خاندان کو مضبوط کیسے کریں - عظمیٰ عمران

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خاندان کی بنیاد تو فرد کا فرد سے تعلق ہی ہے.... بہترین فرد وہ ہے جو بہترین خاندان کو تشکیل دے اور یہی خاندان بہترین معاشرہ بناے گا... اور اچھے معاشرے ہی اچھی تہزیب کی تخلیق کرتے ہیں..... لہذا خاندان کا ادارہ جتنا مضبوط ہو گا اتنا مضبوط اور خوشحال معاشرہ تشکیل پائے گا.

▪️پرانے زمانے میں تو خاندان ہی اتنے وسیع ہوتے تھے کہ قبیلوں کی شکل اختیار کر لیتے... اس کے ساتھ ساتھ گھر اور دل بھی وسیع ہوتے تھے..... لیکن مادہ پرستانہ دور کی خرابیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ روٹی میں شرکت گوارا نہیں... خواہ اس کے لیے والدین کو چھوڑنا پڑے، خواہ اولاد کو وجود میں نہ آنے دیا جائے.. لہذا سکڑتے سکڑتے خاندان اپنے نسبی اور صھری رشتوں سے بھی کٹ گئے ہیں....

▪️اس مادیت پرستی کا ایک مظاہرہ یہ بھی ہے کہ قناعت ختم ہو گئی ہے اور "تکاثر" کی دوڑ لگی ہوئی ہے.... جہاں قناعت نہیں ہو گی وہاں ہوس ہو گی.... ہوس زدہ شخص کہاں خاندان کی مضبوطی کو ترجیح میں رکھ سکتا ہے.... اس کا تو اول و آخر مطمح نظر ہی "ھل من مزید" ہو گا..

▪️جو عادات اور اخلاق کی خوبی، جو اعلی'ظرفی ہمارے بزرگوں میں تھی.... گھر میں کسی کے آ جانے پر خوش ہونا، رکنے پر اصرار کرنا، باہر تک چھوڑ کر آنا، جو بہترین کھاناکھلایا جا سکے... وہ کھلانا،....... نہ صرف آنے والے کا احوال جاننا بلکہ اس کے سب متعلقین کا احوال دریافت کرنا، یہ چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں..... روایات ہیں.... اقدار ہیں....... جو ہمارے بزرگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئ تھیں........ ہم میں کم ہو گییں اور ہماری اولادیں ان سے نابلد نظر آتی ہیں....... اب کسی سے گفت وشنید ہی نہ ہو گی تو کیا کسی دوسرے کے احساسات کا خیال ہو گا.... جب کہ ہمارے نبی ص کا فرمان تو یہ ہے کہ بڑوں کی عزت اور چھوٹوں سے شفقت ہو..

▪️معاش کے چکر نے اور معیار زندگی کی بہتری نے عورت کو گھر سے نکال کر دفتر میں بٹھا دیا ہے...... اس نے اسے مشین بنا دیا ہے..... بے چاری دوہری ذمہ داریوں کا شکار اور اس پر طرَّہ یہ کہ خود کو بے چاری بھی نہ سمجھے......... بلکہ.... ہے جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا..... کا شکار ہے ایک خاتون کے بارے گزشتہ دنوں پتہ چلا کہ تعلیم میں شوہر سے بہتر، کمانے میں بہتر، جاب میں بہتر ہیں.... ان سب کا غرور اتنا کہ شوہر کے بجاے پالتو کتے کو ساتھ سلانے کو ترجیح دیتی ہیں...... ڈپریشن کی دوا لیتی ہیں.... اور ہمارے پاس خوشی اور سکون کا فارمولا دریافت کرنے آئیں تھیں..... ھن لباس لکم ولکم لباس لھن.... کی کوشش ہی نہیں کی گئ کہ "لباس" (شوہر ) کم حیثیت ہے...... یہ غرور کہ میں خود کما لوں گی.... اپنا بوجھ خود اٹھا لوں گی.... خاندانوں کو بسنے ہی نہیں دیتا......

▪️ایک دور تھا کہ محبت بھی آدب آداب سے کی جاتی تھی..... ڈھکی چھپی..... میٹھی میٹھی.... طلب اور خواہش ایک دائرے میں.... اس کا اپنا مزا تھا...... اب دور یے "تو" تکار کا..... "یار" کا.... جو بے ادبی کرے... غصہ کرے..... وہی محبت کی ادا ٹھہرے.... عزت تو مانوں رخصت ہی ہو گئ..... حیراں ہوں رووں دل کو یا پیٹوں جگر کو میں.

▪️محبت ہی کے ضمن میں ایک اور بات..... محبت تو "دینا" سکھاتی ہے.... قربانی کا سبق پڑھاتی ہے.... کچھ چھوڑنا پڑے تو دکھ نہیں ہوتا.... کچھ مل جاے تو بے انتہا خوش ہو جاتی ہے..... اب" لینا" اسلوب زمانہ ہے.... حق چھوڑنا بے وقوفی ہے.... خاموش ہو جانا، برداشت کر لینا کم عقلی کی علامت..... سو خاندان بکھر رہے ہیں. ایسے خود پسند انسان خاندان کے ادارے سے بن کر کھٹا کھٹ نکل رہے ہیں جو محبت کو گھر گاڑی تنخواہ تحائف جیسی مادی چیزوں میں گنتے ہیں..... خدمت، اخلاق، کردار، اور احترام جیسی غیر مادی صورت میں تولتے نہیں ہیں....

🔹... حل کیا ہو.... 🔹

حل ایک ہی ہے... ان اکرمکم عند اللہ اتقکم....

اللہ کا خوف

اسکی محبت

جوابدہی کا احساس

دین کی سمجھ

رشتوں میں دین داری کی اولیت

▪️اور دین بھی وہ جو اللہ کی کتاب میں درج ہے.... ٹکڑے ٹکڑے اور خانوں میں بٹا ہوا دین بھی خاندان کو نہیں جوڑے گا.... جہاں بیوی اپنے حقوق کے متعلق آیات نکال کر دین داری کو بدنام کرے اور شوہر اپنے حقوق کی.....

▪️ایک خاتون بتانے لگیں کہ ہم نے تو دیکھا کہ داڑھی ہے اور نماز بھی پڑھتا ہے.... گویا ظاہری وضع قطع اور عبادات کو کل دین سمجھ لینا اور توقعات پوری نہ ہونے پر دین کو ہی مورد الزام ٹھہرانا بھی درست رویہ نہیں ہے.... لیکن کیا کیجیے... کہ دین داری میں یا تو یہی ماڈل معروف ہے..... یا پھر شدت پسند، رعایت نہ دینے والا، کاٹ کر الگ کر دینے والا ماڈل.... اگر کسی کو اعتدال کا رویہ مل جاے تو خوش قسمتی جانے...

▪️تو دین کی سمجھ کل مزاج کی سمجھ ہے.... اور دین کا مزاج دلیل نہیں ہے.... دلیل تو اطمینان قلب کے لیے ہے.... دین کا مزاج قانون بھی نہیں ہے.... بلکہ دین تو سراپا اخلاق ہے.... "کان خلقہ القرآن"..... قانونی احکام تو گنتی کے ہیں.... باقی سب اخلاق ہی چھایا ہوا ہے...

▪️ناراضگی کو طول نہ دو.... سلام کر لو.... روٹھ جاے تو ہاتھ تھا م کر منا لو...... غصے کو پی لو... درگزر کر دو.... غلطی ہو جاے تو اڑ نہ جاو..... اور دنیا کی بے ثباتی کو ہر وقت نظروں میں رکھو..... مجھے کیا کرنا ہے... اس پر توجہ دو..... اسے کیا کرنا چاھیے... سپرد خدا کر دو.....

ایسا کروگے تو اللہ" اپنی مغفرت اور آسمانوں اور زمین کی وسعت والی جنت "کا وعدہ ضرور پورا کرے گا... ان شاءاللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */