ایک بار پھر ٹرمپ - اوریا مقبول جان

اگر کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی یہ بات ہے کہ دنیا کے جمہوری ممالک میں الیکشن آزادانہ اور منصفانہ ہوتے ہیں تواس غلط فہمی کو اسے دل سے نکال دینا چاہیے۔ ہر ملک کے انتخابات پر اثرانداز ہونے والی قوتیں اپنے مخصوص مقاصد کی تکمیل کے لیئے مخصوص قیادت کو سامنے لاتی ہیں اور پھر اس کے جیتنے کے لیئے ایک سازگار ماحول تخلیق کیا جاتا ہے۔’’سرمایہ‘‘ اور’’ میڈیا‘‘ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جو الیکشن کے دوران پوری منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔ ’’جمہوریت‘‘ کا یہ سارا کھیل اسقدر منظم ہے کہ ایک عام ووٹر کو اس بات کا احساس تک نہیں ہو پاتا کہ اس نے یہ قیادت کیوں اور کس وجہ سے منتخب کی ہے۔ وہ اسی بات میں سرخوش وسر مست رہتا ہے کہ اس کے ووٹ سے حکومتیں بنتی ہیں اور قیادتیں تبدیل ہوتی ہیں۔’’ امریکی الیکشن‘‘ ان پس پردہ قوتوں کی منصوبہ بندی اور چالبازی کی بہترین مثال ہے۔ ویسے بھی امریکی نظامِ حکومت کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اس میں کسی بھی قسم کے انقلاب، تبدیلی اور سسٹم کے خاتمے کی کوئی گنجائش ہی موجود نہیں ہے۔ امریکی آئین ایک مختصر سی دستاویز ہے جو 17ستمبر 1781ء میں تحریر ہوا، 28 ستمبر 1787ء کو پیش کیا گیا، 21 جون 1788ء کو اسے منظور کر لیا گیا اور 4مارچ 1789ء سے یہ نافذالعمل ہے۔ اپنے نافذ ہونے سے اب تک یعنی 231سالوں میں، اس میں صرف 27 ترامیم ہوئی ہیں۔ یہ آئین امریکی معاشرے کا ’’سپریم قانون‘‘ ہے۔ تمامتر نظامِ حکومت و اقتدار اس کے مطابق گھمایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں نہ کسی قسم کے کیمونسٹ انقلاب کے خواب سوچے جا سکتے ہیں اور نہ ہی اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد ثمر آور ہو سکتی ہے ،کیونکہ کیمونزم مزدوروں کی آمریت قائم کرنا چاہتا ہے اوراسلام اللہ کی حاکمیت،جبکہ امریکی آئین اور دستوری ڈھانچہ بظاہر جمہوری ہے، جو اس دکھاوے پر قائم ہے کہ یہاں عوام کی حاکمیت کے سوا کسی اور کی گنجائش نہیں۔

دو بڑی پارٹیوں میں امریکی عوام کو اس بری طرح تقسیم کیا گیا ہے کہ پارٹی تبدیل کرنا عوامی سطح پر ایسا ہی ہے جیسے ’’مذہب ‘‘تبدیل کرنا۔ پارٹی سے وابستگی کو دین و دنیا کی سب سے بڑی ’’اخلاقی قدر‘‘ تصور کیا جاتا ہے اور اب تو اسے ہر جمہوری معاشرے کی ایک علامت بنا دیا گیاہے۔ ایسا اس لیئے کیا گیا ہے تاکہ مٹھی بھر پارٹی قیادت کو پس پردہ قوتیں یرغمال بنا لیں،انہیں سرمائے سے خریدیں یا دھونس سے ساتھ ملائیں، پھر انہیں جیسے چاہیں سدھا لیں۔ اس کے بعد آپ سرمائے کو میڈیا اور دیگر ذرائع سے لوگوں کی رائے بدلنے پر لگا دیں۔ نوم چومسکی نے اپنی مشہور کتاب ’’راضی کرنے کی ترکیب‘‘ (Manufacturing the Consent) میں وہ طریقے بتائے ہیں کہ کیسے میڈیا اور سوشل کمپین کے ذریعے لوگوں کو کسی ایک خاص شخص، خاص پارٹی اور خاص مؤقف کے لیئے ووٹ دینے کے لیئے راضی کیا جاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب کیمونسٹ دنیا سے سرد جنگ کا معاملہ تھا تو کیسے کیسے ’’رجعت پسند‘‘ لیڈروںکو ہیرو بنا کر صدر منتخب کروایا گیا۔ افغان جنگ کے دوران رونالڈ ریگن جیسا شخص برسر اقتدار آیا، جس نے داڑھیوں، پگڑیوں اور عماموں والے افغان مجاہدین کو امریکی قوم کے ’’سات آبائ‘‘(Fathers of the nation)کے ہم پلہ قرار دیا اور پوری قوم نے اس پر تالیاں بجائیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ابھی افغان جنگ شروع ہی نہیں ہوئی تھی کہ ریگن جیسا صدر برسر اقتدار آگیا۔ جیسے ہی کیمونسٹ روس کا خاتمہ ہوا اور امریکی اسٹبلشمنٹ کیلئے ایک اوردشمن کی تخلیق ضروری ہو گئی تو جارج بش ،20جنوری 2001ء کو امریکہ کا صدر بنا اور ٹھیک نو مہینے بعد نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر گیارہ ستمبرکو دو جہاز ٹکرائے اور پوری ’’اُمت مسلمہ‘‘ کے ساتھ جنگ کا آغاز ہوگیا۔ جنگ کے پس پردہ مقصد یہ تھا کہ جب تک کسی بڑے خوفناک اور ہیبت ناک دشمن کا خوف امریکی عوام مسلط نہ کیا جائے ،امریکی قوم کو یک جان اور متحد رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آپ رونالڈریگن اور جارج بش دونوںکی شخصیتوں کا مطالعہ کیجئے، آپ کوان میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا۔ دونوں اپنی ذہنی استعداد اور صلاحیت کے اعتبار سے بہترین ’’ربووٹ‘‘ تھے۔

روٹین امریکی صدر، اشاروں پر ناچنے والے۔ جس طرح امریکی تاریخ میں گیارہ ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسے حملے کی کوئی مثال نہیں ملتی ویسے ہی امریکی الیکشنوں میں تما م تر جائزوں کے برعکس اور میڈیا کی مکمل مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی بھی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جیسے پوری دنیا سے الگ تھلگ امریکی سرزمین بہت محفوظ سمجھی جاتی تھی اور کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس پر کسی جنگجو کے قدم پڑیں گے ، ویسے ہی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ہیلری کلنٹن ، جس پر سرمایہ اور میڈیا دونوں مہربان تھے اور مددفراہم کر رہے ہوں، وہ اس بری طرح ہار جائے گی۔ جس طرح گیارہ ستمبر کا حملہ ان بالادست پس پردہ قوتوں کی کاروائی ہے، جس کا علم تو امریکی اسٹبلشمنٹ کے بڑے بڑے چہروں کو بھی نہ تھا، ویسے ہی ٹرمپ کا جیتنا بھی گذشتہ دو سو سال کے الیکشن کے کھیل پر چھائے ہوئے مہروں کی لا علمی کا اظہار ہے۔ یہ قوتیں کون سی ہیں، کیا چاہتی ہیں اور ٹرمپ کا اس سارے معاملے میں کردار کیا ہے؟ ٹرمپ کوجس مشن کے لیئے امریکی صدارت پر بٹھایا گیا تھا اسے اسکی اسی مدتِ صدارت میں پورا ہوجانا تھا۔ عالمی صہیونیت جو گذشتہ ایک سو سال سے اس دنیا کے ایسے نقشے کی از سرنوترتیب کے لیئے سرگرم عمل ہے، جس کا مرکزی اقتدار یروشلم میں ’’تختِ داؤد‘‘ پر بیٹھا ہوا مسیحا ہو گا اور اس کی اس عالمی حکومت کے سامنے کسی دوسری عالمی طاقت کا وجود ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ ٹرمپ کے آخری سالِ صدارت میں اس جانب پیشقدمی ہو جانا تھی مگر کرونا وائرس نے اسے تھوڑا مؤخر کر دیا۔ اس سفر کا آغاز 23اکتوبر 1995ء کو ایک ایکٹ کے ذریعے ہواتھا، جب امریکی حکومت نے یروشلم کو تل ابیب کی جگہ اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ لیکن اس پر عملدرآمد 25 سال تک رکا رہا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اس بات کا اعلان کر دیا اور اپنی ایمبیسی وہاں منتقل کر دی۔

یہ ہے وہ آغاز ہے جس کی اطلاع رسول اکرم ﷺ نے بھی دی تھی، ’’بیت المقدس کی آبادی، مدینہ کی ویرانی، اور مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور (مسند احمد، ابوداؤد، طبرانی)۔اس دارالحکومت کی منتقلی سے پہلے اسرائیل نے خود کو اسقدر مضبوط کر لیا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ پیدا کرنے والا ملک بن چکا تھا۔ 85فیصد ڈرون وہاں بنتے تھے اور دنیا کی ہر بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا ہیڈ کوارٹر وہاں موجود تھا۔ صرف وال سٹریٹ کے دفاتر بند کر کے یروشلم میں کمپیوٹر کھولنے کی دیر تھی کہ یروشلم دنیا کا معاشی دارالحکومت بھی بن جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ایک بہت بڑی عالمگیر جنگ کی منصوبہ بندی تھی جو امریکہ، چین، روس اور بھارت جیسے ملکوں کو بے کار، ناکارہ اور ایسا تباہ حال بنا دے جیسے سویت یونین دنیا کے نقشے سے عالمی طاقت کے طور پر ختم ہو گیا تھا۔ آج سے تین سال قبل ایک کتاب مارکیٹ میں آئی تھی جس کو پال کورنش (Paul Cornish) اور کنگسلے ڈونلڈسن (Kingsley Donaldson) نے تحریر کیا تھا۔ اس کتاب کا نام تھا ’’2020 world of war‘‘۔ اس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے نومبر کے الیکشن کے آس پاس کی صورت حال ایسی دکھائی گئی تھی جس میں ’’امریکہ اور یورپ میں نسل پرستی اپنے عروج پر ہو گی، چین اپنا دو سو سالہ پرانا عروج حاصل کرنے کے لیئے لڑ رہا ہوگا ،دینا کی معیشت تباہ ہو چکی ہو گی اور پاکستان کی فوج اور عوام مکمل طور پر ایک جہادی روپ میں ڈھل چکے ہوں گے‘‘۔ یہ کتاب ٹرمپ کے اس کردار پر مفصل روشنی ڈالتی ہے جو اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ اس کردار کو ادا کرنے کے لیئے ابھی بھی اس کی ضرورت ہے۔ اس لیئے یہ بات طے ہے کہ امریکی اسٹبلشمنٹ سے بھی بالاصہیونی اسٹبلشمنٹ ایک دفعہ پھر ٹرمپ کو وائٹ ہاوس میں ضرور بٹھائے گی۔ اگر وہ نہ بیٹھا تو پھر ایسی جنگ شروع ہو گی کہ وہاں کوئی اور بھی نہیں بیٹھ سکے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */