آٹو میٹک - ڈاکٹر طاہرہ بشیر سلہریا

آن لائن کلاسیں جاری وساری ہیں۔والدین کو پیاری تو بچوں پر بھاری ہیں۔ صبح سویرے اٹھنا گو ایک مشکل مرحلہ ہے۔مگر روز وہی اماں کی چیخ وپکار، اور جوابا بچوں کی" بس پانچ منٹ اور " کی تکرار اسی تواتر سے دہرائی جاتی ہے۔

بچوں کو پڑھائی کے لیے بٹھاتے ہی گھر کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ وقتا فوقتا ہر کمرے میں چھاپے مارے جاتے ہیں۔ پڑھائی پر توجہ کی یاد دہانی کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کروانا ضروری ہوتا ہے کہ سکول کے جاری کردہ جدول کے مطابق امتحانات تک سکول کھل جائیں گے۔اور اونچی آواز میں دل کی گہرائیوں سے ان شاءالله کہنا نہیں بھولتی۔
24 گھنٹے کی ڈیوٹی پر معاملہ گڑ بڑ ہو جاتا ہے۔

ہسپتال سے متعدد بار فون کر کے تسلی کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ سب کچھ اوقات مقررہ پر ہو رہا ہے۔

آخری ڈیوٹی پر حسان نے فون اٹھایا اور میری آواز سنتے ہی بولا۔۔۔۔۔۔اللہ میرا بھلا کرے۔ میں نے مسکراتے مگر بے چینی سے پوچھا کہ صاحب زادے کلاسز کے لیےکس وقت اٹھے تھے۔

حسان کی فخر سے لبریز آواز آئی۔۔۔۔ماما جی ،فکر نا کریں۔میں آج manually نہیں اٹھا بلکہ آٹومیٹک ہی اٹھ گیاتھا۔
چند ثانیے اس کی بات کا مطلب سمجھنے کو درکار تھے اور چند منٹ اس پر ہنسنے کے لیے۔

حسان خفا ہو گئے کہ میں اس کا مذاق اڑا رہی ہوں جبکہ میں اس کی خود اعتمادی اور خود انحصاری پر خوش ہو رہی تھی۔
میں نے فی الفور بات کا رخ بدل کر حکم صادر کیا کہ گھر کے لیے دیے گئے کام کی تصویر کھینچ کر فورا بھیجو۔ حسان جانتا تھا یہ بھی چھاپے کی ایک قسم ہے ۔اس کے منمنانے پر میں نے کہا۔۔۔۔گھر کا کام آٹومیٹک نہیں ہوتا اسے manually ہی کرنا پڑتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */