کے لئے یکساں دستیاب کرنا چاہتا ہے۔اور چاہتا ہے کہ ہرشخص کسب حلال کرسکے ۔ ہرشخص محنت مزدوری کے ذریعےاپنے خاندان کی کفالت کرسکے۔ بیوی بچوںکا پیٹ بھرسکے اوران کو اگربہترمعیار زندگی نہ دے سکے توکم ازکم اتناضرور ہی دے سکے کہ وہ سفید پوشی کے بھرم کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔ انہیں کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرناپڑے اور ان تمام امور کی ادائیگی میں اس کی عزّتِ نفس مجروح نہ ہو۔

اسلام میں غربت کا حل:

سرمایہ دارانہ نظام یاپھرکمیونزم غربت کے حل کے جو نظام متعارف کر وا رہے ہیں وہ دو الگ الگ انتہائیاں ہیں ، درمیان کی اعتدال و میانہ روی کی راہ سرے سے ہی نظر انداز ہے۔جب اس قسم کا انداز متعارف ہوگا تو معاشرے کی جوصورت سامنے آئے گی وہ کچھ یو ں ہو گی کہ۔

غریبِ شہر ترستا ہے اک نوالے کو

اور امیرِ شہر کے کتّے بھی راج کرتے ہیں۔

لہذٰا اس افراط و تفریط سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی نظام کو رائج کیا جائے۔اسلام نے معاشرے میں دولت کی گردش رواں رکھنے کے لئے اور مال پر سے اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے کچھ نظام متعارف کر وائے ہیں ۔ ذیل میں ان کا تذکرہ موجود ہے ۔

۱۔نظامِ زکوٰۃ: ہر وہ شخص جو صاحبِ نصاب ہو اور جس کے پاس شرعی مال کی وہ مقدارہو جس پر زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے تو اب وہ شخص پابند ہے کہ مال پر سانپ بن کے نہ بیٹھے بلکہ سال میں ایک دفعہ اس مال کافقط ڈھائی فیصداللہ کی راہ میں زکٰوۃدے۔یعنی اگرکسی کے پاس ایک لاکھ روپے ہیں تو وہ ڈھائی ہزار اللہ کے راستے میں نکالے اورغریبوں ومسکینوں پر خرچ کرے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مال دیا کسے جائے تو اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں اور قرآن مجید کے سورۃ التوبہ میں بہت تفصیل سے واضح ہے۔

اس نظام ِ زکوٰۃ سے دو بنیادی معاشرتی فوائد حاصل ہونگے۔

۱۔ مال کی منصفانہ تقسیم ہوگی فرض کریں کہ کسی شخص کے پاس ایک کروڑ ہیں تو وہ ڈھائی لاکھ زکوٰۃنکالے گا۔اسی طرح جب پیسے کی مالیت بڑھے گی زکوٰۃبھی خود بہ خود بڑھے گی ۔ زکوٰۃ حاصل کرنے والے کو قلبی تشفّی حاصل ہو گی۔

۲۔ معاشرے کے لاچار افراد کی مدد ہو گی جب ہر ذمہّ دار صاحب ِ نصاب اپنے حصّے کی زکوٰۃ ادا کرے گا تو غریب ِ شہر دوسرے کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا ۔ہندوستان ، پاکستان اور دیگر ایسے کئی ممالک جہاں ترقّی کی راہیں ابھی مکمل طور پر نہیں ہموار ہیں اور مسلمان پسماندگی کا شکار ہیں ۔ ایسے ممالک میں اگر زکوٰۃکے نظام کو مضبوط بنا دیا جائے تو کیا مجال کہ کوئی غریب کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتا نظر آجائے۔

۲۔نظامِ خیرات: زکوٰة کے علاوہ اس کی بھی تاکید ہے کہ ہرمسلمان اپنی آمدنی میں سے کچھ رقم غریبوں اورمسکینوں کو دے، ان کی حاجت روائی کرے، ان کی ضرورت میں کام آئےقرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ان کے مالوں میں سائل اور محروم افراد کا حصّہ ہو تا ہے۔کسی کی مددکی سب سے بہترشکل یہ ہے کہ ان کو اپنے پاوٴں پر کھڑاکیاجائے یاتوانہیں قلیل مدت میں ایساہنرسکھادیاجائے جس کی وجہ سے وہ برسرروزگار ہوسکیں یاپھرانہیں کم ازکم اتنی رقم دے دی جائے جس کی وجہ وہ اپناکاروبار چھوٹے پیمانےپر شروع کر سکیں ۔
اللہ تعالٰی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے کہ: مفہوم" جو لوگ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے اور ہر بال میں سو دانے ہوں اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے ثواب میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے"( سورۃ البقرۃ آیت ۲٦۱)

۳۔نظامِ میراث: اسلام نے میراث کاایسا بے مثال نظام قائم فرمایا ہے کہ جس کی نظیر نہیں اور کتاب اللہ میں اس کے حقداروں کی پو ری تفصیل وضاحت سے بیان فرمائی ہے کہ اگرکسی فردکاانتقال ہوتاہے تواس کے اولین وارث کون کون ہوں گے۔ ان کی غیرموجودگی میں بقیہ کون کون وارث ہوں گے۔ واضح رہے کہ اسلام نے شوہر وبیوی کو بھی میراث میں حق دار بنایاہے۔ بیٹیوں کو بھی وراثت میں حصہ دیاہے۔ مرنے والے کے ماں باپ کو بھی حصہ دیاہے اورمرنے والے کو اختیار دیاہے کہ وہ اگرچاہے تو کسی کے حق میں تہائی مال کی وصیت کرسکتاہے۔

۴۔نظامِ اوقاف: اس نظام میں کسی ایسے فرد کا جس کے پاس مال کی فراوانی ہو یا اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا اپنے مال کو کسی ادارے یا مساجد و مدرسے یا کسی اور فلاح کے کام کے لئے وقف کر دینا ہے لیکن وقف کے لئے ضروری ہے کہ اس کی آمدنی کو واقف کی منشاء کے مطابق ہی خرچ کیا جائے۔

۵۔باہمی ایثار و محبت: یہ ایثار و محبت غربت کے خاتمے کے لئے بہت معا ون و مددگار ہو سکتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان و پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی راہ میں عوام کی ایک بڑی تعداد کا غربت کا شکار ہونا ممالک کی ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ اگر غربت کو جڑ سے ختم نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اس کے بڑھتے ہوئے تناسب کو کنٹرول کیا جائے۔اسلام کا معاشرتی نظام ایک بے مثال معاشرتی نظام ہے ۔اس میں انسانی زندگی کے جملہ مسائل کا حل موجود ہے جس میں گردش ِ مال کا نظام بہترین ہے۔ اوپر بیان کئے گئے تمام ذرائع پر اگر ذاتی مفادات کی لالچ سے نکل کر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جائے تو اس بات میں کوئی شک نہ ہو گا کہ معاشرے میں غربت کا تناسب بہت کم رہ جا ئے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */