ٹی وی چینلز آدھا نقاب الٹنا کب چھوڑیں گے - حبیب الرحمن

مجھے تو نہیں لگتا کہ پاکستانی میڈیا کے اونٹ کی کل کبھی سیدھی بھی ہو سکے گی۔ شاید بات بے موقع سی لگے لیکن کیا کروں کہ دلاور فگار کی مزاحیہ غزل کا ایک شعر میرے گلے میں آکر اس بری طر اٹک گیا ہے کہ اگر اسے باہر نکال کر نہیں پھینکا تو دم گھٹ جانے کا اندشہ ہے۔ کیا خوبصورت انداز میں اپنے شک کا اظہار فرما گئے تھے کہ

یوں لگتا ہے مرے محبوب کی اک آنکھ غائب ہے

کہ وہ جب بھی الٹتا ہے الٹتا ہے نقاب آدھا

حیرت اس بات پر ہے کہ چوبیس چوبیس گھننٹے چلنے والے چینلوں کے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ خبروں، وضاحتوں اور بیانات کے دونوں پہلوؤں کو ایک توازن کے ساتھ نشر کر سکیں۔ عام طور پر ساری خبریں، وضاحتیں یا کسی بھی قسم کے بیانات یک طرفہ ہی دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ بھارتی الزامات کی تردیدیں نشر کی جا رہی ہوتی ہیں لیکن یہ خبر تک نہیں ہونے دی جاتی ہے کہ بھارت کی جانب سے لگایا جانے والا الزام آخر خود کیا تھا۔ پاکستان کے خلاف دنیا کے کسی بھی ملک کا پروپیگنڈے کا جواب تو آ رہا ہوتا ہے لیکن پروپیگنڈا کیا تھا، اس کا علم کانوں کان نہیں ہو پاتا۔ بانی متحدہ نے اپنی تقریر میں ملک و قوم کے خلاف باتیں کیں جس کی شدید مذمت سامنے آ رہی ہوتی ہے لیکن کہا کیا گیا، اس کا پتا ہی نہیں چلتا۔ غرض بیشمار ملکی و غیر ملکی خبروں، تبصروں اور تجزیوں کا ذکر تو ضرور ملتا ہے جس کی تردیدوں پر تردیدیں تو کی جا رہی ہوتی ہیں لیکن معاملہ کیا ہے، اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی جارہی ہوتی۔
معاملہ پاکستان سے باہر کا ہو یا اندرونِ ملک کا، صورت حال ایک ہی جیسی ہے جس کی وجہ سے ذہن میں اصل بات جان لینے کا تجسس اکثر ذہن کو اس قدر الجھا کر رکھ دیتا ہے کہ دماغ پھٹنے لگتا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے کیس کا تفصیلی فیصلہ سامنے آ چکا ہے۔ فیصلہ بھی کوئی ایک دو صفحات پر مشتمل نہیں، ڈھائی سو صفحات سے زیادہ پر مشتمل ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرینس صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب نے دائر کیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پاکستان کے وزیر قانون جناب فروغ نسیم نے اپنی وزارت سے مستعفی ہوکر، بطورِ وکیل اس کیس کی پیروی کی تھی۔ فیصلہ فائز عیسیٰ کے حق میں سنایا گیا جو حکومت، صدر مملکت اور خود ملک کے ایک مایہ ناز ماہر قانون، جو تیسری بار وزیر قانون بنا دیئے گئے ہیں، کیلئے کافی سبکی کا سبب بنا۔ ایک ایسا وکیل جس کی پیروی میں حکومت کیس ہار چکی ہو، وہ کسی نجی ٹی وی چینل پر جیت جانے والے جسٹس سے وضاحتیں طلب کرتا ہوا نظر آئے تو زیادتی کی بات نہیں؟۔ اگر اس کی نظر میں کیس کا فیصلہ آجانے کے باوجود بھی فریقِ مخالف سے مزید وضاحتیں طلب کرنے کی گنجائشیں باقی بھی ہیں تو کیا اس کا فورم ٹی وی چینل ہوا کرتا ہے۔ وضاحتیں طلب کرنا اور وہ بھی فریق مخالف سے، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ فیصلہ درست نہیں۔ عدالت کے کسی فیصلے کو سر عام تنقید کا نشانہ بنانا کہاں تک درست ہے اور کہاں تک غلط، یہ بحث الگ لیکن اس کا درست فورم بھی عدالت ہی ہوا کرتی ہے۔ اگر ان کے نزدیک فیصلہ میں کچھ سقم باقی ہیں تو اسے عدالت میں نظرِ ثانی کیلئے بھیجا جا سکتا ہے۔

وزیر قانون کا فرمانا ہے کہ "فیصلے نے ثابت کردیا کہ وضاحت جسٹس فائزعیسیٰ کو دینا ہوگی، پیرا 141 کہتا ہے کہ ذرائع آمدن اور رقم کیسے باہرگئی وضاحت ضروری ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ کو چاہیے کہ وضاحت دیں اور بات ختم کریں"۔ وزیر قانون کا یہ بیان خود وضاحت طلب ہے۔ مقدمہ قائم کرنے کا مقصد ہی جب ذرئع آمدن کی تفصیل معلوم کرنا تھا اور وہ تفصیل ہی فراہم نہیں کر سکے تھے تو پھر فیصلہ ان کے حق میں کس بنیاد پر دیا گیا۔ وزیر قانون کی یہ بات بھی بڑی عجیب سی ہے کہ جسٹس فائز وضاحتیں دے کر بات ختم کریں۔ اول تو عدالت کا فیصلہ ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ بات ختم ہو چکی دوئم یہ کہ بات تو وہ ختم کرتا ہے جو شروع کرتا ہے۔ شروعات یا بات نکالی تو حکومت ہی کی جانب سے گئی تھی تو بات جسٹس صاحب ختم کریں گے یا حکومت۔

وزیر قانون کا یہ بھی فرمانا ہے کہ "ججز کا احتساب ہوتا ہے تو عدلیہ کی آزادی کا تاثر بہتر ہوتا ہے"۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے اور پاکستان کے کسی ایک فرد کو بھی جواب دہی سے استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ ملک کا وزیر اعظم یا سالار ہی کیوں نہ ہو لیکن کیا پاکستان میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر پاناما اسکینڈل میں 450 سے زیادہ افرا شامل تھے تو صرف چند افراد پر ہی مقدمات کیوں قائم کئے گئے۔

یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مقدمہ ہار جانے والے ایک وکیل کی ساکھ بر قرار رکھنے کی ایسی کیا ضرورت پڑ گئی تھی کہ اس کو ٹی وی چینل پر بٹھا کر انٹرویو کیا گیا۔ اگر ان کی ساکھ برقرار ہی رکھنا ضروری تھا تو پھر دوسرے فریق کو بھی سامنے بٹھانا چاہیے تھا تاکہ وہ اس بات کا جواب دے سکتا کہ آیا اس نے دوران مقدمہ، عدالت میں اپنی اور اپنی اہلیہ کی منی ٹریل کی وضاحت دی تھی یا نہیں۔

بات وہیں پر آکر ختم ہوتی ہے کہ اگر محبوب ہر بار آدھا نقاب الٹ کر ہی اپنا دیدار کراتا رہے گا تو محبت کرنے والے کے دل میں شکوک و شبہات تو لازماً جنم لیں گے لہٰذا اس ادھورے پن کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہی ادھورا پن ہی افواہوں اور بد گمانیوں کی جڑ ہے جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیا کرتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */