رسول اللہ ﷺ کی بے مثال زندگی - ابوفہد

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو ہر طرح سے روشن ، تابناک اور متاثر کرنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو خلعت نبوت سے تو چالیس سال کی عمر میں سرفراز کیا گیا مگر جس زندگی کو اللہ کی طرف سے اسوۂ حسنہ کا تمغۂ امتیاز ملا، اس میں رسول اللہﷺ کی ماقبل ِ نبوت والی زندگی بھی اسی طرح شامل ہے۔ اس زندگی کے بھی بڑے نمایاں اوصاف ہیں اور اس میں بھی بے شمارخوبیاں اور اچھائیاں ہیں، اسی زندگی میں رسول اللہ ﷺ صادق وامین کے القاب سے پکارے گئے اور شہر مکہ واطراف مکہ میں موجود تمام قبائل کے مردوں،عورتوں، جوانوں اور بچوں سب کے لیے ہر دلعزیز اور محبوب بن گئے۔یہاں تک کہ زندگی کے ہر معاملے میں اہل مکہ نے رسول اللہﷺ کی ذہانت، امانت اور صداقت کا برملا اعتراف کیا۔

ہر مشکل وقت میں ان کی نگاہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف ہی اٹھتی رہیں۔ کعبے کی از سر نوتعمیر کا واقعہ تو سیرت کے اہم واقعات میں سے ہے، جب ایک طے شدہ بات کے مطابق رسول اللہﷺ صبح سویرے سب سے پہلے کعبہ پہنچ گئے،اور پہلے پہنچنے کی شرط کے مطابق اختلافی مسئلے میں حکم قرار پائے تو جس نے بھی دیکھا اور سنا کہ کعبے کی تعمیر میں حجر اسود کی تنصیب کے لئےمحمدبن عبد اللہ حکم قرارپائے ہیں تو اس کی بانچھیں کھل اٹھیں۔ اور ہرایک نے خوشی کا اظہار کیا۔ کوئی ایک آواز بھی ایسی نہ تھی، یہاں تک کہ سرگوشی بھی نہ تھی جس سے یہ اشارہ ملتا کہ کہیں نہ کہیں رسول اللہ کی ثالثی پر اتفاق نہیں ہے یا ناراضگی ہے۔رسول اللہ ﷺ نبوت سے پہلے اپنے سماج میں اور آس پاس کے ماحول میں پوری طرح گھلے ملے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺنے معاشرے سے دور رہ کر اور کٹ کر زندگی نہیں گزاری، البتہ آپ ﷺ کی کچھ ترجیحات تھیں اور کچھ اصول تھے، جو آپﷺ کو دیگر شرفائے مکہ سے ممتاز کرتے تھے اور آپ ﷺ کی زندگی کی گاڑی بالکل ہی الگ پیٹرن پر چل رہی تھی۔ انہی ترجیحات کے باعث ایسا ہوتا تھا کہ آپﷺ خیر اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور برائی وفحاشی کی باتوں اور کاموں سے پرہیز کرتے تھے۔ جب لوگ لہو ولعب میں مشغول ہوتے تو رسول اللہﷺ غور وفکر میں محو رہتے تھے۔ رسول اللہﷺ کی بنیادی سوچ اور فکر کائنات کے بارے میں تھی، کائنات کے پیدا کرنے والے کے بارے میں بھی اور خود انسان کے مقصد ِوجود کے تعلق سے بھی تھی۔اپنی اسی غوروفکر کی عادت کی بناپر رسول اللہﷺ بستی کے شوروہنگامے سے دور ایک پہاڑی پر چلے جاتے اور وہاں کئی کئی گھنٹے اوربعض اوقات کئی کئی دن اور راتیں گزارتے تھے۔

اللہ نے رسول ﷺ کو ظاہر ی حسن وخوبی سے بھی خوب نوازا تھااور ذاتی کمالات و کسبی امتیازات سے بھی خوب مالامال کیا تھا۔رسول اللہﷺ خوب صورت بھی تھے اور خوب سیرت بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺکے حسن اخلاق کی گواہی خود اللہ نے دی ہے، فرمان ہے: اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِيْمٍ(القلم، 68: 4) '' بیشک آپ اعلیٰ اخلاق وکردار والے ہیں'' اور صرف گواہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ تمام بنی نو ع انسانی کو عام طور پر اور اہل ایمان کو خاص طور پر ہدایت بھی دی کہ وہ بھی ایسے ہی اخلاق وکردار کے حامل بنیں۔ فرمایا: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ '' اے لوگو! رسول اللہ کی ذات تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے''رسول اللہﷺ کے اخلاق کریمانہ کی شہادت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ خود رسول اللہ ﷺنے بھی اس بات کی شہادت دی کہ ان کی زندگی کا مقصد عالم انسانی کو اعلیٰ اخلاق سے روشناس کرانا ہے۔فرمایا: إِنَّمَا بُعِثتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الأَخلَاقِ (رواه البخاري في الأدب المفرد) ''میں اللہ کے بندوں کو اخلاق کی اعلیٰ تعلیم دینے کے لیے آیا ہوں'' پھر رسول اللہﷺ دل وجان سے یہی چاہتے بھی تھے ، اسی لیے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہمیشہ دست بدعا رہتے تھے اور اللہ نے رسول اللہ ﷺ کوجس ظاہری وجسمانی خوبی یعنی حسنِ صورت سے نوازا تھا ، اسی کا حوالہ دے کر اللہ سے عرض کرتے تھے ، اےاللہ! جس طرح تونے مجھے ظاہری حسن سے آراستہ کیا ہے اسی طرح مجھے باطنی حسن سے بھی آراستہ فرما۔ یہ دعا گویا آپ ﷺ کےلئےدن رات کا وظیفہ تھی: الَّلهُمَّ حَسَّنتَ خَلْقِي فَحَسِّن خُلُقِي (رواه ابن حبان) '' اے اللہ! تونے میری تخلیق بہترین ساخت پر کی ہے ، میرے اخلاق وکردار کو بھی اچھا کردے۔''

رسول اللہ ﷺکی زندگی انسانی معاشرے کے لیے سراپا رحمت تھی اور آپ ﷺکی زندگی کے اس پہلو کا سب سے اہم اور بڑا حوالہ قرآن کا وہ بیان ہے جس میں اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا مقصد واضح کیا ہے، فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (الانبیاء:١٠٧) '' اے رسول! ہم نے تمہیں تمام جہان والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے''

اسی لیے ایسا تھا کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ رحم دل، سب سے زیادہ محبت کرنے والے، سب سے زیادہ شفقت فرمانے والے، اور سب سے زیادہ معاف کردینے والےتھے ۔ بادشاہوں کی اور عام انسانوں کی طبیعت اور مزاج تو یہی ہے کہ وہ جب بھی کسی پر غلبہ حاصل کرلیتے ہیں تو اس سے انتقام لیتے ہیں،ایک فرد دوسرے فرد کے ساتھ اور ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے، اور یہ کل بھی ہوتا ہے ، جس کل کے بارے میں آج کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ غیر متمدن اور غیر مہذب زمانہ تھا۔ اوریہ آج بھی ہورہا ہے اور تہذیب وتمدن کی بلند بانگ دعوےیداریوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں اس کے بالکل ہی برعکس کردار ادا کیا، جب بھی آپﷺ نے کسی پر غلبہ حاصل کیا اسے معاف ہی کردیا۔ زندگی کے پہلے حصے میں یہ انفرادی سطح پر ہوا مگر آخری حصے میں ریاستی سطح پر اور ملک گیر پیمانے پر ہوا۔ اور رسول اللہ ﷺ کےمعافی دینے والے کردار کی سب بڑی شہادت فتح مکہ کے روز سامنے آئی ، جب رسول اللہﷺ کے پاس طاقت تھی،فوج تھی اور دشمن زیر تھا۔ برسوں کے دشمن آج گھروں میں اوربیت اللہ میں دبک کر بیٹھ گئے تھے اور خوف سے لرز رہے تھے ، آپﷺ چاہتے تو گزشتہ بیس سالوں کی تعذیِب مسلسل کا بدلہ لیتے بلکہ اپنے سپائیوں کو بھی اجازت دیتے کہ وہ بھی ماضی کے ان زخموں کا پورا پورا حساب بے باق کرلیں جو اہل مکہ نے ہر ہر قدم پر دئے تھے، مگر قربان جائیے رسول رحمتﷺ کی رحم دلی پر اورعام معافی دینے والے نبوی مزاج پر کہ اس انتقام کے دن بھی رسول اللہ ﷺ نے اس عام انسانی مزاج کے بالکل برعکس کردار ادا کیا اور عام معافی کا اعلان کردیا۔

رسول اللہﷺ ابھی مکہ کے دروازے پر ہی تھے اور ابھی پوری طرح فتح حاصل بھی نہیں ہوئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے علی الاعلان فرمادیا کہ آج انتقام کادن نہیں بلکہ رحمتیں لٹانے کا دن ہے۔ چنانچہ جب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے فتح کے جوش میں کہا: يَا أَبَا سُفْيَانَ! اليَوْمَ يَوْمُ المَلْحَمَةِ، اليَوْمَ تُسْتَحَلُّ الكَعْبَةُ ''ابوسفیان! آج خونریزی کا دن ہے، آج کعبے کی حرمت حلال کردی جائے گی'' تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی سرزنش کی اور فرمایا: كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الكَعْبَةُ (رواه البخاري ) ''سعد نے جھوٹ کہا، آج تو اللہ کعبے کو عظمتیں عطا فرمائے گا، آج تو کعبے کو لباس پہنایا جائے گا''آج تو رحمت وشفقت کا دن ہے، آج تو کعبے کی عظمت بحال کی جائے گی۔

پھر جب اہل مکہ سرنگوں ہوگئے اور بناکسی بڑی لڑائی کے مکہ فتح ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کے سرداروں کو مخاطب کرکے پوچھا کہ تم مجھ سے کیا توقعات رکھتے ہو، انہوں نے رحم اور رعایت کی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا جاؤ! تم سب آزاد ہو۔ آج تم سے کچھ بھی مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا۔ فرمایا: لاَتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْم ط اِذْہَبُوْا فَاَنْتُمْ الطُّلَقَآءُ۔

رسول اللہ ﷺ کے یہی وہ اخلاق کریمانہ تھے جن کی گواہی بہت ہی قریبی لوگوں نے بھی دی اور دوردراز کے لوگوں نے بھی دی،دوستوں نے بھی دی اور دشمنوں بھی دی۔ رسول اللہﷺ کی شریک حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے زیادہ قریب اور کون ہستی ہوسکتی ہے، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رفاقت کے لئے پسند فرمایا تو اس کی یہی علت بیان کی کہ رسول اللہﷺ کے اخلاق بڑے کریمانہ ہیں اور آپ بہت ہی سچے انسان ہیں۔ فرمایا: اِنِّيْ قَدْ رَغِبْتُ فِيْكَ لِحُسْنِ خُلْقِكَ وَ صِدْقِ حَدِيْـثِكَ ''مجھے آپ اس لیے اچھے لگے کہ آپ کے اخلاق وکردار بڑے عالی ہیں اور آپ بہت سچے انسان ہیں''

اور ایک اور موقع پر جب پہلی وحی نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ بہ تقاضائے بشریت اپنی جان پر خوف محسوس کرنے لگے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جن الفاظ میں رسول اللہ ﷺ کو دلاسہ دیااور جن صفات کے حوالے سے دیا، و ہ رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کریمانہ کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ ان کے الفاظ تھے: کَلَّا وَاللّٰہِ مَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا، اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (بخاری ومسلم)
''خدا کی قسم!اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ توصلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھالیتے ہیں، بے کسوں کو مال وزرسے نوازتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔''

رسول اللہ ﷺ کاابوجہل سے بڑا دشمن شاید ہی کوئی رہا ہو مگر جب اس سے تنہائی میں پوچھا گیا کہ محمد کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے ، وہ جھوٹھے ہیں یا سچے ؟تو اس نے برملا کہا۔''خدا کی قسم محمد سچے ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ ابوجہل چونکہ رسول اللہ کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ اگروہ ایسا کرتا تو لوگ خود اسے جھوٹا کہتے، لوگ کہتے کہ ابوالحکم تم محمد کو کیسے جھوٹا کہہ سکتے ہو، ہم نے تو کبھی بھی انہیں جھوٹ بولتے ہوئے نہیں سنا۔اس لیے اس نے رسول اللہﷺ کی طرف جھوٹ کی نسبت نہیں کی، البتہ رسول اللہﷺ کے دین کوماننے سے انکار کردیا۔ ناجية بن كعب کہتے ہیں کہ ابوجہل نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: لَا نَتَّهِمُكَ وَلَا نُكَذِّبُكَ ، وَلٰكِنَّا نُكَذِّبُ الْذِي جِئْتَ بِه( تفسیر بغوی،الانعام: 33)

''ہم آپ پر تہمت نہیں لگاتے، نہ ہی آپ کو جھوٹا سمجھتے ہیں ، مگر ہم اس دین کا انکار کرتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں۔''

رسول اللہﷺکی امانت داری کا سب سے بڑا ثبوت ہجرتِ مدینہ سے ٹھیک ایک دن پہلے کا وہ واقعہ ہے جب مکہ کے تمام قبائل نے (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا رازدارانہ منصوبہ بنایا اور رات کی تاریکی میں رسول اللہ ﷺ کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس وقت بھی رسول اللہ کے پاس اہل مکہ کی امانتیں رکھی ہوئی تھیں۔ مگر رسول اللہﷺ نے اس صورت میں بھی گوارہ نہ کیا کہ لوگوں کی امانتوں میں خیانیت کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مدینے میں اسی غرض سے چھوڑ دیا کہ وہ سب لوگوں کی امانتیں انہیں لوٹادیں اور پھر ہجر ت کرکے مدینہ پہنچیں۔

رسول اللہﷺ کی زندگی کے آخری تئیس سال بہت ہی ہنگاخیز سال رہے ہیں۔ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا،پھر اس کے معا بعد دعوت وتبلیغ کا کام شروع ہوا۔ دوست دشمن بن گئے اور کل تک ساتھ رہنے والوں نے آنکھیں پھیر لیں،مکہ کے تمام افراد نے رسول اللہﷺ سے اور ان کے گھر والوں سے بات کرنا تک چھوڑ دیا، یہاں تک کہ مقاطعہ کیا گیا اور تین سال کے طویل عرصے تک اہل ایمان کے مٹھی بھر افراد کو بستی سے دور بے سروسامانی کے عالم میں شعب ابی طالب میں گزارنے پڑے، وہ بھی اس طرح کہ کھانے پینے کی چیزیں بھی دستیاب نہیں تھیں۔کئی ساتھی بھوک کی شدت کی تاب نہ لا سکے اور ابدی نیند سوگئے۔ تین تین بار ہجرت کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں، لڑائیاں ہوئیں،معاہدے ہوئے اور صلح ہوئی، شکت وفتح سے گزرنا پڑا۔ میدانِ جنگ میں وہ وقت بھی آیا جب ایک ہی خاندان کے دوافراد آمنے سامنے آگئے،باپ کے سامنے بیٹا اور بیٹے کے سامنے باپ تلوار لیے میدان میں اترآیا۔ جب لالچ دیا گیا اور جان سے مارنے کی پلاننگ تک کی گئی۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے تائید غیبی ،اپنی بے پناہ ذہانت، صبرواستقامت ، حسن معاملہ اور تدبیر وحکمت کے بل بوتے پر بد سے بدترین حالات کوبھی اپنے موافق کرنے میں کامیابی حاصل کی، یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا اور سارا کا سارا عرب رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں آگرا۔مگر حیرت زدہ کرنے والی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایسی ہنگامہ خیز زندگی میں بھی متضاد اعمال وافعال کو جمع کردیا، رسول اللہﷺ نے انہی ہنگامہ خیز دنوں میں عبادت وریاضت میں کچھ بھی کمی واقع ہونے نہیں دی، بلکہ عبادت بھی اس طرح دلجمعی کے ساتھ کی کہ کوئی دوسرا فارغ البالی اورفرصت کے اوقات میں بھی اتنی دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ عبادت نہیں کرسکتا، رسول اللہ ﷺ نماز میں بعض اوقات اتنی دیر تک کھڑے رہتے تھے کہ پاؤں مبارک پر ورم آجاتا تھا۔

ایک طرف جہاد کی مشغولیت بھی درپیش ہے، قرآن بھی ناز ہورہا ہے، اسے محفوظ کرنے اور یاد رکھنے کی بھی فکر ہے، اطراف کے بستیوں سے اور ممالک سے وفود بھی آرہے ہیں، ان سے ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں، دین کی تعلیم بھی دی جارہی ہےاور تبلیغ بھی ہورہی ہے، بادشاہوں کو خطوط بھی لکھے جارہے ہیں، اسفار بھی درپیش ہیں، شادی ونکاح کی محفلیں بھی ہیں اور غم واندوہ کے واقعات بھی ہیں، شہداء کی نمازیں پڑھی جارہی ہیں اور تدفین ہورہی ہے، لوگوں کے آپسی معاملات کا اور جھگڑوں کا نپٹارا بھی کیا جارہا ہے۔ گھر سے لے کر ممبر ومحراب تک اور ممبر ومحراب سے لے کر میدان جہاد تک ہر جگہ اور ہر مقام پر رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس قیادت فرمارہے ہیں اور امامت کررہے ہیں۔ اور پھر اس ساری ہنگامہ خیز زندگی کے پہلو بہ پہلو مکمل سکون اور تخلیے والی زندگی بھی ہے، جس میں اللہ سے راز ونیاز کی باتیں ہورہی ہیں، آنسو بہائے جارہے ہیں اور اللہ کی بارگاہ عالیہ میں اپنے سر کو اس طرح ڈال دیا گیا ہے جیسے اٹھانا ہی بھول گئے ہوں، جیسے فرصت ہی فرصت ہے اور وقت ہی وقت ہے۔اور پھر جیسے جیسے باہر کی ذمہ داریاں بڑھتی جارہی ہیں عبادت وریاضت میں بھی اسی نسبت سے اضافہ ہوتا جاہا ہے۔ یہاں تک کہ زوجۂ رسولﷺ حضرت عائشہ ؓ کو ترس آتا ہے اور وہ سوال کرتی ہیں۔ اے اللہ کے رسولﷺ آپ اتنی ریاضت کیوں کرتے ہیں آپ کوتو اللہ نے مغرفت کا پروانہ عطافرما ہی دیا ہے، تو رسول اللہﷺ بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ فرماتے ہیں:أَفَلَا أَكُونَ عَبْدًا شَكُوراً (رواه البخاري ومسلم ) '' کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟''۔

رسول اللہﷺ نے جنگیں بھی لڑیں بلکہ مجاہدین کی قیادت بھی کی مگریہ بھی اپنے آپ میں بڑا اہم پہلو ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے کبھی بھی کوئی قتل نہیں ہوا،نہ میدان جنگ میں اور نہ ہی آپس کی خاندانی لڑائیوں میں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */