حریم شاہ بچی کا ریپ اور قتل ‎- بنت شیروانی

آج بچے اپنے کھلونوں سے کھیلنے میں مصروف تھے۔اور سعدیہ بھی گھر کے کام کرکے تھک گئ تو اس نے سوچا کہ ایک عرصہ ہوگیا ٹیلیویژن ہی نہ دیکھا ۔کہ روزمرہ کی اتنی مصروفیت تھی کہ وہ اپنے آپ کے لۓ وقت ہی نہ نکال پاتی تھی لہاذا وہ اپنی تھکن اتارنے کے لۓ ٹیلیویژن دیکھنے بیٹھ گئ ۔ابھی اس نے یہ کھولا ہی تھا کہ اس کی اسکرین پر چلتا ہوا منظر اس کی آنکھوں کو چھبتا ہوا محسوس ہوا۔

اس نے فورا چینل بدلا تو تیز میوزک والے اشتہار سے اس کے کان پھٹنے لگے،لہذا پھر نے لمحوں میں ریموٹ کا اگلا بٹن دبا دیا ۔اب وہاں اشتہار آرہا تھا اور وہ یہ چلتا اشتہار دیکھ ہی رہی تھی کہ اس کا بچہ آیا اور ٹیلیویژن پر نظریں جماتے ہوۓ پوچھنے لگا کہ امی یہ کس چیز کا اشتہار ہے؟؟؟؟اب تو اسے اتنی شرم آئ اور اس نے پوچھا ارے تم کب آۓ یہاں؟اس سے پہلے کہ وہ اس کا جواب دیتا اس نے ٹی وی کا بٹن ہی بند کر دیا اور اپنے سر کو پکڑتے ہوۓ بیٹھ گئ۔کہ وہ تو اپنی تھکن اتارنے کے لۓ اسے دیکھنے بیٹھی تھی لیکن یہاں تھکن کیا اتری بلکہ شرم و حیا کی دھجیاں اڑاتے سین کو اپنے پاکستانی چینلز پر چلتا دیکھ کر اس کی مزید ہی بڑھ گئ تھی۔

اب وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور قریب ر کھے جھولے نما کرسی پر آکر بیٹھ گئ کہ تھوڑے سکون کی حالت میں آۓ۔کہ اتنے میں قریب رکھے موبائل کی اسکرین پر آیا میسج نمودار ہوا۔اس نے آنکھیں موندھتے ہوۓ اسے اٹھایا تو اس میں دو سالہ بچی حریم شاہ کے ریپ اور قتل کی خبر تھی۔جسے پڑھ کر وہ کپکپا گئ۔غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہوئ تو ساتھ ہی دکھ بھی ہوا کہ آج دو سالہ بچی بھی محفوظ نہیں؟؟؟؟اور پھر اس کی نظروں کے سامنے وہ چند منٹوں پہلےاسکرین پر چلتے ہوۓ وہ تمام مناظر آگۓ۔کہ جس میں نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکانے والے مناظر تھے تو فحاشی و گندگی بھی تھی۔

اور پھر اسے لگا کہ اس بچی کے ساتھ یا اس جیسی اور بچیاں چاہے زینب تھیں یا باقی تمام۔ان کے ساتھ ہونے والی درندگی میں یہ میڈیا بھی ذمہ دار ہے۔کہ جسے لگام دینا از حد ضروری ہوگیا ہے۔اور اس کے ساتھ ہمیں اپنے کلچر میں نکاح کو آسان بنانا بھی فرض ہوگیا ہے۔جو کہ اہم کردار ادا کرے گا ان بڑھتی ہوئ درندگی کو روکنے میں ۔اور ساتھ ہی دوپٹوں کو ،اپنی اوڑھنیوں کو طریقہ سے پھیلا کر سینوں پر پہننے کو فروغ دینا ہوگا کہ ان تیزی سے بڑھتے واقعات کی روک تھام میں بحیثیت ایک عورت میں بھی اپنا کردار ادا کر سکوں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */