ڈیڈ لائن - ہمایوں‌مجاہد تارڑ

فزکس یعنی علمِ طبیعیات ہمیں بتاتا ہے یہ کائنات حرکت کیسے کرتی ہے، فنکشن کیسے کرتی ہے۔۔۔ اور اس ضمن میں یہ سادہ سادہ اصول وضوابط سے لے کر ورطہِ حیرت میں ڈال دینے والے قوانین و ضوابط کی آگاہی دیتا ہے۔ بندہ وِچار میں پڑجاتا ہے یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ کس نے کِیا، کیوں کیا؟ ــــ اُدھر کیمسٹری یعنی علمِ کیمیا ہمیں بتاتا ہے یہ کائنات بنی کیسے، اِس کی موجودات شجر، حجر، پہاڑ، دریا، چرند پرند، بادل کن مادّوں، اجزا اور کیمیائی تعامل سے وجود میں آئے، اِن کی کیمیائی ترتیب اور ترکیب کیا ہے ـــ تا کہ ہم ان اشیا کو اِن کی ہئیت سمجھ کر برتنے کے قابل ہو جائیں۔ گویا علمِ کیمیا ہمیں فزکس والی بیرونی حرکیات کے برعکس کائنات کی اندرونی ساخت کی جانب متوجہ کرتا ہے۔

بائیالوجی یعنی علم حیاتیات ہمیں سانس لیتی زندہ و متحرّک اشیا کے بارے میں آگاہی دیتا ہے ۔۔۔ جبکہ مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات اندر ایک اور کائنات بستی ہے۔ یہاں اِس کا کنٹرول ٹاور پایا جاتا ہے۔ 'سبزہ و گُل کہاں سے آئے ہیں ــــ ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے' کا جواب یہیں سے ملتا ہے، اور پیغمبرانِ خدا اِسی اہم ترین سوال کا جواب لے کر آئے تھے۔

وہ ہمیں بتا گئے ہیں کہ یہ سارا اندرونی و بیرونی مشاہدہِ کائنات اور اس کو دیکھنے، سننے، محسوس کرنے والی حسیات صرف اس لیے عطا ہوئی ہیں کہ اُس نادیدہ کائنات تک رسا ہوا جائے، اُس کی پھنکار کو، اس کی سرگوشی کو سُنا جائے جو درِ دل پر دستک دیتی ہے ــــ جس کا واضح ثبوت باشعور انسان اندر رکھے لطیف احساسات ہیں: محبّت، ترحم، احسان، ایثار ۔۔۔ ٹُو نیم جَسٹ آ فیُو۔

مذہب پر موجود 2 ملّین کتابیں اور ہزاروں پیغمبرانِ خدا کی آمد بس اتنا سا پیغام رکھتی ہیں کہ بہت جلد اللہ سے ملاقات ہونی ہے۔ اس ملاقات میں ہر انسان سے بس اس کی رعیت کا پوچھا جائے گا کہ اُس نےاپنے دائرہ اختیار میں آئے معاملات اور افراد کے ساتھ کیا برتا، کیسا برتا ۔۔۔ دنیا اور اس کے سازوسامان کی تنگی و فراخی بذاتِ خود کوئی غرضِ حیات نہیں بلکہ آزمائش ہے اور اِس کے برتے میں اصل غرض تک رسائی کا ایک ذریعہ۔

اللہ نے اپنی کتاب میں جابجا اس بات کو جتلایا ہے کہ تم سے پہلے بھی اکثر لوگ کائنات اندر کائنات والی حقیقت کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ اپنی ڈیڈ لائن کو جا پہنچے، وہ بوسیدہ ہڈیوں میں ڈھل چکے، اُن کی ارواح اب ہمارے پاس ہیں جنہیں ہم روزِ قیامت نئے جسم عطا کر کے اٹھا کھڑا کریں گے۔ اور یہ کہ تم سب کی میعاد بھی بس آنکھ بند ہونے تک ہے۔ آنکھ بند ہوتے ہی آنکھ کُھل جائے گی ۔

Comments

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں پاک ترک انٹرنیشنل سکول، اسلام آباد کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */