زندگی سراب ہے - قرةالعين

اپنے والد مرحوم کی لحد کے پاس کھڑی میں یہ سوچ رہی تھی کہ دنیا کتنی بے ثبات ہے۔حقیقت تو یہ مٹی کا اندھیرا ہے ۔یہ قبریں جو بظاہر خاموش نظر آتی ہیں اصل زندگی تو انہی کے اندر مدفن ہے مگر اسے جیتی آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔کہنے کو قبر کے پاس کھڑی ہوں ،اپنے ابو جان کے پاس لیکن ہمارے درمیان ایک ایسی برزخ حائل ہے جسے ہزار چاہنے کے باوجود پاٹا نہیں جا سکتا۔دو قدم کا فاصلہ صدیوں کے نہ ختم ہونے والے سفر پر محیط ہے۔جہاں سے چاہ کر بھی کوئی مدد کو نہیں پکار سکتا۔خدا جانے زیر زمین کیا حشر برپا ہے۔

دن رات زیر زمیں چلے جاتے ہیں لوگ

نہ جانے تہہ خاک تماشا کیا ہے

دیگر قبروں پر جو طائرانہ نگاہ ڈالی تو ہر قبر بے کسی کی تصویر نظر آئی اور چشم تصور سے ان کے اندر جو جھانکا تو ہر مرقد میں ایک الگ جہاں نظر آیا۔ایسا جہاں جو اعمال سے مزین تھا،ہر ایک کے اپنے کرموں سے سجا تھا،کسی کے پاس بہت سامان زینت تھا اور کوئی تہی دامن ۔۔۔یکدم مجھے ایسا لگا جیسے یہ قبریں اپنی بے بسی پر خود ہی ماتم کناں ہیں۔ ہرقبر اپنی زبان حال سے یہ پکارتی ہوئی محسوس ہوئی کہ میں تنہائی کا گھر ہوں تیاری کر کے آنا،میں وحشت کاآشیانہ ہوں تیاری کر کے آنا۔۔قبرستان کی ویرانی نے مجھے خوفزدہ کردیا۔اس خوف میں مجھے اپنے مستقبل کا گھر نظر آنے لگا جہاں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک روز جا بسنا ہے اور یہ سپردگئ تراب اپنے پیاروں کے ہاتھوں ہی انجام پانی ہے۔

گرویدہ دل اور مغموم سوچوں کے ساتھ اپنے ابو جان کو خدا حافظ کہہ کر پلٹی تو قبرستان سے ملحقہ بازار کی گہما گہمی پر نظر پڑی۔ہر شخص ایک بھاگ دوڑ کی کشمکش میں نظر آیا جیسے ہر ایک پر کوئی دھن سوار ہو۔قبرستان کے مستقبل کے باسی،مجھ سمیت جن سب کی بکنگ پکی ہے،اپنے اس چند روزہ سرائے خانے میں کیسے منہمک ہیں گویا کبھی یہاں سے جانا ہی نہیں ہے، اپنےاصلی گھر سے غافل ،جہاں زبردستی لا بسایا جائے گا اور تنہا چھوڑ دیا جائے گا،رب کے حضور حاضری ہوگی اور کارہائے زندگی کا حساب، پھر اعمال کا توشہ ہوگا اور اپنی جان !!!
زندگی بھی کیا عجب سراب ہے جس کے پیچھے بھاگے چلے جا رہے ہیں اور وہ ہر لمحہ ریت کی مانند ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔ہر اٹھتا قدم انسان کو اسی اندھیری قبر کی طرف دھکیل رہا ہے اور وہ کشاں کشاں اپنے بنانے والے کی طرف لوٹایا جا رہا ہے۔یہ دنیا تو امتحان گاہ ہے جہاں کا پرچہ حل کر کے ہمیں اسی قبر کی طرف لوٹ جانا ہے۔زندگی کی حقیقت یہ ہے لیکن پھر بھی یہ انسان اس دنیا کی رنگینیوں میں کتنا مگن ہے۔

"تمہیں زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے کی دھن نے غفلت میں ڈالے رکھا یہاں تک کہ لب گور پہنچ گئے۔"(التکاثر)

مشہور درویش بہلول کے لئے کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ بازار میں بیٹھے تھے کسی نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو ؟جواب دیا اللہ اوربندوں کی صلح کروا رہا ہوں۔پوچھنے والے نے کہا کہ کیا جواب ملا تو کہنے لگے کہ اللہ تو مان رہا ہے بندے نہیں مان رہے۔پھر ایک مرتبہ اسی شخص نے انہیں قبرستان میں دیکھا تو پھر استفسار کیا کہ کیا کر رہے ہو؟بہلول نے پھر وہی جواب دیا کہ اللہ اور بندوں کی صلح کروا رہا ہوں ،پوچھنے والے نے کہا کہ کیا جواب ملا تو کہنے لگے کہ آج بندے تو مان رہے ہیں مگر اللہ نہیں مان رہا۔یہ دنیا کرجک ہے کلجک نہیں۔یہاں جو کرنا ہے آج ہی کرنا ہے کل کی کس کو خبر کہ مہلت ملے نہ ملے۔یہ دھوکے کا گھر ہے ،مچھر کا پر ہے اس کی زندگی اتنی ناپائیدار ہے کہ اگلا لمحہ اور اگلی سانس بھی یقینی نہیں ہے پھر بھی اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے ہم یکسر فراموش کر دیتے ہیں کہ کسی بھی وقت داعی اجل کی پکار آسکتی ہے۔انسان ہر چیز کی قبل ازوقت تیاری کر لیتا ہےمگرسالوں کی پلاننگ کرتا یہ انسان اس دنیا کے دھوکے میں پھنس کر اپنے اصلی سفر کی تیاری کو موخر کر کے پس پشت ڈال دیتا ہے ۔لیکن تیاری نہ کرنے سے یہ سفر ٹلنے والا نہیں یہ تو درپیش ہو کہ رہے گا۔

کسی نے کہا کہ جب دنیا کی دھن بہت سوار ہو جائے تو قبرستان کا چکر لگا آنا تمہاری لامحدود خواہشوں کا تانا بانا خود ہی ٹوٹ جائے گاکیونکہ اس دنیا کی کسی چیز کی بھی قبر میں جگہ نہیں ہےاور وہاں وہی لوگ سو رہے ہیں جن کی ہزار ہا خواہشیں موت نے پوری نہیں ہونے دیں اور جو پوری ہوئیں وہ بھی ساتھ نہ نبھا سکیں ۔اسی حقیقت کی تذکیر کے لئے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان کی زیارت کرنے کو کہا لیکن ہم وہاں بھی اگر بتیاں جلا کر واپس آجاتے ہیں بھلا اس خوشبو کے دھواں میں اتنی سکت کہاں کہ صدیوں کا سفر طے کر کہ زیر زمین پہنچ سکے۔قبرستان تو عبرت حاصل کرنے کی جگہ ہے ،شعور کی آنکھ سے اپنے مستقبل کو دیکھنے کی جگہ ہے لہذا وہاں جائیں تو بصیرت کے ہمراہ نہ کہ خرافات کے ساتھ۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ایک قبر کے پاس بیٹھے اتنا روئے کہ داڑھی تر ہو گئ ،روتے جاتے اور کہتے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے جسکی یہ اچھی رہی اس کی آگے کی منزلیں اچھی رہیں اور جسکی یہ بری رہی اس کی اگلی منزلیں بری رہیں۔ جیسے میرے نبی نے فرمایا کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے باغ ہے یا جہنم کے گھڑوں میں سے گھڑا ۔
زیرک وہی ہے جو اس دارلعمل میں اپنے اصلی گھر کے لئے بہترین سرمایہ کاری کرلے۔اللہ ہم سب کو اس دار آخرت کی تیاری کی توفیق دے اور میرے والد سمیت جس کے والدین دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں انکی مغفرت فرمائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */