اکتوبر 2005 زلزلہ اور میری وادی،میرا گھر - سید رحمن شاہ

تب میں تقریباً پانچ سال کا تھا.... اُس صبح میں اور میرے دو بھائی نصرت اور خطاب.. ہم اک بھیڑ کے بچے کو لئے گھر سے تقریباً بیس قدم کی مسافت پر جو ندی نما دریا اُوپر وادی کے پہاڑوں سے ہوتا ہوا.. ہمارے گھر سے قریب سے جاتا تھا.. جس سے اُس طرف تھوڑا سے میدان تھا..اور اُس سے پرے اک پہاڑ اوپر کی طرف بلند ہوتا تھا.....میں اور میرے دو بھائی اُس دریا کے قریب بھیڑ کے بچے کے ساتھ کھیل رہے تھے.

مجھے یاد ہے.. میرے دونوں بھائیوں نے سفید پلاسٹک کے جوگر نما جوتے پہنے تھے... اور وہ جوتے نئے تھے...... چونکہ میں تب بہت چھوٹا تھا..اس لئے میں نے روزہ نہیں رکھا تھا.. اور مجھے اچھی طرح یاد ہے.. کہ تب میرے ہاتھ میں اک بسکٹ کا پیکٹ تھا.. جو میں خود کم کھاتا..اور بھیڑ کے بچے کو زیادہ کھلاتا.. پر وہ نہ کھاتا.. کیوں کہ اسکی غذا گھاس تھی.میری وادی کے سب لوگ اپنے کاموں میں محو تھے... مکئی کی فصل پک چکی تھی.. پر فی الوقت کاٹی نہیں تھی... جو گھرانے اپنے جانوروں کے ساتھ پہاڑوں کی چراگاہوں کی طرف اپنے جانوروں کو چرانے گئے تھے.. وہ سب گھرانے واپس آگئے تھے... کیوں کہ سردیاں شروع ہوچکی تھیں..تھوڑی دیر دریا کے کنارے کھیلنے کے بعد ہم دو بھائی میں اور خطاب واپس گھر کی طرف آرہے تھے.... پر میرا تیسرا بھائی نصرت وہاں ہی رک گیا... وہ نہیں آیا... ہم ابھی گھر سے تھوڑے دور تھے.... تقریباً پانچ قدم دور تھے.

اور اُسی وقت زمین نے ایسا جھٹکا کھایا کہ ہمارے گھر کی دیوار جو مجھے نظرآرہی تھی..وہ گر گئی... ہر جانب سے چیخوں کی آوازیں آنے لگیں... میرے قریب جو پتھر کی عارضی دیوار بنی تھی.. وہ گرگئی... ہمارے گھرکے پیچھے جو ہمارے رشتہ دار رہتے تھے... انکی اک بوڑھی دادی.. برآمدے میں چیختی رہیں.. کیونکہ زمین وقفے وقف سےجھٹکے کھاتی رہتی.. ادھر میرا بھائی جو ہمارے ساتھ نہیں آیا تھا.. اس پر دریا کے قریب جو پہاڑتھا..وہاں سے اک بڑا پتھر اُس کے پاوں پرگرگاتھا.اور وہ اٹھنے سے قاصرتھا...میرے بھائی کا پاوں اس قدر خو آلودہ تھا. کہ اگردیکھتے تو کلیجہ منہ کو آتا.میری ماں اُس وقت گھر میں نہیں تھی.. وہ دریا سے پرے جو پہاڑ تھا... اس میں ہماری بکریاں کھوگئیں تھیں.. انہیں ڈھونڈنے گئیں تھی...میرا اک بھائی جو گئی شب ہی آیا تھا..وہ گھرمیں سورہا تھا...پر خدا کےفضل سے بخیریت گھر سے نکلا... میری بھاوج اوراُس کےساتھ دوتین اورعورتوں نے ملکر میرے بھائی نصرت کے پاوں سے وہ پتھر ہٹانا چاہا.. پر وہ اتنا بھاری تھا.. کہ نہ ہٹتا... آخر وہاں کھڑے رہنے میں اُن کیلئے بھی خطرہ تھا.. اس لئے وہ میرے بھائی کو وہاں چھوڑ کر خود آگئیں.

باقی ادھر سب نے ملکر ہمارے گھر کے پیچھے جو میرے مامو کی مکئی کی فصل تھی.. اسے اک جگہ سے کاٹ کر وہاں عارضی پڑاو ڈال دیا... میرا سب سے بڑا بھائی جسکی ہمارے گھر کےساتھ ہی اک چھوٹی سے دکان تھی.. وہ بنہ بازار میں سودا خریدنےگیا تھا... میرا اک اور بھائی اُس صبح صبح اسلام میں آباد میں کام کیلئے رونا ہوا تھا... خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے وہ دونوں ہر خطرے سے بچے... جب ہم نے کھیتوں میں خانہ بدوشوں کی طرح عارضی پڑاو ڈالا تھا... تب خدا کا ہم پر اک اور احسان ہوا... تب میرا بھائی نصرت مجھے ہماری جانب آتا دکھائی دیا..... اور یہ سچ میں خدا کا اک کرم تھا... اسکی زخمی ٹانگ لڑھک رہی تھی.. اور خون مسلسل بہہ رہا تھا... وہ مسلسل آہیں بھر رہا تھا...چیخ رہا تھا..چلا رہا تھا... اور لنگھڑاتا ہوا ہماری جانب آرہا تھا... اُسکے زخمی پاوں کا وہ سفید پلاسٹک کا جوگر نما جوتا وہاں کہیں دریا کے قریب رہ گیا تھا.

میری ماں بھی ہر خطرے سے بچی.. اور جب وہ دریا کے قریب سے غموں میں ڈوبی ہوئی آرہی تھیں.. تو تب انہیں اک اور غم نے گھیر لیا... خون آلود پتھر کے پاس اک خون آلود جوتا خون کے لوتڑوں سے بھرا پڑا ہے... ذرا سوچیں.. اُس ماں کے دل پر کیا گزری ہوگی..?آج جب ماں جی ذہن.میں وہ لمحات لاتیں ہیں.. وہ خون آلودہ جوتے کے بارے میں سوچتی ہیں.. تو ہم سے یہی کہتی ہیں..... " جب میں نے وہ خون آلود جوتا دیکھا.. تو میرے ذہن میں یہی وسوسے.. یہی خیالات. گردش کر رہے تھے.. کہ اک ببیٹا تو اللہ نے مجھ سے لے لیا.. لیکن وہ خطاب ہے یا نصرت. پتہ نہیں.اپنے گھر کے پیچھے مکئی کے کھیت میں پڑاو کے دوران اُس چھوٹی سی جگہ میں بہت سارے لوگ جمع تھے.. ہمارے اور پڑوسی بھی وہاں جمع تھے.. سب نے اپنے جانور وہاں قریب ہی باندھ لئے تھے..میرے بھائی نصرت کے پاوں پر جڑی بوٹیوں سے مرہم.بنا کر لگایا تھا.. پر اسے سکون نہ ملتا.. اور وہ مسلسل چیخ و چلا رہا تھا.

میری وادی سے کسی قسم کا کوئی ٹیفونک رابطے کرنا ممکن نہ تھا.. بلکہ وہاں تو کوئی موبائل نام کی چیز جانتا ہی نہ تھا... میری وادی میں تقریباً تین چار لوگ جن میں بچے بھی تھے.. زلزلے سے مر چکے تھے... اور یادرہے کہ زلزلے کے جھٹکے وقفے وقفے سے آتے... ہم سے اُس طرف جو کِیما پہاڑ ہے.. اس کی چوٹی کے قریب جو ملعق چٹانیں تھیں.. زلزلے کی وجہ سے وہاں اک سنگ شار وجود میں آگئی تھی.. اورجب زلزلے کے جھٹکے سے وہاں سے پتھر گرتے.. اوراُس سے ایسا دھواں اٹھتا کہ اس سے فضاء دھندلی اور سوگوارہوتی...اور اُس شام... مکئی کے کھیت میں جو اک تمبو ایستادہ تھا.. اوراُس ایک تمبو میں تقریباً چار پانچ گھرانے تھے..اور باہر تیز موسلا دھار بارش برس رہی تھی... ہم سب صبح سے بھوکے تھے.

کھاناپکانا کیلئے آگ جلاتے. توبارش سے بجھ. جاتی... اور اس دوران سب غموں میں ڈوبے ہوئے... شالوں سے خود کو گرم رکھتے ہوئے.. اور قریب ہی میرا بھائی نصرت چار پائی پر پڑا آہیں بھر رہا تھا..اور اُس شبِ غم کی سحر بھی بڑی دیر سے ہوئی...اور پھر...اگلے تین دنوں تک حکومت کو ہماری وادی کیا.. پوری الائی تحصیل کا پتہ نہ تھا.. کہ یہاں بھی انسان رہتے ہیں... سب کی توجہ مظفرآباد اور بالاکوٹ کی طرف تھی...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */