رب سے پوچھتی ہوں۔۔۔ - زارا مظہر

اے ہمارے خدا! ہمیں بتا کیا تو خوش ہے اس پاک سر زمین سے جہاں ہر روز جیتی جاگتی سانس لیتی ننھی کلیاں ٹشو پیپر کی طرح مسل کر پھینک دی جاتی ہوں؟

اے ہمارے ربِ کریم کیا تو خوش ہوتا ہے جب یہ وحشی درندے اپنی وحشت سے سیرابی کے بعد جیتے جاگتے بچے یا بچی کو اس کے نازک کٹے پھٹے اعضا کو مزید تکلیف پہنچا کر اسے سسکا سسکا کر مارتے ہیں؟

اے ہمارے جلیل القدر رب ہمیں بتا کہ کیا مائیں اس لیے نسلِ انسانی کی بقا کا بوجھ اٹھاتی ہیں؟ بچے اس لیے جنتی ہیں؟ انہیں خونِ جگر پلاتی ہیں. راتوں کو جاگ کر پالتی ہیں تاکہ ایک وحشی گھوڑے کی جھاگ اڑاتی وحشت کو اپنی ننھی جان پر سہہ کر قرار دیں؟

اے ہمارے علیم و بصیر رب کیاتو خوش ہوتا ہوگا جب ان جنسی درندوں کو عدالتوں میں بچوں کے والدین کی آنکھوں کے سامنے کبھی ضمانت پر یا کبھی شک کا فائدہ دے کر رہا کر دیا جاتا ہوگا۔۔؟

اور اے غفور الرحیم کیا تو بچوں کو اس لیے پیدا کرتا ہے کہ کسی چھلکی ہوئی مردانہ وحشت کی پیاس بجھائی جاسکے۔۔۔؟
اے ہمارے رب یہ بھی ضرور بتا کہ کیا تو ایسے پاگل اور وحشی درندوں کو اس لیے پیدا کرتا ہے کہ کہیں بھی موقع پاکر کسی پھول کو اچک لیں اور پتی پتی کر اس کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا کر سیراب ہوں؟

کیوں پاکستان میں اسلامی سزاؤں کو نافذ نہیں کیا جاتا؟ آخر یہ ننھی بچیاں کب تک مردانہ وحشی پن کی پیاس کو بجھانے کے لیے استعمال ہوتی رہیں گی؟ کب تک ماؤں کو غفلت کے طعنے دئیے جاتے رہیں گے؟ کب تک صیاد گھات لگائے ماں باپ کی چھوٹی سی غفلت کو تاعمر ضمیر کا قیدی بناتی رہے گی؟

کب تک؟۔۔۔ آخر کب تک؟

مجھے کہا جاتا ہے کہ دنیا اتنی بری تو نہیں ۔۔ابھی ایسا زوال کا وقت نہیں آیا کہ نوحے پڑھے جائیں. بین کیے جائیں۔۔۔ جن ماؤں کے بچوں کو اس گھٹیا مقصد کے لیے استعمال کر کے ان کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہو، کیا ان کے لیے قیامت کا دن نہیں ہوتا؟ ہماری نازک مزاج بہنیں جن کا ایسی خبریں پڑھ کر ہی دل اکتا جاتا ہے، وہ ان ماؤں کی کیفیت کیوں نہیں سمجھ سکتیں؟

تین چار دن سے مسلسل یہی واقعات ہو رہے ہیں کیا اب بھی ضبط کا پیالہ نہ ٹوٹے؟ کل ایک وائرل ویڈیو میں گجرات کی ماں کے بین سنے جس کی آنکھوں کے سامنے درندے اس کی چودہ پندرہ سالہ بچی کو ڈالے میں ڈال کر لے گئے۔۔۔ نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا۔۔۔ کل ہی ایک بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ٹانگوں سے پکڑ کر پھاڑ دیا۔۔۔ کل ہی ایک اور بچی کو تسکین کے بعد اذیت دے دے کر وحشت کو سیراب کیا گیا۔۔۔ ان سب کی بے بسی اور اذیت زدہ چیخیں تمام رات میرے دل میں گونجتی رہیں کیا اب بھی نہ بولوں؟ کیا یہی سمجھوں کہ یہ چھوٹے چھوٹے سے غیر اہم دور دراز کے واقعات ہٹا کے دنیا بہت خوبصورت ہے۔۔۔ سمندر کتنا وسیع ہوتا ہے لیکن ایک ننھا سا کنکر دور تک ارتعاش بناتا ہے، کیا انسانیت اتنی بے حس ہوچکی ہے کہ اسے ایسا واویلا سمع خراشی محسوس ہوتا ہے۔۔۔ صد حیف۔۔۔

اس ریاستِ مدینہ میں اتنی وحشت کہاں سے جمع ہوگئی؟ اس کی اندھیری گلیوں میں موت کے پھندے کیوں لگے ہیں؟
مان لیجیے کہ اس آسمان سے اترے دیوتا کی جنسی خاطر داری کے لیے کوئی متبادل راستہ اختیار کرکے عام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو اس عفریت سے محفوظ رکھا جاسکے۔۔۔ ورنہ مائیں عذاب جھیلتی رہیں گی۔۔۔ گھرانے اور معاشرے زوال پذیر ہوتے رہیں گے اور یہ جنس زدہ کتے ایک دوسرے کی وحشت سے تحریک پا کے اپنی پیاس بجھاتے رہیں گے۔۔۔

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */