انقلاب ِ محمدی ﷺ عصر ِحاضر کے لیے بہترین نمونہ - خنساء سعید

پچھلی کئی صدیوں سے اس دنیا نے بہت سے انقلابات اپنی آنکھوں سے دیکھے جس میں راب سپئیر کا انقلاب فرانس، روسو اور والٹیئر کا آزادی کا انقلاب،ان کا نتیجہ کیا ہوا یہ انقلابات اپنے ہی بچوں کو زندہ نگل گئے۔ گلوٹین کلچر کا آغاز ہوا اور ایک عرصے تک انصاف کی گردن کاٹتا رہا۔ یہ بدترین انقلاب سب کو نگل گیا۔ لاکھوں جانیں جانے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ انقلاب ہی نا مکمل تھا جس کو نپولین بونا پارٹ کی فوجی آمریت نے کچل کر رکھ کر دیا۔ لینن کا انقلاب، اس میں لاکھوں روسی قتل ہوئے۔ تاریخ کے اوراق اس کی قتل و غارت سے سرخ ہوگئے۔اس انقلاب کو سرخ انقلاب کا نام دیا گیا۔ کیوبا کا انقلاب ،جنوبی امریکی ممالک میں چے گویرا کی یلغارغرض جیسا بھی انقلاب ہو، انقلاب کے نام پر لاکھوں جانوں کا خون بہایا گیا۔ ان تمام تر انقلابات میں وہ لوگ بھی مارے گئے جو انقلاب کے نعرے سے واقف بھی نہ تھے۔

مگر ایک ایسا انقلاب جس نے کائنات کے ذرے ذرے کو روشن کر دیا۔ جو اس دنیا میں موجود تمام تر حکومتوں کے لیے تما م تر انسانوں کے لیےایک بہترین نمونہ ہے۔یہ ایک ایسا انقلاب ہےجس میں کسی ایک بے گناہ کا خون بھی نہ بہایا گیا۔ اس انقلاب کی داستان کچھ یوں ہے۔ ساتویں صدی قبل مسیح میں یہ انقلاب عرب کی سر زمین سے نمودار ہوا اور اپنے مثبت اثرات پوری دنیا کو دکھاتا ہوا قیامت تک اس دنیا میں موجود سب انسانوں کے لیے مشعل راہ بن گیا۔ ساتویں صدی قبل مسیح سر زمین عرب پر وحشت کی رات چھائی ہوئی تھی۔ تمدن کی صبح ابھی تک جلوہ گر نہیں ہوئی تھی ،ہر طرف ایک انتشار تھا ،انسان اور انساں کے درمیان ایک تصادم تھا ،جنگ و جدل اور لوٹ مار کا دور دورہ تھا ،شراب اور جوئے سے ترکیب پانے والی جاہلانہ ثقافت زوروں پر تھی ،قریش نے مشرکانہ مذہبیت کے ساتھ کعبہ کی مجاوری کا کاروبار چلا رکھا تھا۔سود خوری عام تھی، کمزوروں کو غلام بنا کر رکھا تھا ،بیٹی کو پیدا ہوتے ہی دفن کر دیا جاتا تھا ،آپس میں ذرا ذراسی بات بات سال ہاسال کی دشمنی کا آغاز کیا جاتا ،فتنہ و فساد ،لوٹ کھسوٹ ،بغض و حسد ،زنا و سرقہ ،ظلم و تعدی کا بازار سر گرم تھا۔ پورے کا پورا معاشرہ ذہنی انحطاط اور فکری انتشار کا شکار تھا۔ غرض ہر طرح کی معاشی، معاشرتی برائیاں عا م تھیں۔

ایسے میں دنیا کا سب سے بڑا ہادی ،لازاوال انقلاب برپا کرنے والا ،سب انسانوں سے بر گزیدہ انسان مبعوث ہوا۔ جس کی جبین تابناک سے نور حقیقت کی شعاعیں نکل رہی تھیں۔ جس کے جاہ و جلال کو دیکھ کر کسری و قیصری کے تحت لرز گئے ،استبداد و استعمار کی زنجیریں کٹ گئیں ،رنگ و نسل کی تمیز مٹ گئی ،انسانیت کا کھویا ہوا وقار بحال ہوا، دکھی انسانیت نے سکھ کا سانس لیا ،انصاف کی باد ِ صبا چلنے لگی ،دنیا کے سب سے بڑے مبلغ اور داعی کی تعلیمات نے انسان کو بدل کر رکھ دیا۔ ظاہر وباطن نے ایک ہی رنگ اختیار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی تعلیمات سے خیالات بدل گئے، عادات و اطوار بدل گئے، نگاہ کا زاویہ تبدیل ہو گیا، رسوم و رواج بدل گئے ،حقوق و فرائض کی تقسیم ،خیر و شر کا معیار ، حلال و حرام کے پیمانے سب بدل گئے۔ دستورو قانون بدل گئے ،جنگ و صلح کے اسالیب بدل گئے ،معیشت ،معاشرت ،تمدن غر ض ایک ایک ادارے اور ایک ایک شعبے کی کی کایا پلٹ گئی۔

دنیا کا یہ پہلا انقلاب جس میں صرف اور صرف خیر و فلاح نظر آئی کسی گوشے میں کوئی شر باقی نہ رہا ،کسی کونے میں کوئی فساد ، بگاڑ ، الجھن کچھ باقی نہ رہا۔ ہر طرف بناؤ ہی بناؤ، تعمیر ہی تعمیر ، ارتقاء ہی ارتقاء ،اور محبت ہی محبت عام ہو گئی۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس تیس سالہ انقلاب نے صرف امن ہی امن کا درس دیا۔رسول انسانیت صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے عطا کردہ انقلاب کا بغور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ کتنی جانیں تلف ہوئیں، کتنی عصمتیں تار تار ہوئیں ،کتنے گھروندے خاکستر ہوئے ،کتنے شہر جلے ، کتنا مال و اسباب لٹا ، آپ کی نگاہ بے سود واپس لوٹ آئے گی۔

آج عصر ِحا ضر کے انسان نے انقلاب ِ محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو فراموش کر دیا اور یہ ہی وجہ کہ آج امت مسلمہ کی فضا سسکیوں سے معمور ہے۔ ہماری بے حسی اور بے بسی نقطہ عروج کو چھو رہی ہے۔ امت ِ مسلمہ نے غلامی ِ رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو بھلا کر دنیاوی مفاد کی خاطریہود و نصاری کی غلامی کا پٹکا اپنے گلے میں ڈال رکھا ہے۔ آج ہم نسخہ کیمیا کا دیا ہوا درس بھلا کر جشن ولات خیر الوری منا کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم آقا کےغلام ہیں اور ہم نے اس غلامی میں اپنے سارے فرائض ادا کر دیے ہیں۔ ہم ربیع الاول کے مہینے میں محلوں ، گلیوں اور اپنے گھروں کو چراغاں کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سچے عاشق ِ رسول ہیں۔ ہمیں محفل میلاد منعقد کر نے والوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ جب تک ہم والی مدینہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے اُسوہ کو اپنا شعا ر نہیں بناتے، جب تک ہم اپنے دلوں کو طاغوتی طاقتوں کی گرفت سے آزاد نہیں کراتے ،جب تک ہم واعتصموا بحبل اللہ کابھولا ہوا سبق یا د نہیں کر لیتے ،جب تک ہم انقلاب محمدی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو اپنے لیے بہترین نمونہ نہیں بنا لیتے تب تک ہم مسلمان نا کام ہیں۔

آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان باہمی نفرتیں ختم ہو جائیں ،نا اُمید ی شکست خوردگی کا نام ا نشان نہ رہے ،احساس ِ کمتری جیسی مہلک بیماری سے مسلمانوں کو نجات مل جائے ،اگر ہم چاہتے ہیں کہ تمام سماجی ،معاشی ،اقتصادی ،معاشرتی برائیوں کا خاتمہ ہو جائے ،اور ہم مسلمان بحیثیت قوم ساری دنیا کو فتح کر لیں تو ہمیں امن کے مسیحا سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا وہ ہی تعلیمات جنہوں نے اس دنیا کا سب سے بڑا ،لازوال اور عظیم ترین انقلاب بر پا کیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */