16 اکتوبر… ایک نیا آغاز - خورشید ندیم

16 اکتوبرکی تاریخ، ایک دن کے فاصلے پر ہے۔ اس تاریخ کوگوجرانوالہ سے ایک احتجاجی تحریک اپنا پہلا قدم اٹھائے گی۔ پنجاب بھی اِس دن اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ آ کھڑا ہوگا۔ صدموں کے اشتراک نے نئے بھائی چارے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ درد کا رشتہ کہتے ہیں، سب سے پائیدار ہوتا ہے۔ وفاق کے استحکام کی جانب قوم کو یہ قدم مبارک۔
پنجاب بڑا بھائی ہے لیکن سب کو اِس سے شکوہ رہا ہے۔ بلوچستان کے وسیع صحراؤں اور پختونخوا کے سربلند پہاڑوں پر محرومی کی جو داستانیں لکھی ہیں، یہاں کے مکین گلہ کرتے ہیں کہ ان کے قلم کار پنجاب میں بستے ہیں۔ سیاہی یہاں گھلتی ہے۔ قلم یہاں تراشے جاتے ہیں اور پھر ان کی آزمائش بلوچستان کی ریت پر ہوتی ہے یا پختونخوا کی چٹانوں پر۔ پتھروں پہ لکھا تو دیرپا ہوتا ہی ہے، یہ تحریریں ایسی ہیں کہ بلوچستان کی ریتلی زمین پر بھی انمٹ ہیں۔
یہاں بسنے والوں کو شکایت ہے کہ وہ روئے ہیں تو پنجاب نے بڑا بھائی ہوتے ہوئے بھی اپنا کندھا پیش نہیں کیا۔ انہیں اپنی کچی دیواروں ہی کا سہارا لینا پڑا۔ یہ خود کلامی کرتے تھے کہ پنجاب کبھی اِس دکھ سے گزرے تو اسے ہمارے درد کا اندازہ ہو۔ یہ وہی خواہش ہے جو اقبال نے اپنی قوم کے طالبِ علم کے لیے کی تھی اور ظاہر ہے کہ ایک خیر خواہ کی حیثیت سے:

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

آثار ہیں کہ پنجاب میں اب وہ طوفان آگیا ہے۔ اب اس کے بحر کی موجوں میں اضطراب ہے۔ بلوچستان، پختونخوا اور سندھ کے لوگوں کی خواہش پوری ہوئی۔ نوید ہو کہ سب بھائی اب ایک ساتھ ہیں۔ سب کو ایک دوسرے کا دکھ اب سمجھ میں آتا ہے کہ سب کا تجربہ ایک ساہو گیاہے۔ پنجاب سے بھی اب وہی آواز اٹھ رہی ہے جو کبھی دوسرے صوبوں سے اٹھتی تھی۔ دوسرے صوبوں والے بھی اب پنجاب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پوری قوم اب ایک دوسرے کی 'ہمدرد‘ بن چکی۔ 16 اکتوبر در اصل اسی قومی یکجہتی کا مظاہرہ ہو گا۔
یہ سیاسی جماعتیں ہیں جو قوم کو متحد کرتی ہیں۔ جو صحیح معنوں میں وفاق کی علامت ہوتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو اگر چاروں صوبوں کی زنجیر کہا جاتا تھا تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی ان قوتوں میں سے ہے جو متحدہ پاکستان کی علامت ہیں۔ آصف زرداری صاحب کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے اس رنگ کو مدہم نہیں ہونے دیا۔ جب کرپشن کو اس ملک کا غالب بیانیہ بنایا گیا تو ان کا یہ کردار لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ کرپشن یقیناً ایک مسئلہ ہے لیکن محض ترتیب الٹ دینے سے وفاق کو کیا نقصان ہوا، کاش کوئی اس کو جان سکتا۔
پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، نون لیگ، تحریک انصاف، یہ سب وفاق کی علامت ہیں، اس لیے کہ سارے ملک کے لوگوں کو جوڑتی ہیں۔ ان کے ساتھ قوم پرست جماعتیں بھی ایک حقیقت ہیں۔ یہ عام طور پر ان صوبائی حقوق کی بات کرتی ہیں جو مقامی ہوتے ہیں اور جنہیں مضبوط مرکز کی خواہش تلے دبا دیا جاتا ہے۔ بزعمِ خویش مرکز کی علامت بنے ریاستی ادارے ان جماعتوں کو وفاق کے لیے خطرہ سمجھتے آئے ہیں جس نے ان کے دکھ کو دوچند کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سوا ہماری قومی جماعتیں بھی ریاستی اداروں کی ہمنوا رہی ہیں۔ انہوں نے کبھی چھوٹے صوبوں کے دکھوں کو سمجھا اور نہ ان کے درد کامداوا کیا۔ جب ان صوبوں نے اپنے حقوق کی بات کی تو یہ سیاسی جماعتیں کھل کر سامنے کھڑی ہوگئیں۔ مثال کے طور پر اگر بلوچستان کے لوگ یہ کہتے ہیں کہ سوئی سے نکلنے والی گیس پر پہلا حق ان کا ہے تو یہ مطالبہ مضبوط مرکز کے لیے خطرناک کیسے ہے؟ یہ مطالبہ ان جماعتوں کی حکومت میں بھی پورا نہ ہو سکا۔ اگر پنجاب کے گھر گھر میں سوئی سے آنے والی گیس پہنچے گی مگر بلوچستان کی اکثریت محروم رہے گی تو کیا انہیں گلہ نہیں ہوگا؟
یا جیسے گندم، سب سے زیادہ پنجاب میں پیدا ہوتی ہے۔ یہی گندم دوسرے صوبوں کو بھی ملتی ہے۔ اب اگر پنجاب کو محروم کر کے، یہ گندم دوسرے صوبوں کو دی جائے اور اہلِ پنجاب اس پر گلہ گزار ہوں تو کیا وہ اس میں حق بجانب نہیں ہوں گے؟ کیا اس مطالبے کو ناجائز اور نامناسب کہا جائے گا؟ بس اسی نوعیت کے مطالبات تھے، جنہیں قومی جماعتوں نے موضوع نہیں بنایا تو صوبائی یا قومیت کی علم بردار جماعتوں کا جواز پیدا ہوا۔

جمہوریت میں ان دکھوں کا مداوا کرنے کی صلاحیت تھی مگر اس کو موقع ہی نہیں دیا گیا۔ پاکستان کے آئین میں بڑی حکمت کے ساتھ ان مسائل کا حل رکھ دیا گیا تھا۔ جیسے سینیٹ کا ادارہ۔ اس میں سب صوبوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔ بدقسمتی لیکن یہ ہے کہ سینیٹ کے لیے چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کے فیصلے بھی اسلام آباد اور پنجاب میں کیے جاتے ہیں۔ کبھی جعلی ڈومیسائل بنا کر اور کبھی بالجبر۔ اگر کوئی اس عمل کو سمجھنا چاہے توچیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا واقعہ ذہن میں تازہ کر لے۔
آج ایک مدت کے بعد پنجاب کی سیاسی قیادت کو اسی چیلنج کا سامنا ہے جو برسوں سے چھوٹے صوبوں کودرپیش رہاہے۔ چیلنج یہی ہے کہ اقتدار عوام کے نمائندوں کو منتقل نہیں ہوتا۔ اقتدار ملتا بھی ہے تو نمائشی۔ آج مشترکہ دکھ نے سیاسی جماعتوں کو ایک محاذپر جمع کردیا ہے۔ آج پنجاب سے وہی آواز اٹھ رہی ہے جوبرسوں سے پختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے اٹھتی آئی ہے۔ پی ڈی ایم نے پوری قوم کو جمع کردیا ہے۔ یہ مضبوط وفاق کے لیے خوشخبری ہے۔
16 اکتوبرکو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں تمام صوبوں کی قیادت جمع ہو گی۔ پنجاب کو قدرت نے ایک بار پھر یہ موقع دیا ہے کہ وہ بڑے بھائی کاکردارادا کرے۔ وہ دوسرے صوبوں سے آنے والوں کے راستے میں آنکھیں بچھائے۔ ان کو ساتھ لے کر چلنے کا اعلان کرے۔ پنجاب بتائے کہ اب یہاں محبت کے چراغ جلیں گے جن کی لو پورے پاکستان کو روشن کرے گی۔ وہ بھولے بھٹکے گروہوں کو بھی پیغام دے کہ ان کے مسائل کا حل سرحدوں سے باہر نہیں،ان کے اندر ہے۔

سیاسی تحریکیں قومی بیداری کااظہار ہوتی ہیں، اگر ان کی بنیاد کسی اصولی موقف یا بیانیے پرہو۔ نوازشریف صاحب کا بیانیہ، اب پوری قوم کا بیانیہ ہے۔ یہ ملک کو درپیش دیرینہ مسائل کا حل ہے۔ اگر بلوچستان، سندھ، پختونخوا ور پنجاب کے عوام کویقین ہو جائے کہ فیصلہ سازی بالواسطہ، ان کے ہاتھ میں ہے تو پھر پاکستان کی قومی وحدت کا کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قومی وحدت کے بیانیے بند کمروں میں نہیں لکھے جاتے۔ یہ عوام لکھتے ہیں اور جلسہ ہائے عام میں لکھتے ہیں۔ جس دن قوم کو یہ یقین ہوگا کہ فیصلے اس کی مرضی سے ہورہے ہیں، چھوٹے صوبوں کی شکایات دورہوجائیں گی۔
16 اکتوبر کو گوجرانوالہ سے چلنے والا قافلہ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ سے ہوتاہوا، پنجاب کے دل لاہور میں اترے گا۔ ایک مدت کے بعد قوم بکھری سیاسی قوتوں کا ایک اجتماع دیکھ رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ تحریک اس قوم کو پھر متحد کردے۔ اس ملک کے ہر شہری میں یہ یقین پیدا ہوجائے کہ اس کے مقدر کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں ہے اور ریاست کے سب ادارے، حاکم نہیں، ملک و قوم کی خدام ہیں۔ حاکم صرف عوام ہیں اورتنازعات میں فیصلہ کن کردارآئین کا ہے۔ جمہوریت کی روح یہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */