فرانس کا دوغلا منافق چہرہ - محمد بلال

آپ انسانیت اور بنیادی حقوق انسانی کا راگ الاپتے رہیں تو ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ دنیا کا مہذب چہرہ ہیں۔ اس مہذب چہرے کے پیچھے چھپ کر آپ چاہے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں انسانوں کو موت کی نیند سلا دیں تو بھی انسانیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک آپ فرانس کی حربی تاریخ دیکھ لیں تو آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ فرانس کا یہ رخ کس قدر سرخ ہے۔ اور یہ سرخی زندگی سے نہیں ملی بلکہ مختلف ملکوں کے لوگوں کا قتل کر کے ملی ہے۔ امن، آشتی، تہذیب اور سیکولرازم کے نام پہ اس ایک ملک نے جتنا خون بہایا ہے، ایک عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ہم بیسویں صدی، انیسویں صدی یا اٹھارہویں صدی کا ذکر بالکل نہیں کرتے۔ ہم موجودہ صدی یعنی اکیسویں صدی میں فرانس کے جنگی جنون کا ذکر کر لیتے ہیں۔

پچھلے بیس برس میں فرانس نے کم از کم چودہ ممالک کے خطوں میں اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں اور ان ممالک کے لوگوں اور حکومتوں کی مرضی کے خلاف بھیجے ہیں۔ جہاں فوجی دستے جنگ کی نیت سے جائیں وہاں پھر انسانوں کی لاشیں ملتی ہیں۔ ان کے جسموں کے پرخچے اڑتے ہیں۔فرانس نے اب تک کورسیکا، باسک، افغانستان، ایوری کوسٹ، ہیٹی، چاڈ، صومالیہ، نائجیریا، لیبیا، مالی، سینٹرل افریقن ریپبلک، عراق، شام میں وسیع پیمانے پہ جنگی کارووائیاں کی ہیں مگر آج بھی فرانس دنیا کے مہذب چہروں میں سے ایک ہے۔

تہذیب کے نام پہ، حقوق انسانی کے نام پہ آپ جتنے مرضی جیتے جاگتے انسانوں کو ذبح کر دیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگر جیسے ہی کوئی نبی مکرم ص کے خاکے بنا کر ان کی تشہیر کرنے پہ احتجاج کرے یا اضطراب کی حالت میں زور بازو سے بھرپور احتجاج کر لے تو اسلام پرتشدد مذہب بن جاتا ہے۔ اور ایسے چند ایک واقعات کی بنیاد پہ سارے کا سارا عالم اسلام بیک فٹ پہ آ جاتا ہے۔ اور دلیلیں دیکر دنیا کو مطمئن کرنے کی فکر میں پڑ جاتا ہے۔

ان قاتل ممالک نے جب جی چاہا جہاں جی چاہا انسانیت کے چیتھڑے تک اڑا دئیے مگر آج تک کبھی کسی نے ان کو اپنے کرتوتوں پہ شرمندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ مختصر بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کے تمام سربراہ بے فیض لوگ ہیں، بھنگ پی کر سو رہے ہیں اور اقتدار کے بھوکے ہیں۔ ان کو اپنی حرص و ہوس سے فرصت نہیں ملتی کہ یہ امت مسلمہ کا مقدمہ اچھے طریقے سے لڑ سکیں۔ اور جب تک یہ ایسی حالت میں امت پہ مسلط رہیں گے تب تک امت مسلمہ کے مقدر میں یونہی مطعون ہونا ہی باقی ہے۔

غیرت بڑی چیز ہے جہان تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاج سر دارا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */