عبد الغفار عزیز کی یاد میں (نظم) - محمد رمان اکرم

امت کے اتحاد کا داعی چلا گیا
غفار جس کا نام تھا ساتھی چلا گیا

کتنے نفیس قلب سے رہتا تھا وہ یہاں
غفار جس کا نام تھا داعی چلا گیا

تحریک کا وہ ایک درخشاں سا نور تھا
غفار جس کا نام تھا ستارہ وہ بن گیا

علم و عمل کی جدوجہد میں لگا رہا
غفار جس کا نام تھا استاذ چلا گیا

ساتھی وہ تھا منور و قاضی حسین کا
غفار جس کا نام تھا ہمسر چلا گیا

مرسی ہوکے مشعل ہوکے طیب اردوغان
سب کا وہ پیارا رہبر غفار چلا گیا

امت کے اتحاد کی خاطر کھڑا رہا
غفار جس کا نام تھا مجاھد چلا گیا

سمجھانے کا معیار اعلی تھا اس کے پاس
انداز سے وہ اپنا بنا کر چلا گیا

کہتا وہ تھا سبھی سے مسکا کے ملا کرو
غفار محبتوں کا امین چلا گیا

کیسے کرو گے پر کمی اس کی تم یہاں
غفار جس کا نام تھا قابل چلا گیا

لوگوں ابو الاعلی کی یہ بات سن لو ایک بار
غفار جس کا نام تھا داعی چلا گیا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */