میرے نبیﷺ سے میرا رشتہ - صبا احمد

: نوعِ انسانی کے لیےربِ کاںنات نے ربط و تعلق کے رشتوں کو بنیاد بنا کر امر باا لمعروف نھی المنکر کے عمل کو انبیا۶ کی اًمد کو توحید کا پیغام پہنچانا ہی ناکافی نہ تھا بلکہ ختم نبوت بھی اس سلسلے کی اہم کڑی تھی. اسے حضرت محمدﷺ سے مہر نبوت سے جوڑا . وہ محسنِ انسانیت جو انسانیت کے قافلے کومعراج تک لے گےآپﷺ علم و ہدایت کا سرچشمہ تکمیلِ دین کے لیے إٓے تو انہوں نے ان کا اللہ تعالی سے کلمہ طیبہ سےتوحید کا ورد کروایا .ان بدوں کو جو جہالت کےگھپ اندھیروں میں تھے کے کبھی پانی پہلے پینے پلانےپےجھگڑا کبھی گھوڑا .

آے بڑھانے پر دشمنی سالوں تک چلتی معاشرت معشیت اور اخلاقیات کاکہیں نام ونشان نہ تھا ِ وہ قماش جواری کعبہ کے اِرد گرد ناچتے عورت کو پاوؓں کی جوتی سمجھتے جسکا مطلب جھپی یا ذھکی ھو۶ی جیز تھا محفل کی شمع بنادیا. ھر مسلمان کا تعلق اللہ سے مضبوط کیا فخرِ آدمیت ھونے سے انسان ،حیوان، نباتات،جمادات کو امن بخشا ِ بلا امتیاز رنگ و نسل علاقہ و قبیلہ و اورمرد وزن وہ صادق اور امین بچپن سے تھے عدل و انصاف ،عفودرگڑز بردباری ،سب سے حسنِ سلوک میرے نبٸ ﷺکی شان تھی ِبحیثیت عورت میرا رشتہ ان سے کے مجھے عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا .میری ذات میں موتی پرو ۓ ِ مجھے بچپن میں زندھ دفن کردیا جاتا تھا .امن بخشا .حیا اورایمان کی روشنی دی فرمایا یہ نازک آبگینے ھیں .”علم حاصل کرنا ھر ہ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ھے“.مجھے گواھی دینے کا حق دیا وراثت میں حصہ دلوایا . ماں کے قدموں تلے جنت ھے .”عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ھیں ”عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرا کرو . حج کے موقع پر فرمایا کہ ”تم نے انہیں اللہ کی امانت ک ساتھہ لیا ھے اور کلمے کے ذریعے حلال کیا ھے “ِ مسلم وابو داٶد .”

”تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ھے .(طبری و ابن ھشام ).اب مجھے کیسے برداشت ھو کے میرے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ھو اور میں خاموش تماشاٸ رھو .محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ھے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ نےکہا فرمایا رسول اللہ نے ”تم میں سے کوٸ ایمان والا نہں ھو سکتا جب تک میں اسکے نزدیک اسکے والد ،بیٹے ، مال ، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ھو جاٶں. میرا دل پارا پارا ھو جاتا ھے ۔ اور دل خون کے آنسوں روتا ھے .. کوٸ حضور ﷺ کی شان میں گستا خی کرتا ھے ۔ یہود ونصري ڈنمارک ھالینڈ ،فرانسۭ ،جرمنی،میں میں تو تاریخ یاد دلاتی ھے کے حضورﷺ نے خوداپنے ھاتھوں سے موت کے گھاٹ أتارا ٣ ھجری میں پھر حضرت عمر رضیب اللہ، ابو لہب کو . ابو جہل دو نہنے مجہادوں معاذ اور معاذ کے ھاتھوں .قتل ہوا۔
ھمارے ملک پاکستان کے ١٩٧٣ آٸینن کے بعد ١٩٧٦ میں قانون نافذ ھو گیا تھاکہ ”حاکمیت اعلی اللہ تعالی ھے اور نبیﷺ اللہ کے رسول ھے ِ دستور پاکستان بھی قران وسنت کو بالا دست قرار دی ١٩٧٤ میں ختم النبوت کا بل پاس ھوا ۔اب جھوٹی نبوت کے دعوے دار چودہ سو سال سے کرتے آۓ ھیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے قادیانیوں کے غلام احمد قادیانی نے بر صغیر میں جھوٹی نبوت کی داغ بل ڈالی وہ جھوٹا دھکے باز زانی اور دنیا کی ہر براٸی اس میں موجود تھی۔اس نے ۔ بر صغیر میں انگریزوں کی شہ پر کیا ۔اور مسلمان جھوٹے نبوت کے دعویدار کےخلاف جنگ کی ۔ اس کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا ۔ جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی تعالی عنہ نے کی جنگ یمامہ ۔

: *جنگ یمامہ*

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی، جہاں 1200 صحابہ کرام کی شہادت ہوئی اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے:لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:مدینہ میں کوئی نہ رہے حتی کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکر کو گھسیٹ کر لے جائیں"
صحابہ کرام کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضی سیدنا صدیق اکبر کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے:"بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی نہ کبھی بعد میں لڑی"اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم میں مشہور تھے۔

اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ہاں وہی زید بن خطاب جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھا اس نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا:والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی دیواریں مثل قلعہ کے تھیں کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہو اور براء بن مالک کہے:*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"*اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگا دی قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوت کو کاٹ کر رکھ دیا*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔

کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کہتے ان صحابہ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔نبی ﷺ کی وفات کے بعد اصحابہ کرام رضوان اللہ دنیا کے کونے کونے میں پھیل گۓ ۔اشاعت اسلام کے لیے یعنی تبلیغ کے لیے ان کی تعظیم بھی ہم پر اتنی اہم ھے ۔جتنی نبی ﷺ کی ان سب کی حفاظت ہمارا فریضہ ھے ۔
یہود و نصری اور قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے. ١٢ ربیع الاول کے اس مہینے میں فرانس نے پھر خاکے بنا کر اپنا زھر اگلا اور چھوٹی سوچ کا ثبوت دیا ۔پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. ہم مسلمانوں کو تحفظ ختم نبوت کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو.آخر میں امتی کی حیثیت سے ا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق کویاد رکھیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */