تعلیم کونظر انداز کرنے کے تلخ حقائق - پروفیسر جمیل چودھری

وائرس کے کسی حد تک کمی کے بعد جس شعبہ کوحکومت وقت نے اہمیت دی وہ تعمیرات کاشعبہ ہے اورجس شعبہ کو اپوزیشن پارٹیوں نے توجہ کے لائق سمجھا۔اسے ہم حکومت گرانا کہہ سکتے ہیں۔حکومت ایک بڑی پارٹی اورچند چھوٹی پارٹیوں کے سہارے پہ کھڑی ہے۔اور دوسری طرف اپوزیشن میں تمام سیاسی اورمذہبی پارٹیاں اکٹھی ہیں۔3۔کامیاب جلسوں کے بعد اپوزیشن کی گاڑی تیزی سے اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے۔پوری قوم کی سوچ کایہاں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔یہ منظر 50۔کی دہائی کے بعد کئی دفعہ دھرایا گیا ہے۔جہاں تک پاکستانی قوم کے بنیادی مسائل کا تعلق ہے۔اس کی طرف کسی کی بھی توجہ نہ ہے۔اصل اوربنیادی انسانی مسائل میں ہم پورے ایشیاء سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

آج مطالعہ کرتے ہوئے تعلیم کے کوائف میرے سامنے آگئے۔اورمیں ان کوائف کودیکھ کرحیران وپریشان ہوگیا۔اقوام متحدہ جوسالانہHuman Devalpment Indexشائع کرتی ہے اس کے مطابق189ممالک کی فہرست میں ہم152نمبر پر ہیں۔جس کاواضح مطلب ہے کہ دنیا کے151ممالک کے انسانی سہولتوں کے حالات ہم سے بہت بہتر ہیں۔شرح خواندگی توہماری کچھ عرصہ بیشتر کچھ بہترتھی۔لیکن اب مجموعی آبادی کا صرف57فیصد پر آگئی ہے۔وقت تیزی سے آگے بڑھتا رہا۔اکیسویں صدی کے 20سال بھی گزر گئے اورہم اپنی آبادی کوانتہائی بنیادی تعلیم بھی نہ دے سکے۔57فیصد شرح خواندگی کاصاف مطلب ہے کہ آبادی کا43۔فیصد حصہ مکمل طورپرجاہل ہے۔وہ پاکستان کی کسی بھی زبان میں لکھا ہوا کوئی پیراگراف پڑھ نہیں سکتی ہے۔57فیصد شرح خواندگی کے اعدادوشمار کسیNGOکے بتائے ہوئے نہیں ہیں۔بلکہ حکومت وقت کے شائع کردہ پاکستان اکنامکس سروے2019-20ء میں درج ہیں۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگرہم10سال سے اوپر کی آبادی کاجائزہ لیں تو شرح خواندگی مجموعی طورپر 60فیصد شمارکی جاسکتی ہے۔جب بچوں کوپرائمری سکولوں میں داخل کیاجاتا ہے۔تو انہی ابتدائی سالوں میں داخل شدہ 22.7فیصد بچے سکول چھوڑنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔اتنا بڑاDropout Rateشاید ہی دنیا کے کسی ملک میں ہو۔میں نے اردگرد کے ممالک کے اعدادوشمار پرنظرڈالی توحیرانگی اوربڑھ گئی۔ہمارے بالکل متصل ایران میں شرح خواندگی85.5فیصد ہے۔

یہ ایسا ملک ہے جس پر کئی دہائیوں سے امریکہ اور دوسری اقوام نے مالیاتی پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔مالیاتی پابندیوں کاسادہ سامطلب یہ ہے کہ ایران اپنی اشیاء وخدمات بے شمارممالک اورکمپنیوں کوفروخت نہیں کرسکتا۔اس سے آمدنی کے محدود ذرائع کاپتہ چلتا ہے۔لیکن انہو نے بھی اپنے عوام کو بنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کی ہوئی ہیں۔بھارت کی شرح خواندگی69.3فیصد تک پہنچ گئی ہے۔اور انکی تو آبادی بھی دنیا بھر میں دوسری بڑی آبادی ہے۔ایک ارب25کروڑ لوگ بھارت کے طول وعرض میں بستے ہیں۔لیکن شرح خواندگی میں ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ہمارا اسے ہروقت برابھلا کہنا بالکل دوسری بات ہے۔لیکن اپنی آبادی کوبنیادی تعلیمی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔اورپھر پاکستانیوںبنگلہ دیش،اس کی شرح خواندگی72.9فیصد ہوچکی ہے۔ذراغور کریں کیا بنگلہ دیش نے ہم سے الگ ہوکر اچھاکیا یابرا؟۔انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کے لوگوں کوتعلیم اورروزگار دونوں سہولیات فراہم کیں۔صنعتوں میں بھی وہ ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ہم اپنا مقابلہ اگرافغانستان سے کریں توہم تعلیم میں آگے نظر آتے ہیں۔افغانستان میں شرح خواندگی 31.7فیصد ہے۔کیا ہمارامقابلہ ایسے ملک سے کرنا جوگزشتہ40سال سے جنگ وجدل میں مصروف ہے اچھالگتا ہے؟ہمیں افغانستان سے مقابلہ کرنا بالکل مناسب نہ ہے۔ہم توانگریزوں کے ایک اچھے تعلیمی نظام کے وارث تھے۔انگریز 73سال پہلے سکولوں کالجوں اوریونیورسٹیوں کاایک منظم نظام دے گئے تھے۔ہم اسے وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ بہتر بناسکتے تھے۔

اوردنیا میں ایک مقام بناسکتے تھے۔اوپروالے تمام اعدادوشمار پاکستان اکنامکس سروے2019-20ء میں ہی درج ہیں۔73سالوں میں ہم اپنی آبادی کے بڑے حصے کوکیوں تعلیم نہیں دے سکے۔بات بہت ہی آسان ہے۔اکثر احباب خام قومی پیداوار جسےG.D.Pکہاجاتا ہے۔اس سے واقف ہیں۔اسے ہم مزید آسان لفظوں میں سالانہ قومی آمدنی بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم اپنی آمدنی کاصرف اورصرف2.3فیصد تعلیم پر صرف کررہے ہیں۔یہ شرح بھی سرکاری اکنامک سروے میں ہی درج ہے۔البتہ ایک سال پہلے کے سروے میں ہے۔2.3۔فیصد سالانہ کی شرح وفاقی اورصوبائی اخراجات کو جمع کرکے نکالی جاتی ہے۔اب شعبہ تعلیم صوبوں کے پاس چلاگیا ہے۔صوبے تعلیم پر اخراجات بڑھانے کی کوشش توکرتے ہیں۔لیکن اپنے دیگر اخراجات کومدنظر رکھ کرہی تعلیم کے لئے رقومات مختص کرتے ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار آئی تھی تو اس نے تعلیم پر7۔فیصد G.D.Pخرچ کرنے کااعلان کیاتھا۔لیکن اعلان کرنے سے کیاہوتا ہے۔اس کاعمل عین اس کے برعکس تھا اور ہائیرایجوکیشن کاسالانہ بجٹ نصف ہوگیاتھا۔موجودہ عمران حکومت نے بھی اعلیٰ تعلیم پر کچھ کٹ لگایا ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم ہردورحکومت میںNeglectedرہی ہے۔جہاں تک نوازشریف دورکاتعلق ہے ۔اس دور میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ مکمل توکردیاگیا تھا۔لیکن شرح خواندگی بڑھانے کی کوئی بڑی کوشش نہیں ہوئی۔مجموعی طورپر تعلیم کابجٹ 2۔فیصد سالانہ کے ارد گرد ہی گھومتا ہے۔

2.5کروڑ بچوں کے سکولوں سے باہر ہونے کاذکر دانشور حضرات نواز دورمیں بھی کرتے رہے۔لیکن یہ بچے سکولوں میں واپس نہیں آسکے۔نوازدور میں موٹرویز اورہائی ویز توبنتی نظر آتی ہیں۔بجلی کے منصوبے مکمل ہوتے بھی نظر آتے ہیں۔لیکن شرح خواندگی بڑھانے کاکوئی میگاپروجیکٹ بنتا ہوانظر نہیںآیا۔موجودہ عمران حکومت اورگزشتہ2۔حکومتوں میں تعلیم Neglectedشعبہ ہی شمار ہوتی رہی ہے۔جہاں تک معیار تعلیم کاتعلق ہے ۔اس میں بھی ہم دنیابھر سے پیچھے ہیں۔جوبھی حکومت آتی ہے۔وہ نصاب کی تبدیلی اوریکساں نصاب تعلیم کی باتیں کرکے رخصت ہوجاتی ہے۔ہمارے ہاں3طرح کے ابتدائی تعلیمی ادارے ہیں۔پبلک سکول،پرائیویٹ سکول اوردینی مدارس۔جب ان کے نصاب کودیکھا جاتا ہے تو ہرسکول اورمدرسہ مختلف راہوں پر چلتا نظر آتا ہے۔پرائیویٹ سکولوں نے تو اپنی ریاست علیحدہ ہی بنائی ہوئی ہے۔ہرپرائیویٹ سکول اپنی مرضی کانصاب پڑھا رہا ہے۔مدارس کی دنیا تو بالکل ہی علیحدہ ہے۔مدارس کو Main Streamتعلیم نظام میں لانے کی کوششیں مشرف کے دور سے جاری ہیں۔رجسٹریشن کے فارم اورفارمولے بنتے رہتے ہیں۔لیکن اب تک عمل کی دنیا میں کچھ بھی نہیں ہوا۔اور ہوبھی کیسے۔اب تومدارس کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ اسے عمومی تعلیمی نظام میں لانا ناممکن نظر آتا ہے۔موجودہ دورمیں بھی جناب شفقت محمود صاحب سے علماء کی ملاقاتوں کاذکر میڈیا میں آتارہتا ہے۔لیکن دینی تعلیمی ادارے آئندہ بھی علیحدہ ہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔

عوامی چندے سے چلنے والوں پرحکومت کااختیار ہوناناممکن سا ہے۔نصاب تعلیم اورتربیت اساتذہ کی باتیں توہوتی رہتی ہیں۔لیکن امتحانی نظام کوبدلنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔ہمارا امتحانی نظام یادداشت کی بنیاد پرقائم ہے۔اساتذہ کلاسوں میں ہرمضمون کی مخصوص معلومات بچوں کویاد کراتے ہیں۔اورامتحانات میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ طالب علم وہ تمام معلومات ایک مخصوص وقت میں پرچے میں درج کردیں گے۔میٹرک اور انٹر تک پورے ملک میں یہی صورت حال ہے۔پاکستان کے اکثر سکولوں میں تعلیم کوایک جامد تصور سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ یہ ایک حرکی تصور ہے۔تعلیم کامقصد صرف یہی لیاجاتا ہے کہ ایک جامد شے کوایک نسل سے دوسری میں منتقل کیاجائے۔اوردوسری طرف طلباء کوخالی برتن تصور کیاجاتا ہے۔دنیا اس تصور سے آگے نکل گئی ہے۔ہمارے ہاں تعلیم سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ نصاب کورٹا لگایاجائے اورامتیازی نمبروں سے امتحان میں کامیابی حاصل کی جائے۔ہمارے نظام میں فہم کی بجائے یادداشت کواہمیت دی جاتی ہے۔میٹرک اور انٹر تک صرف گریڈز کواہمیت حاصل ہے۔A+اورAگریڈ کو ہی کامیابی تصور کیاجاتا ہے۔ہمارے تعلیمی نظام میں تفہیم،غوروفکر اورتنقیدی سوچ کواہمیت نہیں دی جاتی۔والدین کی بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بچہ اچھاگریڈ حاصل کرلے۔کمرہ امتحان میں فرفر لکھنے کوکامیابی خیال جاتا ہے۔

کمرہ امتحان میں غوروفکر تخلیقی اورتنقیدی سوچ کاکوئی عمل دخل نہیں ہے۔ایسے ہی پرنسپل حضرات بھی بچوں کے اچھے گریڈ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔اورنئے داخلہ کے وقت سابقہ بچوں کے گریڈوں کاذکر کیاجاتا ہے۔پرائیویٹ سکولوں کے کئی پرنسپل حضرات کمزور بچوں سے داخلہ نہ بھیج کرجان چھڑا لیتے ہیں۔ان کی نظرصرف100فیصد نتائج تک محدود ہوتی ہے۔امتحانی نظام میں سوالات کاتعلق معلومات کی فراہمی سے ہوتا ہے۔زیادہ ترسوالات Whatکی قسم میں آتے ہیں۔WhyاورHowقسم کے سوالات ہمارے امتحانی نظام میں نہیں آتے۔امتحانی نظام طلباء کواندھی تقلید کاحامی بناتا ہے۔ایسے طلباء جب عملی زندگی میں جاتے ہیں۔تومسائل کاشکار رہتے ہیں۔معاشرہ کودرپیش عملی مسائل کاان کے پاس کوئی حل نہیں ہوتا۔یوں ہماری تعلیم معاشرے کوتبدیل کرنے میں ناکام ہے۔اکیسویں صدی میں ضروری ہے کہ بچوں میں مضمون کی تفہیم،تخلیقی اورتنقیدی سوچ پیداکی جائے۔ہم پاکستانی نہ تو خواندگی میں اب تک کوئی بڑا اضافہ کرسکے اور نہ ہی تعلیم کوتحقیقی،تخلیقی اورتنقیدی بناسکے ہیں۔یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے اب سرکاری سروے کے مطابق211تک پہنچ گئی ہے۔لیکن یہاں بھی معیار کاوہی حال ہے۔جوسکولوں میں ہے۔73۔سال گزرگئے ہیں ہم ابھی تک انگریزوں کے بنائے ہوئےO-levelاورA-levelسے باہر نہیں نکل سکے۔غلامی کی یہ نشانی پون صدی بعد بھی جوں کی توں ہے۔ہماری ہرڈویژن میں اپنا بورڈ ہے۔ہم اس تعلیمی نظام کو ترک کرکے اپنا امتحانی اورتعلیمی نظام بنائیں۔

تمام طلباء اپنے قومی بورڈوں کاطے کردہ جدید نصاب پڑھیں اور اپنے ہی بورڈ اوریونیورسٹیاں امتحان لیں۔بھارت میںO-levelاورA-level عرصہ پہلے ختم ہوگیاتھا۔لیکن پاکستانی آزادی کی باتیں کرنے والے ابھی تک انگریزی نظام تعلیم سے وابستہ ہیں۔انگلینڈ یہاں سے کروڑوں ڈالرسالانہ کماکر لے جاتا ہے۔اپنے نظام تعلیم اورامتحانی نظام کواونچا کرناپاکستان کے لئے ضروری ہے۔تعلیم کے بے شمار مسائل ہیں۔ایک کالم میں ان تمام کوسمویا نہیں جاسکتا۔اوپرتمام باتوں سے ایک بات ظاہر ہے حکومتیں چاہے مرکزی ہوں یا صوبائی تعلیم کسی کی ترجیح اول نہیں ہے۔میں نے موجودہ حکومت اورگزشتہ2ادوار کاذکر کیا ہے۔ہرکوئی اس شعبہ کونظر انداز کرتاچلا آرہا ہے۔اس کے بڑے خطرناک نتائج نکل رہے ہیں۔ہم اپنے علاقے میں تمام قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ذمہ داران کواس طرف توجہ دینی ضروری ہے۔شرح خواندگی بڑھانے کے لئے ایک میگا پروجیکٹ بنایاجائے۔تمام پارٹیاں اس پردستخط کریں۔حکومت کسی کی بھی ہو۔اس میگا پروجیکٹ پرعمل درآمد ہوتارہے۔یہ بات توظاہر ہے کہ میگاپروجیکٹ میں شرح خواندگی میں تیز اضافہ شامل ہوگا۔معیار تعلیم کوبھی اہمیت دی جائے گی۔فنڈز کارخ تعلیم کی طر ف کیاجائے۔2.3فیصد جی۔ڈی ۔پی تعلیم جیسے اہم شعبہ کے لئے بہت ہی کم ہے۔صوبے اوروفاق ملکر اسے 4۔فیصد تک لے جائیں۔

قوم پڑھی لکھی ہوگی تو اسے اپنے تحفظ کاشعور ہوگا۔تعلیم کودفاعی شعبہ سے بھی زیادہ اہمیت ملناضروری ہے۔پاکستان کے بڑے امراء کوبھی اس اہم اورعظیم شعبہ کو اہمیت دینی ضروری ہے۔آصف علی زرداری اورشریف فیملی کو بھی اس شعبہ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔پاکستان سے باہرپڑی ہوئی دولت کا پاکستانیوں کوکوئی فائدہ نہیں ہے۔میں نے صرف 2خاندانوں کے نام لئے ہیں۔اوربھی بے شمار خاندان دولت میں بہت آگے ہیں۔دولت قوم کو بنانے اورشعورمیں اضافے کے لئے استعمال ہوتویہ ایک خوبصورت استعمال ہوگا۔پوری قوم اپنے وسائل کوتعلیم کے لئے وقف کرے۔آخر میں پھرغورکریں57۔فیصد شرح خواندگی پورے ایشیاء میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔تعلیم کو نظر انداز کرنے کے یہی نتائج نکلنے تھے۔ہماری تقریباً آدھی آبادی ابھی تک جہالت کے سمندر میں غوطے کھارہی ہے۔مرکزی حکومت،صوبائی حکومتیں اورپورے ملک کے امراء اس طرف توجہ دیں اور قوم کوجہالت کے اندھیروں سے نکالیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */