تبدیلی کا خواب - سعدیہ مسعود

گرمیوں کی تپتی رات تھی کسی کروٹ چین نہیں آتا تھا۔ صحن میں چار پائیوں پر سوئے تھے اس انتظار میں کہ رات گہری ہو تو کچھ گرمی میں کمی آئے۔ ابو ریڈیو پر بی بی سی پر خبریں سن رہے تھے۔ میرے کان ادھر ہی تھے کہ بعد میں ابو کے ساتھ ان سب ایشوز پر بات ہوتی تھی۔ میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ اپنے Intellectual اباکومتاثر کر پاؤں کہ یہ سب سیاسی باتیں مجھے بڑی اچھی سمجھ آتی ہیں۔

ان خبروں میں اچانک انڈیا کی کسی ریاست میں آلو مہنگا ہونے پر احتجاج کی خبر سن کر حیران رہ گئی۔ رہا نہ گیا، درمیان میں ہی بول پڑی،” ابو وہاں لوگ آلو مہنگا ہونے پر جلوس نکال رہے ہیں۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے ؟ ہم تو کبھی آلو مہنگا ہونے کی شکایت تک بھی نہیں کرتے۔کجا یہ کہ سب ایک دوسرے کو آلو خریدنے سے منع کریں اور پھر بائیکاٹ کے ساتھ ہی جلوس بھی نکالیں۔ کیا یہ لوگ بہت کنجوس ہیں؟“ دل سے انڈیا کی برائی سننا چاہتی تھی کہ کنجوسی کا حال دیکھو، آلو کی وجہ سے جلوس نکال رہے ہیں۔ ہم دل کے امیر ہیں،تنگ بھی ہوں تو کچھ نہیں کہتے ، بس خرید لیتے ہیں۔ ابو کے جواب نے حیران کر دیا۔ کہنے لگے ہم سے زیادہ بڑی تعداد میں وہاں پڑھے لکھے لوگ ہیں، سیاسی شعور بھی ہم سے بہتر ہے۔ بات آلو کی قیمت کی نہیں ہے۔ بات انصاف کی ہے کہ آلو عام استعمال کی چیز ہے اس کو لوگوں کی پہنچ میں رہنا چاہیے۔ جب سب مل کر طے کریں کہ نہیں خریدنا اور احتجاج بھی کریں تو حکومت اس کے لیے اقدامات کرے گی، یوں امیر ہو یا غریب آلو اس کی پہنچ میں رہے گا۔

میں کافی متاثرہو گئی، بلکہ سچی بات ہے جیلس ہوگئی، ان میں شعور ہے تو ہم میں کیوں نہیں۔ میرا اگلا سوال تھا، ” ابو ہم کب باشعور قوم بنیں گے ؟ اس کے جواب میں ریڈیو واپس کھولتے ہوئے وہ بولے،” بنیں گے، ضرور بنیں ، لیکن وقت لگے گا۔ “پرویزمشرف دور تھا ،کسی بات پر احتجاج کی خبر سن کر بھاگ کے ابو کے کمرے میں گئی اور خوشی خوشی بتایا ابو احتجاج ہورہا ہے۔ ہم باشعور ہو رہے ہیں۔ سرگزشت رسالے کا نیا شمارہ پڑھتے ہوئے ابو نے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا، بابا ہالی ٹائم لگسی(بیٹا ابھی وقت لگے گا۔) اس ناامیدی والے جملے کے باوجود میں خوش تھی، میرے سامنے احتجاج شروع ہو رہے تھے۔ تبدیلی کسے اچھی نہیں لگتی، ہم نے بھی اپنے آپ میں تبدیلی لانے کا ، ایک تبدیل شدہ قوم بننے کا خواب دیکھا تھا۔ تبدیلی کا یہ خواب ، یہ خواہش اپنی جگہ سچی ہے، ہمیں کوئی شرمندگی نہیں، اگر اس میں کچھ دیر ہے تو۔ کہا جا رہا ہے کہ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں اگر لوگ عمران خان کی بیڈ گورننس کی وجہ سے آئے ہیں ۔ اگر یہ سچ ہے تو وہ خواب ہے جو برسوں سے دل میں بسا تھا۔

میاں نواز شریف کے انقلابی بیانئے پراگر کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں، تو یہ بھی تبدیلی ہے کہ جذباتی نعروں کو آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کیا جا رہا۔ عمران خان کی کارکردگی پر اگر تحریک انصاف کے اپنے کارکن اور ووٹر ہی تنقید کر رہے ہیں، مہنگائی پر سوال اٹھا رہے ہیں تو اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہوگی؟ بلاول بھٹو کے چیخ چیخ کر لگائے نعروں اور تنقید پر اگر یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت تو چلو بری ہے، مگر سندھ حکومت نے لوگوں کے لئے کیا کیا، کراچی کی حالت سنوارنے کے لئے کیا کچھ کیا، تو یہ سوال بھی تبدیلی کا اشارہ ہے۔تبدیلی آتے آتے ہی آتی ہے، اس کے لئے پہلی شرط تبدیلی کا خواب دیکھنا ہے اور پھر اس کی تعبیر پانے کی سوچ۔سوال اٹھانا، منظم ہونا، جدوجہد کرنا یہ سب تبدیلی کی دنیا کی باتیں ہیں۔ ایسا ہوتا رہا تو ان شااللہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ ہم اسی کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */