عید میلاد النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے پُر مسرت موقع پر اُمت کے نام پیغام - سید غلام محی الدین

اس وقت حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اُمت کے موجودہ حالات سے یقینًا راضی نہیں ہونگے اور نہ ہی اللہ کی ذات راضی ہو گی. تو پھر ہمیں غوروفکر سے کام لینا چاہیے. کہ اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں اور وہ ہمیں کس حال میں دیکھنا چاہتے ہیں.

بحثیتِ اُمت ہماری ذمہ داری کیا ہے ؟

1 - بین الاقوامی حالات کے تناظر میں سب سے پہلا اور اہم ترین نکتہ اور اِس میلاد النبی صل اللہ علیہ والہ وسلم کا پیغام ہے اتحادِ اُمت.اللہ اور اسکے رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم یقیناً اپنی اُمت کو مُنتشر اور مُتفرق حالت میں نہیں دیکھنا چاہتے اور نہ ہی اس کیفیت سے راضی ہیں. ہمیں ملتِ واحدہ کی صورت اختیار کرنی چاہیے اور چھوٹے چھوٹے فروعی مسائل میں اُلجھ کر ایک دوسرے سے فاصلے نہیں بڑھانے چاہیے. وسعتِ قلب و نظر کے ساتھ اور تحمل و بُردباری کے ساتھ ایک دوسرے کو گلے لگانا چاہیے اور فرقہ وارانہ تعصبات کی عینک اتار کر ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے. اختلافِ رائے ضرور کریں مگر وہ علمی انداز میں ہونا چاہیے تصادم کی راہ سے گُریز کرنا چاہیے. اختلافِ رائے اگر علم کی بنیاد پر ہو تو وہ تحقیق و بصیرت کا باعث بنتا ہے مگر تصادم ہرگز نہیں ہونا چاہیے. اس سے نفرتیں اور تفرقہ پیدا ہوتا ہے. اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں :

" وَاعْتٰصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا "

" اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقوں میں مت پڑو "

تمام آئمہ مُحدیثین اور مُفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ کی رسی سے مُراد قرآنِ مجید ہے. اس آیت میں قرآنِ مجید سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے اور جمعیت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تفرقہ پیدا کرنے سے روکا گیا ہے.

لَا تَفَرَّقُوْا فرما کر اللہ تعالیٰ نے ہر اُس عمل اور فکر سے منع فرما دیا جس سے تفرقہ کی راہ ہموار ہوتی ہے خواہ اسکی بنیاد کوئی بھی ہو اسلام کے مزاج میں ہی یہ بات نہیں ہے. لسانی, علاقائی, نسلی, مذہبی ہر طرح کے تفاخر اور امتیازات و تعصبات کی نفی کرکے اتحاد کی فضا پیدا کرنے کا حکم ہے.

بقول اقبال :

نہ ایرانیم نہ ترک و تتاریم

چمن زادیم و ازیک ساخساریم

تمیز رنگ و بو برما حرام است

کہ ماپروردہء یک نو بہاریم

2 - حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اُمت کو اقوامِ عالم کی صفوں میں صفِ اوّل میں دیکھنا چاہتے ہیں آج ہم بد قسمتی سے اقوامِ عالم میں اپنا کوئی بھی مقام پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے. علم و ہنر, صنعت و حرفت, سائنس, ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور دیگر اقوام ہم سے بہت آگے نکل گئی ہیں. ہمیں دورِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے اور پھر اپنے آپ کو جدید علوم و فنون سے آراستہ کرنا چاہیے.اور ہر میدان میں کامیابی حاصل کر کے دُنیا کی امامت کرنی چاہیے ایک وقت تھا جب پوری دنیا علم و ہنر اور جدت کے لیے ہماری طرف دیکھتی تھی. ہر علم اور فن میں ہم دنیا کی پیشوائی کرتے تھے. آج وہ تمام علوم و فنون اور تمام اعلٰی اقدار و اخلاق ہم میں موجود نہیں ہیں. ملوکیت نے ہمارا بُرا حال کر دیا ہے ہمیں واپس پلٹنا چاہیے علم و تحقیق کی راہ اختیار کرنی چاہیے. حضور اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اُمت کو اس علمی و فکری زبوں حالی میں نہیں دیکھنا چاہتے. ضرورت اس بات کی ہے کہ اُمتِ مُسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اُٹھ کھڑی ہو اور دورِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرے. اپنے آپ کو اَپ ڈیٹ اور ایجوکیٹ کرے. بقول اقبال :

سبق پھر پڑھ عدالت کا صداقت کا شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

3 - حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اُمت کو جو نظامِ خلافت و مرکزیت عطا کرکے گئے تھے آج اُسکی بحالی دیکھنا چاہتے ہیں. خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ کرنے کی ضرورت ہے جو اسلام نے نظامِ حکومت دیا ہے حضور صل اللہ علیہ والہ وسلم اسکی بحالی چاہتے ہیں. اِن چھوٹی چھوٹی اور سطحی باتوں سے نکل کر شعارِ اُمت اپنے اندر پیدا کریں اوراسلامی ممالک آج وقت کی پُکار کو سمجھیں. آج اُمت کو جو مسائل درپیش ہیں ہم اُن سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے اگر ہم صرفِ نظر کرینگے تو اس میں میرا نقصان نہیں, تیرا نقصان نہیں, کسی ایک فرقے, کسی ایک جماعت یا کسی گروہ کا نقصان نہیں بلکہ اُمت کا نقصان ہے .

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */