صرف شدید رد عمل کا اظہار ہی کافی نہیں - حبیب الرحمن

گزشتہ دنوں جو کچھ اسمبلی میں پاکستان آرمی اور خصوصاً آرمی چیف کو مخاطب کرکے کہا جاتا رہا ہے اس پر اگر آرمی کی جانب سے رد عمل نہ آتا تو ایک بہت ہی حیرتناک بات ہوتی کیونکہ اسمبلی میں جو کچھ بھی اور جس انداز و لب و لہجے کے ساتھ کہا گیا وہ کسی بھی طرح مناسب نہیں تھا۔ چنانچہ پاک فوج کے ترجمان نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے نہایت واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ "سیاسی بیانات پر فوج میں ہر سطح پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے، آرمی چیف نہیں پوری فوج کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کو کسی اور طرح سے جوڑنا افسوسناک اور انتہائی گمراہ کن ہے، قومی سلامتی سے منسلک تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، یہ چیز کسی بھی پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں۔ منفی بیانیے کے قومی سلامتی پر براہ راست اثرات ہوتے ہیں، یہ بیانیہ بھارت کی ہزیمت کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جس کا دشمن بھرپور فائدہ اٹھا رہاہے اور اس کی جھلک آج بھارتی میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے"۔ ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ "ریکارڈکی درستگی کے لیے کہتا ہوں کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، دشمن کے جہاز جو بارود پاکستان کے عوام پر گرانے آئے تھے، ہمارے جوانوں کو دیکھتے ہی بد حواسی میں خالی پہاڑوں پر پھینک کر بھاگ گئے، اس کے جواب میں افواجِ پاکستان نے قوم کے عزم و ہمت کے عین مطابق دشمن کو سبق سیکھانے کا فیصلہ کیا، دشمن اتنا خوفزدہ ہوا کہ بد حواسی میں اپنے ہی ہیلی کاپٹر اور جوانوں کو مار گرایا، اِس کامیابی سے نہ صرف بھارت کی کھوکھلی قوت کی قلعی دنیا کے سامنے کھلی بلکہ پوری پاکستان قوم کا سر فخر سے بلند ہوا اور مسلح افواج سرخرو ہوئیں"۔

ایک تو یہ بات ابھی تک کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آ سکی کہ واقعے کو ایک اچھی خاصی مدت گزر جانے کے بعد دوبارہ کیوں اٹھا یا گیا، وہ بھی اسمبلی کے فلور پر اور وہ بھی دشمن کی ایک اور مدرسے پر تخریب کاری کے بعد اور وہ بھی براہِ راست آرمی چیف کو کسی کمزوری کی تصویر بنا کر۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ادارے ایک دوسرے پر ہلکی پھلکی تنقیدیں کرتے ہی رہتے ہیں اور اگر وہ مثبت تنقیدیں مناسب الفاظ کا سہارا لیکر کریں تو اس سے تضحیک کی بجائے اصلاح کی کئی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ جائز کمزوریوں کی نشاندہی اگر نا مناسب الفاظ کا چناؤ کرکے کی جائے تو جب اس کو ہی تسلیم کر لینا ممکن نہیں رہتا تو ایسی تنقید جس میں نہ تو لہجہ مناسب ہو، نہ ہی الفاظ کا چناؤ ٹھیک ہو اور نہ ہی تنقید میں بیان کردہ باتیں سچائی رکھتی ہوں تو ایسی باتوں کو سننے والا کوئی فرد بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا آرمی کی جانب سے ان باتوں پر شدید رد عمل آنا بہر لحاظ ضروری تھا تاکہ دشمنانہ انداز میں کہی جانے والی بات کی نہ صرف تردید کی جائے بلکہ اگر کسی معصوم اور سادہ ذہن میں کہی جانے والی باتیں کسی کو بد گمان کر گئی ہوں تو اس کو صاف بھی کیا جا سکے۔

بے شک آرمی کی جانب سے وضاحت کا آنا ضروری بھی تھا اور وضاحت بر وقت آ بھی گئی لیکن میرے نزدیک صرف وضاحتوں کا آجانا ہی کافی نہیں۔ ایک تو یہ بات ہے کہ اسمبلی یا کسی بھی فورم پر ایسی باتیں کوئی پہلی مرتبہ تو سامنے نہیں آتی رہیں یا پاک آرمی پر کبھی ڈھکے چھپے انداز میں اور کبھی کسی بھی ملمع سازی کے بغیر ایک طویل عرصے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ موجودہ وزیر آعظم سمیت پاکستان کے ہر سیاسی و مذہبی رہنما کی جانب سے نہ صرف پاکستان کے اندر بلکہ پاکستان سے باہر بھی، آرمی اور آئی ایس آئی کا نام لیکر بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کے ریٹائرڈ ہوجانے والے افواج پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار بھی بہت سارے معاملات میں اپنی ہی افواج کے ملوث ہونے پر بیانات دیتے رہے ہیں۔ ان سب بیانات کی وجہ سے دنیا کے اکثر با اثر حلقوں میں باتیں بھی بنائی جاتی رہی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جب پہلے پہلے بیانات آنے شروع ہوئے تھے، خواہ وہ کسی کی بھی جانب سے تھے، اگر بروقت کارروائیاں سامنے آتی رہتیں تو یہ دائرہ پھیلتے پھیلتے اتنا وسیع کبھی نہیں ہوپاتا کہ ہر عام و خاص جب چاہے پاکستان آرمی کو تنقید کا نشانہ بنانے کی ہمت کرلے۔

ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ گزشتہ دنوں اسمبلی میں اور پچھلے چند ہفتوں سے پی ڈی ایم کے جلسوں میں جو کچھ زہر اگلا جا رہا ہے، ان سب کے خلاف سخت ترین ایکشن لینے کے بعد، آرمی کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔پاکستان میں سب سے زیادہ آرمی کو نشانہ بنانے والا بانی ایم کیو ایم تھا۔ اس کے خلاف جو کچھ ہوا، قوم نے اس کو شدت سے سراہا۔ اگر وہی سب کچھ یا اس سے بھی کہیں بڑھ کر پاکستان کا، بشمول موجودہ وزیر اعظم یا کوئی بھی بڑا چھوٹا سیاسی رہنما، پاکستان یا دنیا بھر میں کہنے کے بعد، اسمبلی میں، اقتداکی کرسی پر، عوام کے درمیان یا ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کی زینت بنا نظر آتا ہے اور آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہا ہے تو پھر پاکستان اور بھارت ہی میں کیا، پوری دنیا میں نظام عدل تو حرف تنقید کا نشانہ بنایا ہی جائے گا۔ لہٰذا آرمی چیف ہوں، ان کے ترجمان ہوں یا خود حکومت پاکستان، ان سب سے گزارش ہے کہ اللہ کے واسطے کسی بھی لحاظ کے بغیر سب کے خلاف وہی کچھ کر گزرا جائے جو بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیا جا چکا ہے ورنہ صرف ہنگامی پریس کانفرنسوں کے ذریعے شدید رد عمل کا اظہار کر دینے سے مغلظات کے ان سونامیوں کو نہیں روکا جا سکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */