فحاشی، سماج اور قانون - آصف محمود

اشتہارات میں فحاشی کی بحث کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے چند پہلوؤں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے لیا جائے۔فحاشی کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو تواتر سے اٹھایا جاتا ہے اور اس کی شرح میں ہر اس فرد کو طنز اور دشنام کا نشانہ بنایا جاتاہو جو فحاشی کو ایک قدر کے طور پر قبول نہ کرے اور اس پر معترض ہو۔یہ بات درست ہے کہ ہر فرد کے ہاں فحاشی کی الگ تعبیر ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فحاشی کی کسی بھی شکل کو گوارا کر لیا جائے۔

فحاشی کی تعبیر اور تشریح کا حق کسی فرد واحد کو دیا بھی نہیں گیا۔ اور دلچسپ بات ہے کہ کسی نے اس حق کو استعمال بھی نہیں کیا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی فرد اٹھتا ہے اور وہ متعلقہ اداروں سے درخواست کرتا ہے کہ فلاں ڈرامے یا اشتہار کا مواد مناسب نہیں اور فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ عام آدمی فیصلہ نہیں سنا رہا ، وہ صرف سائل ہے ۔ فیصلہ ریاست کے ادارے نے کرنا ہے جسے ریاست کی پارلیمان نے قانون سازی کر کے اسی مقصد کے لیے تشکیل دے رکھا ہے ۔یہ کیسی انتہا پسندی ہے کہ کسی فرد کے اس درخواست دینے اور توجہ دلانے کے حق کو بھی تسلیم نہ کیا جائے؟

کسی اشتہار میں کسی نامناسب اور غیر اخلاقی موادکی شکایت کرنے میں کیا حرج ہے؟ Indecent advertisements prohibition Act آخر کس لیے بنایا گیا تھا؟ اس قانون کے تحت نہ صرف غیر اخلاقی اور فحش اشتہارات دکھانے پر پابندی ہے بلکہ یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ جرم اگر دوسری بار کیا گیا تو سزا دگنی ہو گی۔جن کے خیال میں ضیاء الحق کی اسلامائزیشن نے ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دے دیا انہیں معلوم ہونا چاہیے یہ قانون 1963 میں بنا تھا اور آج تک موجود ہے۔جنہیں غیر اخلاقی اور فحش مواد کی تعریف سمجھنے میں مشکل پیش آ رہی ہے وہ اس ایکٹ کی دوسری دفعہ پڑھ کر اس مشکل سے خود کو نکال سکتے ہیں۔ہو سکتا ہے کسی کے خیال میں مجرا بر صغیر کی ثقافت ہو لیکن قانون اس افتاد طبع کو تسلیم نہیں کرتا۔ قانون ایک عام آدمی کی حساسیت کو معیار بناتا ہے، وہ نہ کسی مذہبی انتہا پسند کی حساسیت کو معیار سمجھتا ہے نہ کسی سیکولر انتہا پسند کی ثقافت کو سماج کی ثقافت سمجھنے کو تیار ہے۔ اب اگر کوئی قانون سے رجوع کر رہا ہے تو متعلقہ ادارے مروجہ قانون کی روشنی میں معاملے کو دیکھ لیں گے۔ اس میں اتنی دہائی دینے کی کیا ضرورت ہے؟

ہمارے ہاں پیمرا ، آئے روز چینلز کو جرمانے کرتا رہتا ہے اور یہ جرمانے لاکھوں اور بعض اوقات ملینز میں ہوتے ہیں۔ ان جرمانوں کی مارکیٹ کے معاشی حجم سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ میڈیا کی صنعت معاشی دبائو کا شکار ہے اور مارکیٹ میں اتنا دم خم ہی نہیں کہ اشتہارات کی ریل پیل ہو سکے۔ جرمانے البتہ ایسی فراخدلی سے کیے جاتے ہیں جیسے ہر چینل کے دفتر میں سونے کی د کانیں اور تیل کے چار کنویں موجود ہیں۔اس پر سماج میں کبھی رد عمل نہیں آیا کہ ایک غیر محتاط خبر نشر کرنے کا جرمانہ قتل خطا میں دیت کے برابر کیوں کر دیا جاتا ہے۔فحاشی پر اگر کوئی آدمی سوال اٹھا دے اور قانون ہاتھ میں لیے بغیر ایک پر امن اور ذمہ دار شہری کے طور پر متعلقہ اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تو ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اس شخص کو نشانے پر لے کر پوری کوشش کی جاتی ہے کہ عبرت کا سامان بنا دیا جائے تا کہ آئندہ کوئی ایسی گستاخی کا تصور نہ کرے۔ سوال یہ ہے کہ ایک معاملے میں جہاں ملینز میں جرمانے ہوتے ہیں اتنی بے نیازی کیوںاور دوسرے معاملے میں جہاں زیادہ سے زیادہ فحش مواد پر پابندی لگ جاتی ہے اتنا شور اور آہ و بکا کیوں؟ مذہبی انتہا پسندی کے بعد اب کیا یہ سیکولر انتہا پسندی ہے جو ہمیں اپنی لپیٹ میں لینے جا رہی ہے؟

معاشرے معتدل رویوں سے نمو پاتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ عورت کو ہر شعبہ زندگی میں اپنی صلاحیت منوانے کے برابر مواقع ملنے چاہییں لیکن یہ کیسا رویہ ہے کہ بسکٹ سے لے کر شیونگ کریم تک ، جب تک عورت کو نچوا نہ لیا جائے آپ کی ’’ ایڈ ورٹزمنٹ‘‘ کے لوازمات ہی پورے نہیں ہوتے۔ یعنی جب تک عورت کو تماشا نہیں بنایا جائے گا تب تک آپ کچھ بھی نہیں بیچ سکتے۔سماج کی اپنی قدریں ہوتی ہیں۔کسی بھی قسم کے انتہا پسند کو ان قدروں کو پامال کرنے کا حق نہیں دیا جاتا،سیکولر انتہا پسند کو بھی نہیں۔ پاکستان میں جب ٹی وی چینل کا لائسنس دیا جاتا ہے تو ایک ضابطہ اخلاق بھی ساتھ تھمایا جاتا ہے۔شیڈول اے میں دیے گئے کوڈ آف کنڈکٹ کی دوسری شق پڑھ لیجیے۔فحاشی ، عریانی اور اخلاق سے گری ہوئی کوئی چیز نشر نہیں کی جائے گی۔یہی پابندی چینلز پر چلنے والے اشتہارات پر بھی عائد ہو گی۔

پیمرا ( کانٹینٹ ) ریگولیشنز کو بھی ایک نظر دیکھ لیجیے ، دفعہ 15میں تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے کہ اشتہارات میں کیا کچھ دکھایا جا سکتا ہے اور کس کس چیز کی ممانعت کی ہو گی۔دفعہ 21 کے مطابق کسی بھی شکایت کنندہ کی درخواست پر پیمرا نے فیصلہ کرنا ہے۔ تو جب پاکستان کا قانون ایک چیز طے کر چکا ہے تو اسی قانون کے تحت کوئی اس ادارے سے شکایت کرتا ہے تو اسے سینگوں پر کیوں لے لیا جاتا ہے؟

یاد رکھیے سماج اپنے نظم اجتماعی سے چلتا ہے۔ اور نظم اجتماعی کسی بھی صف کے انتہا پسند کی تعبیر حیات کا نام نہیں ، نظم اجتماعی آئین ہے۔ آئین نے اسلام کو ریاست پاکستان کا مملکتی مذہب قرار دے رکھا ہے۔ آئین نے آرٹیکل 31 میں ریاست پر ایک اہم ذمہ داری عائد کر رکھی ہے ۔اس آرٹیکل کے تحت ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ لوگوں کو ایسی سہولیات فراہم کرے کہ وہ نہ صرف اپنی انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزار سکیں اور اپنی زندگی کا مفہوم قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کے قابل ہو سکیں۔

اسی آرٹیکل کی ذیلی شق میں ریاست کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دے۔
نظم اجتماعی کی اس اساس کے پیش نظر ، اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس کی رائے میں اشتہار ، ڈرامے یا کسی پروگرام کا متن غیر اخلاقی ، غیر شائستہ اور فحش ہے تو ملک کا قانون اور آئین اسے اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ نہ صرف اس پر آواز اٹھائے بلکہ متعلقہ اداروں کو شکایت بھی کر سکے۔ اس حق کو طنز ، تمسخر اور حقارت کا عنوان بنانا ایک نامعقول اور غیر متوازن رویہ ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */