پریوں کے دیس میں - مفتی سیف اللہ

ملکۂ کوہسار مری میں اکتوبر کی ایک شام،غروبِ آفتاب کا حسین نظارہ ،اُفق پر چھائی لالی،نگاہ نے ٹکٹکی باندھ لی۔قدرت کے دلفریب مناظر میں کھو گیا۔قدرتی حسن کو دیکھنے کہیں جاناچاہئیے۔دلِ بیتاب نے اصرار کیا۔چلو ناران چلتے ہیں۔اپنے دوست سے بات کی اس نے بھی تائید کی،کچھ ہی دیر میں گاڑی والے سے بات طے ہوگئی،صبح نو بجے وہ گھر کا سامنے ہوگا۔رات گئے تک تیاری کرتے رہے،ضروری سامان پیک کیا، صبح ہلکا سا ناشتہ کیا،خوشی کی وجہ سے سویا گیا اور نہ ہی کھایا گیا۔لوجی گاڑی آگئی۔ڈرائیور سے مصافحہ و تعارف ہوا،چھریرے بدن والا چاق وچوبند،بھلے مانس انسان تھا۔

مری کے خوبصورت راستوں پر گاڑی نے چلنا شروع کیا،چمکتا دن،معتدل موسم قدرے خنکی،ہم مری سے کشمیر کی طرف جارہے تھے،بھوربن کے گھنے جنگلات اور وہاں سے فلک بوس پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ،تھوڑی دیر میں ہم او سیاہ پہنچ گئے،پہاڑوں کے درمیان گنجان آبادی اور شاندار عمارتوں والا خوبصورت گاؤں،جوں جوں گاڑی اترائی کی طرف جارہی تھی موسم بھی بدل رہا تھا اب اس میں خنکی کی بجاۓ قدرے تمازت آچکی تھی۔کچھ دیر بعد ہم دریاۓجہلم کے کنارے مشہور سیاحتی مقام کنیر پل پہنچ گئے۔جہاں پہاڑوں سے آنے والا ایک نالہ دریا سے ملتا ہے ۔پانی پر رکھی چارپائیوں پر بیٹھے اور بہت قریب سےدریا کی لہروں اور موجوں کو دیکھا،ہمارا ڈرائیور جو کہنے کو تو ڈرائیور تھا مگر حقیقت میں رہبرِسفر اور خضرِراہ تھا۔اہم سیاحتی مقامات اور ان کے متعلق تمام معلومات سے بخوبی آگاہ تھا۔ہر خوبصورت پوائنٹ پر گاڑی روک کر ہمیں اس کے متعلق دلچسپ معلومات دیتا۔چند لمحے رکتے دلفریب نظارے کرتے اور چل دیتے۔

کوہالہ پل کو عبور کرکے ہم کشمیر میں داخل ہوچکے تھے،موسم قدرے گرم ہوچکا تھا۔ہموار اور سیدھی سڑک ایک طرف بل کھاتا دریا دوسری طرف بلند و بالا پہاڑ،گاڑی فراٹے بھرتے بھاگ رہی تھی۔وہ سامنے والی عمارت کو دیکھیں۔ اس نے ایک پرانی عمارت کی طرف اشارہ کیا ۔ہم نے بہت توجہ وانہماک سے دیکھا تو وہ بولا۔یہ ایک تاریخی عمارت ہے،کشمیر آتے ہوۓ قائداعظم نے اس میں ایک دن قیام کیا تھا۔قدرتی مناظر کا بہت قریب سے مشاہدہ کرتے ہم آگے بڑھ رہے تھے۔یکایک گاڑی کی رفتار کم ہوتی ہے۔ہم نے یہاں چاۓ پینی ہے،بہت اعلیٰ اور عمدہ چاۓ ہے۔وہ گویا ہوا۔اور سڑک پر واقع ایک ہوٹل کے سامنے گاڑی روک دی۔سادہ ہوٹل،دیہاتی بیرے اور مٹی کے پیالوں میں گُڑ کی چاۓ۔واہ کیا مزہ آگیا۔چاۓ پینے کے بعد سب نے اپنا اپنا تبصرہ کیا۔کافی دیر سے ہم دریا کےساتھ یا دریا ہمارے ساتھ چل رہا تھا۔
پہاڑوں پر اِکا دُکا گھر اور سڑک پر تھوڑی تھوڑی دیر بعد چند دکانوں پر مشتمل بازار دکھائی دیتے تھے۔

کچھ دیر بعد ہم مظفرآباد شہر میں داخل ہوگئے،بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں آباد خوبصورت شہر جس میں تین دریاؤں کا ملاپ ہوتا ہے،قدرتی حسن اور خوبصورت عمارتیں آپ یہاں ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔مظفرآباد سے گزر کر ہم گڑھی حبیب اللہ کی سڑک پر آگئے۔یہ سڑک شہر سے بلندی کی طرف جارہی تھی۔تھوڑی دیر بعد ہمارے رہبر نے ایک موڑ پر گاڑی روک دی۔مظفرآباد شہر دیکھیے۔ اس نے کہا۔واہ کیا خوبصورت نظارہ ہے،پورا شہر،سرکاری عمارات،شاندار مکانات،بل کھاتے دریا،سبزہ زار اور گھنے درخت ایک ساتھ دکھائی دے رہے تھے۔اسے پورے شہر پر ایک طائرانہ نظر بھی کہہ سکتے ہیں۔تھوڑا آگے جاکر چائنا کے تعاون سے بنایا جانے والا ڈیم دیکھا۔جو جنگل میں منگل کا منظر پیش کررہا تھا،پہاڑوں کو کاٹ کر اور دریاؤں کا رخ موڑ کر بجلی پیدا کرنے کا عظیم الشان منصوبہ،بہت بلندی سے گہرائی میں بالکل واضح نظر آرہا تھا۔پُرخطر وسنگلاخ پہاڑی راستے سے ہوتے ہوۓ اب ہم گڑھی حبیب اللہ پہنچ گئے۔چاروں طرف پہاڑ درمیان کھلے میدان میں ہنستا بستا چھوٹا سا شہر،لوگ اپنے کاروبار زندگی میں مشغول تھے،دیہاتوں سے آۓ کچھ لوگ بھی نظر آرہے تھے۔

شہر کے اطراف سرسبزوشاداب پہاڑیاں،گھنے درخت،ہرے کھیت اور شفاف نہریں قدرتی حسن کو دوبالا کررہی تھی۔ہر طرف قدرت کے بکھرے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے آگے بڑھ رہے تھے۔ سورج ڈھلے کافی دیر ہوچکی تھی ہم نماز کیلئے مسجد کی تلاش میں تھے۔برلبِ سڑک مسجد میں نماز کیلئے رکے۔سادہ اور خوبصورت مسجد،نہایت بااخلاق امام صاحب،پرتپاک انداز سے ملے۔نماز ظہر ادا کی اور اگلی منزل کیلئے روانہ ہوگئے۔کچھ دیر بعد ہم مانسہرہ سے بالاکوٹ آنے والی سڑک پر پہنچ گئے۔گڑھی حبیب اللہ سے یہاں تک تنگ سڑک تھی مگر اب ایک بڑی شاہراہ پر جارہے تھے۔اب گاڑی کی رفتار بھی زیادہ تھی کچھ ہی دیر میں ہم بالاکوٹ شہر میں تھے۔پہاڑوں کے دامن میں بسے خوبصورت شہر کو وادئ بالاکوٹ کہا جاتا ہے۔شہر کے وسط میں دریاۓ کنہار بہتا ہے دریا کے دونوں اطراف آبادی ہے۔اسں شہر کو ایک عظیم روحانی نسبت حاصل ہے کہ اس میں شاہ اسمعیٰل شہید کا مزار بھی ہے۔

بالاکوٹ کے ایک دیہاتی نما ہوٹل میں دوپہر کا سادہ سا کھانا کھایا،ہم نے گوشت اور دال کھائی جبکہ ہمارے رفیقِ سفر نے چنے چاول کا انتخاب کیا،ہوٹل میں خانسامے ادھیڑ عمر کے جبکہ بیرا ایک معصوم بچہ تھا، وہ نہایت پھرتی سے آرڈر وصول کرتا اور گاہکوں کو سروس دے رہا تھا،اس کی معصومانہ ادائیں دل کو لُبھارہی تھی مگر پڑھنے کی عمر میں بچہ کو کام کرتا دیکھ کر دل افسردہ سا ہوگیا۔تھوڑی دیر بعد ہم ناران کیلئے چل دئیے،گاڑی بلندی کی طرف چڑھنا شروع ہوگئی جوں جوں گاڑی اوپر جارہی تھی ہمیں دور دور تک بالاکوٹ شہر کے مناظر دکھائی دے رہے تھے۔کچھ دور جاکر بالاکوٹ شہر ہم سے اوجھل ہوگیا مگر بلند و بالا پہاڑوں کا ایک طویل سلسلہ تھا۔کشادہ سڑک مگر ایک طرف گہری کھائی اور پہاڑ کے اوپر سے چٹانوں کے گرنے کا خطرہ۔تھوڑی دیر بعد جرید مقام آیا،نہایت سرسبزوشاداب پہاڑی گاؤں، چند گھر اور کچھ دکانوں پر مشتمل بازار،بل کھاتی سڑک،پہاڑوں پر بنے چھوٹے چھوٹے کھیت اور گرتی آبشاریں۔سورج خاصا ڈھل چکا تھا،تھوڑی دیر بعد ہمارے رہبر نے گاڑی روکی،عصر کی نماز پڑھ لیجئے۔

وضو تو بہرحال روحانی پاکی کا ذریعہ ہےمگر آج وضو میں روحانیت اور قدرتی حسن کی دلربا آمیزش تھی۔سڑک کے کنارےخوبصورت آبشار،موتی جیسا شفاف پانی گرتے ہوۓ دودھ کی طرح سفید نظر آرہا تھا،وہاں وضو کیا،قریب مٹی،گارے کی بنی مسجد میں نماز پڑھی،روحانیت اور قدرتی سادگی کا حسین امتزاج،تھوڑی دیر بعد آگے چل دئیے،سورج کی روشنی مدھم ہورہی تھی،روشنی بکھیرنے والا سورج الوداع کہہ رہا تھا،چند لمحوں بعد وہ پہاڑوں کی اوٹ میں جاکر چھپ گیا،اب نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے،مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی،آسمان پر کچھ سرخی و سفیدی کے بعد اندھیرا چھا گیا جو لمحہ بہ لمحہ گہرا ہورہا تھا۔پہاڑوں پر بنے گھروں کی روشنی ایسے لگ رہی تھی جیسا کہ آسمان کے تارے ہوں،ہر طرف مکمل خاموشی تھی گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔کب ناران پہنچیں گے۔ بےتابی سے انتظار ہورہا تھا۔اب مہانڈری آگیا۔چھوٹا سا بازار اور پہاڑوں پر بنے چند گھر، اس کے بعد وادئ کاغان قدرے بڑا بازار اور آبادی،بہت سے ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز بھی یہاں پاۓ جاتے ہیں۔

کاغان سے آگے بڑھے تو راجوال آتا ہے یہاں پر بھی کافی ہوٹل ہیں،رفیق سفر نے کہا کہ یہاں ہوٹل میں رہنے کا بندوبست کرلیں مگر ہم نے کہا کہ آگے چلتے ہیں۔
کچھ ہی دیر میں ناران شہر کے آثار شروع ہوگئے ۔کافی دیرگھٹاٹوپ اندھیرے کے بعد روشنیوں بھرا شہر نظر آرہا تھا۔ناران شہر پہنچ کر ہوٹل تلاش کیا،کافی تگ و دو کے بعد ریلیکس ان ہوٹل میں قیام کرنے کافیصلہ کیا۔معقول رقم میں اچھا کمرہ مل گیا۔ بالاکوٹ سے ناران تک جگہ جگہ مون ریسٹورنٹ کی ایڈورٹائزنگ دیکھی تھی اسلئے اسی ریسٹورںٹ میں رات کے کھانے کا پروگرام بنایا۔ناران شہر میں وسیع وعریض،روایتی انداز اور لذیذ کھانوں والا مون ریسٹورنٹ،نہایت لذیذ کڑاہی گوشت اور اس کے بعد عمدہ چاۓ۔واقعی مون ریسٹورنٹ کو جیسا سنا تھا ویسا بلکہ اس سے بہتر پایا۔کھانے کے بعد ناران بازار کا چکر لگایا،سخت سردی اور مکمل خاموشی،سرگوشی کی آواز بھی سنائی دے۔دکاندار سڑک پر بیٹھ کر آگ سینک رہے تھے۔ناران کی یخ بستہ ہواؤں نے ہمیں مظفرآباد کی گرمی کو بھلا دیا تھا۔ایک ہی دن میں ہم کئی موسموں کا لطف اٹھا چکے تھے مگر اب تو اخیر ہی ہوگئی تھی
۔
رات کو ہوٹل میں آرام کیا۔صبح آگے جانا تھا۔ہماری اگلی منزل ”جھیل سیف الملوک”تھی۔یہ مقام ناران سے بھی بلندی پر واقع ہے جہاں صرف مقامی لوگوں کی جیپیں جاسکتی ہے۔اسلئے ایک جیپ کراۓ پر لی اور جھیل کی طرف روانہ ہوۓ،انتہائی خستہ حال،کچی سڑک جس میں جا بجا گڑھے پڑے ہوۓ تھے۔جیپ میں بیٹھ کر پاؤں زمین پر کم اور سر چھت کو زیادہ لگتا تھا،اوپر جاتے وقت ناران شہر بالکل ایسا ہی دکھائی دے رہا تھا جیسا کہ گڑھی حبیب اللہ آتے ہوۓمظفرآباد اور ناران آتے ہوۓ بالاکوٹ نظر آرہا تھا۔جھیل کی طرف جاتے ہوۓ برفباری بھی شروع ہوچکی تھی اسلئے مقامی ڈرائیور نے کہا کہ جلدی واپسی کرنا،ہم نے بھی حامی بھر لی،لوجی اب ہم جھیل سیف الملوک پر پہنچ گئے۔عجب منظر تھا،محسوس ہوتا تھا وقت تھم گیا،بچپن میں جو کتابوں میں پڑھا تھا اسے اب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
لگتا تھا خواب دیکھ رہے ہیں یا جو خواب تھا اس کی تعبیر دیکھ رہے ہیں،فلک بوس پہاڑوں کے درمیان خوبصورت جھیل،برف کی چادر اوڑھے پہاڑوں کے دامن میں موتی جیسا صاف شفاف پانی،برفباری اور دھوپ کی آنکھ مچولی،ہم یادوں میں کھو گئے،ہم نے سن رکھا تھا یہاں پریاں ہوتی ہیں،چشم تصور اور قوت تخیل نے پریوں کو آتے جاتے دیکھا۔

جھیل کے اطراف میں پیدل چلنے اور جھیل میں کشتی رانی کا انتظام،پہلے کشتی میں بیٹھ کر جھیل کا چکر لگایا پھر کناروں پر ٹہل کر قدرتی حسن کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔دلفریب نظاروں میں مگن کافی وقت گزر گیا،واپس لوٹے سردی سے بچاؤ کیلئے سٹالوں سے چاۓ پی اور پکوڑے کھاۓ۔جھیل کے بالکل سامنے بنی خوبصورت مسجد میں یخ بستہ پانی سے وضو کرکے نمازِ ظہر پڑھی اور جھیل کی خوبصورت یادوں سمیت واپس ہوۓ۔کچھ ہی دیر میں ناران ہوٹل آگئے وہاں ہمارے خضرِراہ چشم براہ تھے۔اب ہم ناران کے اگلے علاقوں کو دیکھنے روانہ ہوگئے۔چند لمحوں بعد بٹّہ کنڈی آگیا،سڑک کے ساتھ وسیع وعریض خوبصورت نہر کا دلفریب منظرجبکہ دوسری طرف بلند و بالا پہاڑ، وہاں تہہ بہ تہہ بنے مکانات ایک پہاڑی کالونی کا منظر پیش کررہے تھے۔کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد آگے چل دئیے۔آگے ایک خوبصورت بستی میں پہنچے جسے جلکھڈ کہتے ہیں۔ہرے بھر کھیت اور سبزہ زار کچھ کچے اور کچھ دیہاتی طرزِتعمیر کے گھر جبکہ کچھ ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز بھی پاۓ جاتے ہیں۔چند گھروں پرمشتمل آبادی،چھوٹا سا بازار،سادہ زندگی،صاف شفاف ہوا اور قدرتی ماحول عجب منظر پیش کررہا تھا۔

سورج غروب ہورہا تھا اسلئے واپسی کا قصد کیا،رات ہوٹل میں قیام کرنے کے بعد اگلے دن علی الصبح ہم شوگر ان کیلئے چل دئیے۔بالاکوٹ آتے ہوۓ کیوائی کے مقام سے چند کلو میٹر اوپر پہاڑ کی چوٹی پر شوگران واقع ہے،شاید پورے علاقے میں سب سے زیادہ سرسبزوشاداب مقام ہے۔تاحدنگاہ سبزہ ہی سبزہ ہے،کہیں پہاڑ،کہیں ہموار میدان اور کہیں جنگلات،خوبصورت پھول اور شاندار عمارتیں یہاں واقع ہیں،بہت سے ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں جہاں سیاح قیام کرتے ہیں۔ایک ہوٹل کا ایجنٹ ہمیں اپنے ساتھ پائن پارک ہوٹل لے گیا،پر شکوہ عمارت،خوبصورت طرزتعمیر ،چاروں اطراف رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں،ہرا بھرا سبزہ، ہوٹل کی خوبصورتی نے آنکھوں کو نور اور دل کو سرور بخش دیا۔

ہم کچھ دیر شوگران کے سبزہ زاروں میں گھومتے رہے،مقامی سٹال سے چاۓ پی اور پھر روانہ ہوگئے۔شوگران ہمارا آخری سیاحتی مقام تھا اس کے بعد ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوچکا تھا۔تین دن کا مختصر سیاحتی سفر مکمل ہونے جارہا تھا مگر اس کی جو حسین یادیں ہم نے اکٹھی کی وہ کبھی بھول نہ پائیں گے۔ہم جہاں کہیں بھی رہیں گے اور جہاں کہیں بھی جائیں گے وہ یادیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */