دستک- ہارون الرشید

مکرر عرض ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ ممکن ہے، ابھی برسوں جیتا رہوں لیکن اب زندگی سے دل اچاٹ ہونے لگا ہے۔ اب ٹھنڈے سائے کی آرزو ہے۔اب دل مدینہ کو لپکتا ہے۔ کئی ماہ سے عزرائیل کے پروں کی پھر پھراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اوّل اوّل تھوڑا سا خوف محسوس ہوا۔ پھر ایک دن چغتائی لیب کی گیارھویں منزل پر ڈاکٹر سہیل چغتائی کی خدمت میں حاضر ہونا تھا۔اچانک خیال ہوا، مالک کی دنیا اس جہان سے تو بہرحال اچھی ہوگی۔ اس کے دامانِ رحمت کی وسعتیں بے کنار ہیں۔ اس کا سایہ ٹھنڈا ہے۔ وہ ساری خطائیں معاف کرنے والا ہے۔ آدمی سے خلوصِ نیت کے سوا کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتا اور یہ کہ وہ اسے یاد رکھے۔اس کے بے حساب خزانوں کے دروازے چوپٹ کھلے ہیں۔ جو چاہو، اس سے مانگ لو۔ روپیہ پیسہ ہی نہیں، عزت اور علم بھی۔ قرینے بھی اس نے بتا دیے ہیں۔ صدقہ دو تو مال بڑھے گا۔ ذکر کرو تو سکونِ قلب حاصل ہوگا۔ رہا علم تو تین لفظوں کی ایک دعا ہے جو رحمتہ اللعالمینؐ کے دہنِ مبارک سے ادا ہو کر با برکت ہو چکی ’’رب زدنی علما‘‘اس خیال کے ساتھ خوف کم ہونے لگا، امید بڑھنے لگی۔ کرونا ضرور ہوا اور اب تھائی رائڈ کا مسئلہ بھی ہے لیکن بہترین معالج اور دوائیں میسر ہیں اور مفت میسر۔ اس عمر میں عموماً جو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، ان میں سے ایک بھی نہیں۔ فشارِ خون، ذیابیطس اور نہ دل کا مرض۔ میرے چھوٹے بھائی محمد امین بیمار ہوئے۔ ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تو امریکی ماہرین نے بتایا: تمہارا تعلق ایسے خاندان سے ہے، جس میں عمریں 120برس تک ہوتی ہیں۔ اب وہ بھلے چنگے ہیں۔ نانی اماں، جنہیں ہم ’’ماں جی‘‘ کہا کرتے تھے، لگ بھگ 90برس کی عمر میں رخصت ہوئیں۔ والدِ مرحوم 74برس کے تھے اور تندرست۔ انتقال ایک حادثے میں ہوا۔وفات سے ایک برس پہلے فاروق گیلانی مرحوم نے کہنا شروع کر دیا تھا: ریلوے سٹیشن قریب آنے والا ہے۔

میں اپنا سامان سمیٹ رہا ہوں۔ خاموشی اور عزم کے ساتھ اب ہر اس چیز کے ساتھ کنارہ کشی کر لی جو ان کے خیال میں ناروا تھی۔تہیہ کر لیا کہ غیبت کریں گے، نہ سنیں گے۔ دسترخوان اور بھی وسیع کر لیا۔ ایک دن بیگم سے بات کرتے کرتے خاموش ہو گئے، جن سے بے حد محبت تھی۔اس طرح کہ غزالی یاد آئے۔ ان کے بھائی احمد سے پوچھا گیا کہ کیا ہوا تھا؟ بولے: کچھ بھی نہیں۔ فجر کی نماز پڑھی۔ کفن منگوایا، اسے چوما اور کہا: اچھا میرے مالک! جیسے تیری مرضی۔ یہ کہا اور لیٹ گئے۔ ہم نے دیکھا، روح پرواز کر چکی تھی۔ہمارے مشترکہ حبیب، اظہار الحق نے ان کا مرثیہ لکھا۔ ایسا کہ انشاء اللہ باقی رہے گا۔ ابا مرحوم ایک مزدور کی زندگی جیے۔ دل میں کبھی شکایت جاگتی، پروردگار تو نے میرے باپ کو آسودہ نہ رکھا۔ اچانک ایک دن خیال آیا: ان پر تو عمر بھر کرم کی بارش برستی رہی۔ دن میں پانچ مرتبہ پیدل چل کر مسجد جاتے۔ رزقِ حلال کھایا۔ کبھی کسی بکھیڑے میں نہ پڑے۔ خاندان اہلِ حدیث تھا۔مولانا احمد علی لاہوری کے ہاتھ پر حنفی ہو گئے لیکن کبھی اس کا ذکر ہی نہ کرتے۔ یہ راز وفات کے بعد کھلا۔ انتقال سے تین چار دن پہلے اپنی خوشدامن کے پاس گئے، جو ظاہر ہے عمر میں ان سے پندرہ بیس برس بڑی تھیں، سگی خالہ بھی تھیں۔ سارا دن لکڑی کے تخت پر بیٹھی تسبیح پڑھا کرتیں یا نوافل۔ ان سے کہا: ماں جی، کوئی خطا کی ہو تو معاف کر دیجیے۔ میں اب دنیا سے جاتا ہوں۔ وہ حیران: عبد العزیز جانے کی عمر تو ہماری ہے۔ پھرالوداعی ملاقات کے لیے اپنی بیٹیوں کے پاس تشریف لے گئے۔

پھر وصیت کی کہ مجھے فلاں قبرستان میں دفن کیا جائے، جو گھر سے بہت دور تھا۔ وفات کے تیس پینتیس برس بعد چھوٹے بھائی نے ایک صاحبِ کشف بزرگ سے ان کے بارے میں پوچھا۔ صوفی نے ان کا حلیہ اور قدو قامت تک بیان کیا۔ پھر کہا: ایک ایسے قبرستان میں سوئے پڑے ہیں، جس کے درمیان سے پختہ سڑک گزرتی ہے۔ اللہ نے ان پر کرم فرمایا ہے۔ اسی تجسس سے ہماری پڑوسن جگت پھوپھی سرداراں بیگم کے بارے میں پوچھا۔ کہا کہ ان پہ رحمت بے پناہ برسی ہے۔ پھوپھی کا دل شیشے کی طرح صاف تھا۔ محلے میں اگر کہیں ناچاقی ہو جاتی، حتیٰ کہ میاں بیوی میں بھی تو صلح کرائے بغیر اٹھتی نہ تھیں۔ والد گرامی اپنی چھوٹی سی فیکٹری میں بنا کچھ سامان پہنچا کر واپس آرہے تھے کہ ایک بس ان کی بائیسکل کو چھو کر گزر گئی۔ گرے اور بے ہوش ہو گئے۔ ہسپتال لے جائے گئے۔ بیچ میں آنکھ کھلی تو فقط یہ کہا: ڈاکٹر صاحب کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مجھے اب جانا ہے۔ زمانہ بیت گیا۔ والدہ کی وفات ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ کینسر ہو گیا تھا۔ والدِ مرحوم کی طرح چالیس پچاس برس وہ بھی تہجد کی پابند رہیں۔ انہی کی طرح نہایت پابندی سے تلاوت۔ دستِ سخا ان جیسا کسی کا نہ دیکھا۔سونے سے پہلے ساری نقدی خیرات کر دیتیں۔تلاوت کی بہت پابند۔ ایک بات میاں بیوی میں مشترک تھی۔ مرحوم والد نے دلکش آواز پائی تھی۔ ایک بار ملائیشیا کے ساحل پر سامان کھو گیا۔ تنہا بیٹھے کوئی لوک گیت گانے لگے تو مجمع اکھٹا ہو گیا۔ ہر کوئی میزبان بننے پر مصر۔ ایک بار مجھ سے کہا: کسی بھی ہنر میں کمال عزت عطا کرتاہے۔ میرے طرزِ تحریر پہ ان کا اثر ہے۔

جب کوئی واقعہ وہ بیا ن کرتے تو تصویر کھینچ دیتے۔ صبح سویرے اماں کبھی یوسف زلیخا کا قصہ پڑھتیں تو پڑوسنیں جمع ہو جاتیں۔ میری خالہ زاد بہن شمیم کبھی موجود ہوتیں تو اپنی ماسی کے سر پہ سوار ہو جاتیں۔ آپ کا سارا کام ہم نمٹا دیں گے۔ بس آپ پڑھتی رہیں۔ والد کو ہم نے کبھی کوئی مصرعہ الاپتے نہ سنا۔ فجر کی اذان دیا کرتے۔بی بی جی نے بھی تلاوت کو شعار کر لیا تھا۔ والد ساری زندگی میں صرف ایک بار بیمار ہوئے، سفرِ حج کے دوران۔ کبھی ہنس کر کہتے: تمہارے ڈاکٹر ماموں کے دل میں شاید شکایت ہوکہ آج تک دوا نہیں کھائی۔ والدہ حج سے لوٹیں تو کہا: میں نے ایک نعت ’’بنائی‘‘ ہے۔ قافیہ ردیف ناقص ہی ہوگا مگر محبت اس طرح پھوٹ رہی تھی، جیسے فوارے سے پانی۔ سوچتا میں یہ ہوں، یہ تو زاہد ہوتے ہیں، وقت سے پہلے جنہیں خبر دے دی جاتی ہے۔ مجھ خطاکار کے دل پہ دستک کیوں ہے۔کبھی لگتاہے،بھید کا ایک سرا میرے ہاتھ میں ہے۔ شایدکسی دن بیان کرنے کی جسارت کروں۔ مکرر عرض ہے کہ خوف سے امید زیادہ ہے۔ مکرر عرض ہے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ ممکن ہے، ابھی برسوں جیتا رہوں لیکن اب زندگی سے دل اچاٹ ہونے لگا ہے۔اب ٹھنڈے سائے کی آرزو ہے۔اب دل مدینہ کو لپکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */