راہِ نجات - ام محمد سلمان

بلال اور احمد دونوں دوست عصر کی نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلے تو چائے پینے کے ارادے سے ہوٹل چلے آئے۔ چائے کا آرڈر دیا اور ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے۔ کچھ دیر بیٹھے تو اندازہ ہوا برابر میں ایک میز کے گرد پانچ چھ نوجوان بیٹھے ہیں اور حالاتِ حاضرہ پر زبردست بحث چل رہی ہے۔ فرانس کے صدر کے جاہلانہ رویے، سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کے شائع کیے جانے کی مذمت اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے سلسلے میں ہر فرد بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا۔

رسول اللہ سے عشق و محبت کے دعوے اور ناموسِ رسالت پر جان چھڑکنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ ماحول کی گرما گرمی سے اندازہ ہو رہا تھا کہ بحث کافی دیر سے جاری ہے۔ موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہو تو ہر مسلمان کے جذبات قابلِ دید ہوتے ہیں۔ محبت و عقیدت روشنی کی کرن بن کر دل سے پھوٹتی ہے اور اردگرد کے ماحول کو بھی روشن و تابناک کر دیتی ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی تھا. لیکن محبت و غیرت کے بڑے بڑے دعووں کے باوجود کچھ تھا، جو نہیں تھا۔ ان نوجوانوں میں سے نماز کے وقت کوئی مسجد میں حاضر نہیں تھا، ان میں سے کسی کا لباس اور حال حلیہ شرعی تقاضوں کو پورا نہیں کررہا تھا۔ اندرونی معاملات کا حال خدا جانے مگر جو نظر آ رہا تھا وہ تسلی بخش نہیں تھا۔ دونوں دوست چائے پیتے ہوئے دھیان سے ان نوجوان لڑکوں کی گفتگو سن رہے تھے اور کچھ سوچ رہے تھے۔ چائے پی کر وہ ان کی میز کے قریب آئے، سلام کیا اور پھر مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت چاہی... نوجوانوں کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ انھوں نے بخوشی ان کے لیے جگہ بنائی۔ وہ بیٹھ چکے تو یہ سب ان دونوں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔

"میرے دوستو!! ہم کافی دیر سے آپ لوگوں کی گفتگو سن رہے تھے۔ ماشاءاللہ ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں! امتِ مسلمہ کو آج ایسے ہی جوش و جذبے کی ضرورت ہے۔" نوجوان یہ سن کر مسکرانے لگے۔

"دراصل مجھے ایک واقعہ یاد آیا تو میں نے سوچا چلیں آپ لوگوں کو بھی سناتا ہوں۔ پھر ہم اس واقعے پر کچھ سیر حاصل تبصرہ بھی کریں گے ان شاء اللہ... تو پھر کیا خیال ہے اجازت ہے؟"
"جی جی ضرور.. ارشاد فرمائیے!" نوجوانوں میں سے ایک بولا۔

"تو میرے دوستو!! واقعہ کچھ یوں ہے کہ:

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: کتنی عجیب بات ہے کہ تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یعنی جو شخص اپنے ہاتھوں میں سونے کی کوئی چیز پہنے گا وہ دوزخ میں چلا جائے گا۔ رسول اللہ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ اپنی انگوٹھی لے لو اور (اسے بیچ کر یا کسی کو ہدیہ کر کے) فائدہ اٹھا لو۔ اس نے جواب دیا اللہ کی قسم! نہیں! جس چیز کو رسول اللہ نے پھینک دیا ہو میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔ (مسلم) ۔

میرے دوستو! واقعہ آپ سب نے سنا. اب بتائیے آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں؟"

یہی کہ مرد کے لیے سونا پہننا حرام ہے۔ ایک نوجوان نے جواب دیا. دوسرے نے کہا کہ جو شخص بھی سونا پہنے گا وہ دوزخ کی آگ میں جلے گا۔ تیسرے نے کہا کہ مجھے ایک چیز نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے کہ مذکورہ صحابی نے دوسروں کی توجہ دلانے کے باوجود بھی اس انگوٹھی کو دوبارہ زمین سے اٹھا کر اپنے کسی بھی قسم کے استعمال میں لانا گوارا نہیں کیا۔ حالانکہ سونے کی انگوٹھی ایک قیمتی چیز تھی۔"بالکل یہی بات ہے میرے دوست! صحابہ کے اندر ایمان کی ایسی شمع روشن تھی جو باہر کی ہر چکا چوند کو ماند کر دیتی تھی۔ محبت و عشق کے دعوے محض دعوے نہ تھے بلکہ وہ ہر دم عمل کے میدان میں گامزن تھے۔" صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واقعہ ہمیں یہ سبق دے رہا ہے کہ ہمارے پیارے نبی نے جس چیز کو پسند نہیں فرمایا یا اس سے منع کیا تو ہم اسے ہرگز ہرگز نہ اپنائیں۔ اور ہمارے دلوں میں حضور کی ناپسند کی ہوئی چیز کے لیے ایسی ہی کراہت اور بے زاری ہونی چاہیے جیسی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں تھی۔

لیکن اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے عمل میں کتنے کھوٹے اور دعووں میں کتنے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔ ہم رات دن نعرے لگاتے ہیں کہ ناموسِ رسالت کی خاطر جان قربان کر دیں گے... "غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے" مگر کبھی یہ نہیں کہتے کہ غلامی رسول میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا بھی قبول ہے۔ غلامی رسول میں شرعی داڑھی رکھنا اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق لباس پہننا بھی قبول ہے! غلامی رسول میں شادی بیاہ سنت کے مطابق کرنا بھی قبول ہے۔ غلامی رسول میں نبی کا سچا امتی بن کے رہنا بھی قبول ہے! میرے دوستو! میرے بھائیو! میں آپ لوگوں پر طعن نہیں کر رہا بس حقیقت سے پردہ اٹھا رہا ہوں. آج ہم نے اپنے ہاتھوں اپنے دین کا تماشا بنا رکھا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین صرف ٹیڑھے میڑھے کارٹون بنانے سے ہوتی ہے!

نہیں میرے بھائیو!! میرے نبی کی شان میں گستاخی تو اس وقت بھی ہوتی ہے جب ہم ان کے حکموں پر اپنی خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب اذان کی آواز سن کر بھی ہمارے قدم مسجد کی طرف نہیں اٹھتے... جب ہمارے کاروبار جھوٹ، دھوکے اور سود پر چلتے ہیں... جب ہماری مجلسوں میں دوسروں کی عزت کے بخیے ادھیڑے جاتے ہیں... جب ہم جھوٹ چغلی اور غیبت سے اپنے دامن آلودہ کرتے ہیں... جب ہم اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں... جب ہماری خواتین بے پردہ ہو کر گلیوں اور بازاروں میں نکلتی ہیں... جب ہم آخرت کو بھول کر صرف دنیا کو اپنا متاع و مقصود بنا لیتے ہیں... جب رات رات بھر نا محرموں کے ساتھ چیٹنگ کرتے ہیں... جب اپنے جائز حق داروں کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں...!! کیا اس وقت ہم نبی کی شان میں گستاخی نہیں کررہے ہوتے؟؟؟ ہم نے کبھی سوچا... وہ ہمارے لیے کون سا اسوہ چھوڑ کر گئے اور ہم کس راستے پر چل رہے ہیں ....؟؟؟

جو جمالِ روئے حیات ﷺ تھا جو دلیلِ راہ نجات ﷺ تھا

اسی راہبر ﷺ کے نقوشِ پا کو مسافروں نے مٹا دیا

اذان کے بعد بھی مسجدیں خالی اور چائے خانے آباد ہوتے ہیں.. کیا اس وقت نبی کی شان میں گستاخی نہیں ہو رہی ہوتی...؟.

میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:"تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے مال اور اہل و عیال سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔" آج کیا ہے ہمارے پاس اپنے دعویٰ محبت میں پیش کرنے کے لیے؟؟ مال اولاد تو بہت بڑی چیزیں ہیں ہم تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی ہمیشہ اپنی خواہش نفس کو ترجیح دیتے ہیں!
ایک بار فرمایا:

"لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ".

"تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہشِ نفس میری لائی ہوئی تعلیمات کے مطابق نہ ہو جائیں۔" لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کبھی سوچتے بھی نہیں کہ اپنی جن خواہشات کو پورا کرنے کے لیے اندھا دھند بھاگے چلے جا رہے ہیں، اس بارے میں نبی کی تعلیمات کیا ہیں؟ اور اگر معلوم بھی ہو تو جب ان تعلیمات پر عمل کا موقع ہوتا ہے تب ہماری نبی سے محبت کہاں جا کر سو جاتی ہے؟؟ محبت کامل ہو نہیں سکتی جب تک اطاعت کا رنگ نمایاں نہ ہو!"

"بلال بھائی ! آپ کی ساری باتیں ٹھیک ہیں یہ سچ ہے ہم عمل اور کردار کے کھوٹے انسان ہیں مگر اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ جب کہیں کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو ہماری روحیں تڑپ جاتی ہیں۔ ہمارا بس نہیں چلتا کہ دشمن کی بوٹیاں نوچ کر کتوں کو کھلا دیں۔"

میں جانتا ہوں میرے بھائی! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں. آپ سب کو رسول اللہ سے بہت محبت ہے مگر جان لو کہ محبت، اطاعت کے بغیر ادھوری ہے۔ ان جذبات کو صحیح رخ پہ موڑنا ضروری ہے۔ محبت میں اطاعت نہ ہو تو یہ جھوٹی ہے، یہ نفس کا دھوکا اور شیطان کا بہکاوا ہے۔ سچی محبت وہ ہے جو عمل پہ ابھارے، زندگیوں کو بدل کر رکھ دے۔ جیسے صحابہ کرام کے اندر تھی۔ جنھوں نے اپنی پسند نا پسند اور ترجیحات کو نبی کی مرضی اور پسند کے تابع کر دیا تھا۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:

محمد کی غلامی دین حق کی شرطِ اول ہے

اگر ہو اس میں کچھ خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

میرے دوستو!! یاد رکھو اسلام کے دشمنوں کو سب سے زیادہ تکلیف مسلمانوں کے اسلام پر عمل کرنے سے ہوتی ہے۔ وہ ڈرتے ہیں اس دن سے جب مسلمان ایک سچا مومن بن کر میدانِ جہاد میں قدم رکھے گا اور ان کی دنیا ملیا میٹ کر دے گا۔ لیکن سچا مومن بننے کے لیے اسلام کو صحیح سیکھ کر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ دین کے بنیادی ارکان ہیں ان پر ہر صورت میں عمل ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ اپنا حلیہ مسلمانوں والا بنائیں۔ دور سے دیکھنے پر نظر آئے کہ واقعی یہ شخص محمدی ہے۔ اس کی زبان پر ہی نہیں دل میں بھی محمد ﷺ بستے ہیں۔ یہی راہ نجات ہے۔ اگر ہم دنیا و آخرت کی کامیابی چاہتے ہیں تو دینِ اسلام پر عمل کرنے کے سوا ہمارے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت میں فرمایا ہے :

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ۞

"اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بےشک بڑی مراد پائے گا۔"

اور دوسری جگہ فرمایا:

وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا ۞ (احزاب 36)

"اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلم کھلا گمراہی میں جا پڑا ۔"

اب فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے. ہمارا جو عمل بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی خلاف ورزی کرے گا وہ ہمیں جہنم میں لے جانے کا سبب بنے گا۔ بلال اور احمد اپنی بات مکمل کر چکے تھے۔ وہ سب دوست سر جھکائے کسی گہری سوچ میں تھے کہ مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی۔ مغرب کا وقت ہو چلا تھا۔ اور اب مسجد جانے والے بلال اور احمد ہی نہیں تھے بلکہ وہ سب بھی ان کے پیچھے مسجد کی طرف چل دیے تھے۔ جیسے دشمن کی معیشت کمزور کرنے کے لیے ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ضروری ہے بالکل ویسے ہی خود کو اور اسلام کو مضبوط کرنے کے لیے اسلام کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */