اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں ہے - مفتی منیب الرحمن

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(1) ’’اور آپ اس ہمیشہ زندہ رہنے والے (رب )پر توکل کیجیے جس پرکبھی موت نہیں آئے گی، (الفرقان:58)‘‘، (2)’’اور بہت غالب اور بے حد رحم کرنے والے پر توکل کیجیے، (الشعراء:217)‘‘، (3)’’ جب آپ (کسی کام کا) عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں ، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، (آل عمران:159)‘‘، (4)’’وہی لوگ مؤمن کامل ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوف زدہ ہوجائیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں تلاوت کی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو زیادہ کردیں اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں، (الانفال:2)‘‘۔

بعض لوگوں کے ذہن میں توکل کاتصوریہ ہے کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور محنت ومشقت اور کسب ترک کردے، اِسی طرح کچھ متصوفین کہتے ہیں:’’آج کھالیا ہے تو کل کے لیے بچا کے رکھنااللہ پر توکل کے خلاف ہے‘‘، جس رب نے تمہیں آج کھانا کھلایا ہے، کیا وہ کل کھانا کھلانے پر قادر نہیں ہے، کیا تم نے پرندوں کونہیں دیکھاکہ وہ ہر صبح خالی پیٹ اپنے گھونسلے سے نکلتے ہیں اوراس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ رزّاق اُن کے پیٹ کو بھردیتا ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق اپنے ساتھ اٹھائے نہیں پھرتے ،اللہ انہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی، (العنکبوت:60)‘‘،حدیث پاک میں ہے:

(۱)’’حضرت عمر بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اللہ پرتوکل کروجیساکہ توکل کرنے کا حق ہے، توتم کو اس طرح رزق دیا جائے گا جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے، وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کرواپس لوٹتے ہیں، ( ترمذی: 2344)‘‘۔

(۲)’’عمران بن حُصَین بیان کرتے ہیں : رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہرمعاملے کا ضامن ہوتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے معاملے کو دنیا والوںکے سپرد فرمادیتا ہے، (شُعَبُ الْاِیْمَان:1044)‘‘۔

بہرحال توکل کایہ تصور غلط اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، شریعت کی اصطلاح میں توکل کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا وآخرت میں نفع وضرر کا مالک مان کر اس اعتقاد کے ساتھ اسباب وذرائع کو اختیار کرنا کہ دنیاوی واخروی جملہ معاملات میں نفع وضررپہنچانے کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے،اس کے حکم کے بغیر کوئی پتہ اور کوئی ذرّہ حرکت نہیں کرسکتا، ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز اپنی بقااور وجود کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، مثلاً: آدمی کے سامنے کھانا موجود ہو لیکن وہ نہ کھانے کو ہاتھ لگائے ،نہ نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالے اور یہ خیال کرے کہ یہ کھانا خودبخود میرے پیٹ میں داخل ہوجائے گااور اسے توکل سے موسوم کرے تویہ توکل نہیں ،نری حماقت ہے، توکل یہ ہے کہ اسباب کو عمل میں لاتے ہوئے اپنے ہاتھ اورمنہ کا استعمال کرتے ہوئے کھانا کھائے ،لیکن اعتمادکھانے یا ہاتھ پر نہیں اللہ کے فضل پر ہو،کیونکہ عین ممکن ہے کہ اس کا ہاتھ فالج کا شکار ہوجائے اور ممکن ہے کہ کوئی شخص کھاناچھین کر لے جائے،الغرض توکل ترک عمل کا نام نہیں ہے،حدیث پاک میںہے :’’ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا :یارسول اللہ! میں اونٹنی کو باندھ کر اللہ پر توکل کروں یا کھلاچھوڑ دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اونٹنی کو باندھواور اللہ پر توکل کرو، ( ترمذی:2517)‘‘، یعنی اسباب کو اختیار کرو اور اُن کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے اللہ پر توکل کرو۔

امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں: ’’ توکل یہ ہے کہ انسان ظاہری اسباب کی رعایت کرے، لیکن دل سے ان اسبا ب پر اعتماد نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت، اس کی تائید ، اس کی حمایت اورقدرت پر اعتماد کرے ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے‘‘،اس کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اللہ کے ماسوا سے اعراض کرنے کی طرف رغبت دلائی جائے ، (تفسیر کبیر،ج:3،ص:83)‘‘۔

امام غزالی لکھتے ہیں:’’جب بندے پر یہ حقیقت آشکار ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی فاعل نہیں ہے ،پیدا کرنا ، رزق دینا ، غنا یا فقر، ہرچیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے توپھر وہ اپنی ضرورتوں میں غیر کی طرف نہیں دیکھے گا، اس کے دل میں اُسی کا خوف ہوگا اور اُسی سے امید ہوگی، اسی پر بھروسا ہوگا اور اسی پر اعتماد ہوگا، کیونکہ صرف وہی مستقل فاعل ہے اور باقی چیزیں اس کے مسخر اور تابع ہیں، آسمان اور زمین میں سے کوئی ذرّہ خود بخود حرکت نہیں کرسکتا اور جو شخص سبزہ اور فصل کی پیداوار میں بادل، بارش اور ہوائوں پر اعتماد کرتا ہے، وہ فاعلِ حقیقی سے غافل ہے اور ایک قسم کے شرک میں مبتلا ہے، (احیاء علوم الدین، ج:5، ص:120-121)‘‘۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(1)’’(اے مریم!) اس کھجور کی شاخ کو اپنی طرف ہلائیں ، آپ کے اوپر تروتازہ پکی کھجوریں گریں گی، سو کھائو اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو،(مریم:24-25)‘‘،غور کیجیے:جو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ بے موسم کا تروتازہ پھل حضرت مریم رضی اللہ عنہا کے لیے پیدا فرمادے اور اس کی شاخ کوحضرت مریم پر جھکادے ،کیا وہ اس بات پر قادر نہیں تھاکہ بغیر ہلائے وہ کھجوریں ان کے دامن میں گر پڑتیں، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم فرمایا:جتنا تمہارے بس میں ہے، وہ تم کروباقی کام ہمارا ہے۔ (2)’’بھلا بتائو کہ تم جو کچھ کاشت کرتے ہو، اس کو(درحقیقت) تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں، اگر ہم چاہیں تو اس کو بالکل چورا چورا کردیں، (الواقعہ:63-64)‘‘۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اسباب کی نفی نہیں فرما رہا، بلکہ اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے،نیز یہ کہ اسباب بھی اسی نے پیدا فرمائے ہیں، اس لیے مومن کا شعار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اسباب کو اختیار کرے، مگر توکل مسبِبُ الاسباب پر کرے اور نتائج کو اللہ رب العالمین پر چھوڑ دے۔(3)’’جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے:غم نہ کر،بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے،(التوبہ:40)‘‘۔

سفرِہجرت کے موقع پر جب نبی کریمﷺ اپنے یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ غارِ ثور میں آرام فرماتھے،کفار غار کے دہانے پر کھڑے تھے اور حضرت ابوبکر کہہ رہے تھے:اگر ان میں سے کسی نے بھی پیر اُٹھا کر ہمیں دیکھ لیا توہم ان کی گرفت میں آجائیں گے،یہ سن کر سید المتوکلین ﷺنے فرمایا:ان دولوگوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہوجن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے ۔ یہ رسول اللہﷺ کے شانِ توکل اور اللہ پر اعتماد اور بھروسے کی اعلیٰ نظیر ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے حاکمِ مصر کے خواب کی تعبیر بیان کی کہ سات برس خوشحالی ،ہریالی اور فارغ البالی کے آئیں گے ،اس کے بعد سات برس قحط سالی اور تنگی کے آئیں گے ۔ پس آپ لوگ خوشحالی کے زمانے میں کفایت اور تدبیر سے کام لیں ، ضرورت کے مطابق اناج کو استعمال کریں اور باقی کو خوشوں میں چھوڑ دیں۔ پھر جب قحط کا زمانہ آئے تو اس پس انداز کیے ہوئے اناج کو کفایت کے ساتھ استعمال کریں ، یہ اسباب کو اختیار کرنے کی تدبیر تھی اور کارگر ثابت ہوئی۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے زکوٰۃ کو اسلام کا تیسرا رکن بتایا ہے اور زکوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ سونا،چاندی، نقدی ،مال واسبابِ تجارت وغیرہ جو انسان کے پاس ایک سال سے زائد عرصے کے لیے پس انداز ہے اور شریعت کے مقرر کردہ نصاب کو پہنچ گیا ہے تو اس کا چالیسواں حصہ انسان اللہ کی بارگاہ میں خرچ کرے اور یہ اس پر فرض کیا گیا ہے۔ یقیناجس مال کی کسی شخص نے زکوٰۃ نکالی ہے، اس کی ضرورت سے زائد ہی تھاجس پر ایک سال گزرا اور پھر اس میں سے ایک خاص قلیل مقدار اللہ کی بارگاہ میں خرچ کی ،اس کے باوجود ایک بڑا مال اس نے بچا لیا، اگرضرورت کے لیے مال جمع کرنا اور پس انداز کرنا اللہ پر توکل کے خلاف ہوتا تو زکوٰۃ اسلامی عبادات کا حصہ نہ ہوتی۔

یہ دنیا عالَم اسباب ہے اور ہمیں یہاں پر اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ شریعت کے خلاف نہیں، بلکہ منشائے الٰہی کے مطابق ہے،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اسباب کو اختیار فرمایا اور مسلمانوں کو بھی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ بدر کے مقام پر رسول اللہ ﷺ گھوڑے ،تلواریں اور اس وقت کے ہتھیار ساتھ لے کردشمن کے مقابلے میں نکلے، اُحد میں رسول اللہ ﷺ نے زِرہ زیب تن فرمائی، اسی طرح غزوۂ احزاب میں رسول اللہ ﷺ نے خندق کھودکر دشمن کے حملے سے مدینہ منورہ اورلشکرِ اسلام کو محفوظ فرمایا اور بنفس نفیس خندق کی کھدائی میں حصہ لیا،یہ اسباب کو اختیار کرنے کی روشن مثال ہے۔اسی طرح فتحِ مکہ کے موقع پر مدینہ منورہ سے کسی بھی خبر کے افشا کرنے پر پابندی تھی تاکہ دشمن کو پتا نہ چل سکے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے خلاف کیا جنگی حکمتِ عملی اختیار فرمارہے ہیں، یہ سب اسباب کو ہی تو اختیار فرمانا ہے۔ متصوّفین جس معنی میں توکل کو لیتے ہیں ،اُس کی رُو سے تویہ ہونا چاہیے تھا کہ رسول اللہﷺ دعا کرتے اور دشمن خود ہی شکست کھاجاتا، مگر اسلام کو قیامت تک کے لیے زندہ رہنا تھا ،اس لیے ہر معاملے میں آپ ﷺ نے امت کے لیے عملی نمونہ قائم فرمایااورآپ نے اسبابِ معیشت کو بھی اختیار فرمایا، صحابۂ کرام کو بھی محنت کر کے اپنے گھر والوں کی کفالت کا حکم دیا،حدیث پاک میں ہے:

حضرت کعب بن عُجرہ بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے اس کے قدکاٹھ اور اس کی پھرتی کو دیکھ کر عرض کی: یارسول اللہ! کاش یہ نوجوان اللہ کی راہ میں جہاد کرتا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہی ہے اور اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے لیے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہی نکلا ہے اور اگر یہ اپنے لیے رزق کی تلاش میں نکلا ہے تاکہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر یہ ریاکاری اور فخر کی غرض سے نکلا ہے تو یہ شیطان کے راہ میں ہے، (المعجم الاوسط للطبرانی: 6835)‘‘۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */