سلطان صلاح الدین ایوبیؒ - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

قومیں قوموں کو معاف نہیں کرتیں۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو بیت المقدس سے نکالا تھا۔اس کے بعد صدیاں بیت گئیں،حالات کہاں سے کہاں پہنچ گئے ،مسلمان قومیں اوج ثریا کے بام عروج سے غلامی کی تحت الثراتک جاگریں۔خود یورپ نے مذہب کوخیرآباد کہااور سیکولرازم اور لبرل ازم ,ایتھیسٹ اور ہیپی ازم جیسے خدابیزارنظریات کے نام پر شیطان مردودکے پیچھے چل نکلے۔سائنس اور علوم و معارف بہت ترقی کر گئے یہاں تک کہ دنیامیں رسوم و رواج اورتہذیب و تمدن کاسورج مغرب سے طلوع ہونے لگا۔تین سوسال کے طویل عرصے تک گوروں نے مسلمانوں پرحکومت بھی کی اور اپنی کالونیوں میں بسنے والوں کاخوب درخوب خونی استحصال بھی کیا،لیکن اس سب کچھ کے باوجود پہلی جنگ عظیم کے بعدجب یورپی فاتح جرنیل ،کہنے کوسیکولرلیکن مذہبی تعصب سے بھراہوا،شام میں داخل ہواتوسب سے پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی کے مزارپر گیااور لکڑی کے دروازے پر لگے کنڈے کوزور سے بجاکر کہا کہ او صلاح الدین سن لے کہ ہم پھر آگئے ہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اﷲ علیہ(1138-1193ء)موجودہ عراق کے مشہور شہر تکریت میں پیداہوئے جو صوبہ کردستان کا ایک تاریخی علاقہ ہے،اس طرح سے آپ نسلاََ کرد تھے اورقبیلہ ’’روادیہ‘‘سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کے آباؤ اجداد آرمینیاکے قدیمی تاریخی شہر’’دوین‘‘کے باسی تھے۔آپ کا خاندان کچھ پشت قبل عربستان میں منتقل ہوگیاتھا ۔آپ کے دادا’’شازی ابن مروان‘‘پہلے بغدادمیں رہائش پزیر تھے بعدازاں جب تکریت میں منتقل ہوئے تو اس علاقے کے حاکم ’’بہروز‘‘نے انہیں اسی شہر کا والی مقررکردیا۔داداکے انتقال کے بعد صلاح الدین ایوبی کے والد گرامی ’’نجم الدین ایوب‘‘اپنے والد کے چھوڑے ہوئے منصب پر فائزکردیے گئے اور تکریت شہر کے حاکم بنے۔بوجوہ اس خاندان کو تکریت کاشہرچھوڑناپڑا۔مورخین لکھتے ہیں کہ تکریت سے ہجرت والی رات صلاح الدین ایوبی پیداہوئے اوروالدین نے آپ کا نام مشہور نبی اسلام حضرت یوسف علیہ السلام کے نام پر’’یوسف‘‘ رکھا،’’صلاح الدین‘‘ آپ کا لقب تھا۔ ۔نجم الدین ایوب نے اپنی خدادادصلاحیتوں سے مسلمانوں کے مشہور حکمران ’’سلطان نورالدین زنگی رحمۃ اﷲ علیہ ‘‘کاقرب حاصل کرلیاتھا۔سلطان نورالدین زنگی نے جب دوسری بڑی صلیبی جنگ کے بعد دمشق فتح کیاتو تو نجم الدین ایوب کو یہاں کا حاکم مقررکردیا۔ان حالات سے اندازہ ہوتاہے کہ ننھے صلاح الدین ایوبی کابچپن اور لڑکپن کن حالات کے مشاہدے میں گزراہوگا۔

صلاح الدین ایوبی کے بارے میں بتایاجاتاہے کہ وہ بچپن میں یونانی حکمائے ہندسہ کے اسماء سے واقف حال تھے اور سوا ل و جواب میں ان کے حوالے بھی دیتے تھے۔ابتدائی تعلیم میں قرآن و سنت کی طرف صلاح الدین ایوبی کی فطری رغبت تھی لیکن ادب میں دلچسپی کے باعث ’’حماسہ ‘‘جوابوتمام کا شعری مجموعہ تھا صلاح الدین ایوبی کو زبانی یاد تھا اور عربی و کردی زبانوں پر بھی کامل دسترس حاصل تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ازشرق تاغرب کل امت مسلمہ بیت المقدس کی جدائی میں نوحہ کناں تھی۔اور صلیب و ہلال کے معرکے چہاراطراف میں گرم تھے اور آئے روز کہیں نہ کہیں میدان کارزارسجے رہتے تھے اور کہیں فتح کے شادیانے بج رہے ہوتے تو کہیں شکست خوردہ فریق اپنے زخم چاٹ رہاہوتااور پھر بہت جلد گردش ایام پلٹ بھی جاتی۔وقت نے جب صلاح الدین ایوبی کے اعصاب میں قوت کی بجلی دوڑائی تو یہ نوجوان نورالدین زنگی کی فوج میں شامل ہوا اورسب سے پہلے اپنے چچااسدالدین شیرکوہ کے ہمراہ فتح مصر میں اپنی تلوارکے جوہر دکھائے۔صلاح الدین ایوبی کے والد نجم الدین ایوب اگست 1173ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انہی کے نام سے بعد میں’’ ایوبی سلطنت‘‘ قائم ہوئی جومصر،شام،یمن،عراق ،موصل،حلب اورحجازکے علاقوں میں قائم رہی اور اس سلطنت کے ہر حکمران کے ساتھ ’’ایوبی‘‘کا سابقہ لگا جب کہ اس سلطنت کا بانی حکمران سلطان صلاح الدین ایوبی تھا۔والد کے بعد صلاح الدین ایوبی نے اپنے چچا اسدالدین شیرکوہ کے ساتھ بہت وقت گزارا۔اپنے والد کی بجائے ان پر چچاکی شخصیت کے گہرے اثرات تھے۔چچا صرف چچاہی نہ تھے بلکہ ان کے اتالیق،استاد اور فن حرب میں ان کے گروبھی تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کاشمار تاریخ انسانی کے بڑے بڑے فاتحین میں ہوتاہے۔مسلمانوں میں وہ فاتح بیت المقدس کے اعزازی لقب سے پہچانے جاتے ہیں۔دیگرمتعدد مسلمان فاتحین کی طرح سلطان صلاح الدین ایوبی کو ان کے دشمن بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔سلطان ساری عمر صلیب سے برسرپیکاررہے اس کے باوجود مسیحی حکمران و عیسائی مورخین نے سلطان کی فیاضی،حسن خلق،سخاوت اور بردباری کی دل کھول کر تعریف کی ہے۔مسیحی افواج کاایک کمانڈر’’رینالڈ‘‘جو انتہائی ظالم،سفاک اور بدکردارہونے کے ساتھ ساتھ گستاخ رسولﷺ بھی تھا اوراس نے اپنی افواج کو جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی نیت سے حجازمقدس پر چڑھائی کاناپاک ارادہ تک کرلیاتھا۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے پہلے اس شاتم رسول کے قتل کی قسم کھائی اور پھرایک بہت بڑے معرکے کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔1187ء میں ایک بہت بڑی جنگ میں تاریخی کامیابی کے بعد سلطان نے اپنی تلوار سے بذات خود اس دشمن رسول کا سر قلم کر دیااوراپنی قسم پوری کی۔عیسائیوں نے88سال تک فلسطین پر قبضہ کیے رکھااور مسلمانوں پر بیت المقدس کے دروازے بند کیے رکھے۔

عیسائی افواج جب فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں داخل ہورہی تھیں توان کے گھوڑے گھٹنے گھٹنے تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبے ہوئے تھے اور ساراشہر مسلمانوں کی لاشوں سے اٹا پڑاتھا۔اس کے برعکس جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کیاتوعیسائی زائرین کو بھی مقدس مقامات کی زیارت کی اجازت دے دی۔اس اجازت کافائدہ اٹھاتے ہوئے زائرین اس قدر زیادہ تعداد میں امڈآئے کہ عیسائی منتظمین سے ان کا سنبھالنا ممکن نہ رہا۔اس پرسلطان کا حریف بادشاہ ’’رچرڈ‘‘جو کہ جانی دشمن تھا ،اس نے سلطان کو کہلابھیجاکہ صرف میرے اجازت نامے پرہی کسی بھی عیسائی کوبیت المقدس میں داخل ہونے دیاجائے۔سلطان نے یہ درخواست مستردکر دی اور عیسائی زائرین کاانتظام اپنے ہاتھ میں لے کر نظم و نسق قائم کیا اور مسلمانوں کی روایتی مہمان داری کی روایت برقراررکھتے ہوئے ان زائرین کی بے حد خدمت داری کی۔زائرین کو بہترین رہائش،خوراک اور ان کے آرام و عبادات کا پوراپوراخیال رکھاگیا۔اس پر ’’رچرڈ‘‘نے سلطان کی تعریف کی اور شکریہ بھی اداکیا۔سلطان صلاح الدین ایوبی جہاد کابے حد شوقین تھا۔گھوڑے کی پیٹھ اس کا گویا مسکن ثانی تھا۔بعض اوقات صرف نمازوں کے لیے ہی اسے سواری سے اترنا نصیب ہوتاتھا۔

مسلسل گھڑسواری کے باعث اس کے نچلے دھڑ میں زخم ہو چلے تھے،چنانچہ وہ گھوڑے سے اترتاتواسے تکلیف شروع ہوجاتی جس سے نجات کے لیے وہ پھرگھوڑے پرسوارہوجاتااور جہادفی سبیل اللہ میں مصروف ہوجاتا۔بیت المقدس کی فتح کے بعد اس نے سلطان نورالدین زنگی مرحوم کاتیارکیاہوا ممبر اپنے ہاتھوں سے مسجداقصی میں نصب کیااور مرحوم کی خواہش پوری کی۔سلطان کی ذاتی زندگی سادگی اوربے نیازی کامرقع تھی۔ساری عمر کبھی ریشمی لباس زیب تن نہ کیاتھا،سادہ کھانا کھاتے رہے اور کچے گھرمیں رہائش پزیررہے۔فتوحات کے بعد جو خزانے ہاتھ لگتے انہیں بیت المال میں جمع کراکے تو عوام الناس کی فلاح و بہبودپر خرچ کر دیاجاتا۔27صفر589ھ میں امت مسلمہ کا یہ سپوت ملک شام میں داعی اجل کو لبیک کہ گیا،جامعہ مسجددمشق کا جوار ان کی آخری آرام گاہ قرارپایا۔

طاقت کی زبان ایک بین الاقومی حقیقت ہے۔آج دنیاکوپیارومحبت کا درس دینے والوں کے بحری بیڑوں نے سمندروں پر قبضہ کرکے تو کل ممالک کاعسکری و معاشی محاصرہ کررکھاہے۔سیکولرطاغوتی طاقتیں اپنامفادبے دریغ جنگ سے پوراکر لیتی ہیں اور چھوٹی قوموں کے لیے امن کے نام پر مزاکرات کوطول دے کر اپنی صف بندی کے لیے مناسب مہلت حاصل کرلیناان کاوطیرہ بن چکاہے۔سلطان صلاح الدین کی کل حیات ہمارے لیے نمونہ ہے کہ انہوں نے چالاک،شاطر اور مضبوط دشمن کے ساتھ کس طرح مقابلہ کیا۔سلطان کے ساتھ بدعہدیاں بھی ہوئیں اورانہیں بعض معرکوں میں ہزیمت کاسامنابھی کرناپڑا،ان سب پر مستزادیہ کہ انہیں مرکزخلافت اور دیگرمسلمان حکمرانوں کی طرف سے بھی مایوسیاں ہی ملیں۔لیکن ان سب کے باوجود اسوۃ حسنہﷺ اور توکل علی کی بنیادپر مسلسل برسرپیکاررہنے والے سلطان صلاح الدین ایوبی نے صبرواستقامت کے ساتھ جنگوں کے اس تسلسل میں بلآخرکامیابی حاصل کی۔

آج کا بیت المقدس اور اس کی آزادی کے لیے میدان جہادمیں موجود مسلمانان فلسطین پھرکسی صلاح الدین ایوبی کے منتظرہیں۔دورغلامی کی باقیات اور استعمارکے مسلط کردہ غداران ملت نے قبلہ اول کی قیمت وصول کرنے کی جسارت کی ہے اوراس مقدس عبادت گاہ کی بولی لگاکر اسے بے وقعت کرنے کی سعی ناکام و نامراد کی ہے۔لیکن وقت کا طبل بہت جلدبتادے گاکہ اس امت سے ایک نہیں بیسیوں سلطان صلاح الدین ایوبی اٹھنے والے ہیں جوقبلہ اول سمیت امت مسلمہ اور کل انسانیت کو سیکولرازم کی ظلم و جہالت بھری اندھیری رات سے نکال کر اسوۃ حسنہ اورنورتوحیدسے مرصع و مرقع صبح روشن کی طرف لے آئیں گے،ان شااللہ تعالی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */