"پی ٹی ایم، اپوزیشن کےلیے وزن نہیں، بوجھ ہے" - رعایت اللہ فاروقی

خدا خدا کرکے اپوزیشن جماعتیں نکے اور اس کے آقاؤں کے خلاف پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے نام سے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوئی ہیں تو نکے کے ہوش اڑے ہوئے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف یا مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان پر ردعمل دینے کے لیے درجن کے لگ بھگ وفاقی و صوبائی وزرا کو حرکت میں آتا دیکھا جا رہا ہے۔ نکے اور اس کے حواریوں کا پچھلے دو سال سے تصور یہ تھا کہ ان کے اقتدار کو اگر کوئی خطرہ لاحق ہوا تو انہیں ٹینشن لینے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔ اس خطرے سے وہی نمٹیں گے جو انہیں لائے ہیں۔ لیکن اس بار نکے اور اس کی ٹیم پر چھ ماہ کی مہلت والی تلوار لٹک رہی ہے جس کی مدت دسمبر میں ختم ہورہی ہے۔ نکے کو مزید چھ ماہ کی مہلت "کارکردگی" دکھانے کے لیے دی گئی تھی۔ مگر سوال یہ کہ اگر نکا کارکردگی دکھانے کی اہلیت رکھتا تو دو سال ضائع کرتا؟ جو دو سال میں کارکردگی نہ دکھاسکا وہ چھ ماہ میں کیا دکھائے گا؟

لگتا ہے یہی وہ سوال ہے جو اپوزیشن جماعتوں کے ذہنوں میں بھی تھا، اور اسی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے وہ اچانک حرکت میں آئی ہیں۔ نکے کے ابا نے مہلت یہی سوچ کر دی ہوگی کہ چھ ماہ بعد ان ہاؤس تبدیلی کی صورت پی ٹی آئی کی ہی صفوں سے کوئی "قابل" وزیر اعظم لایا جائے گا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے درپردہ اپوزیشن کی جماعتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی گئی کہ قرعہ فال ان کا بھی نکل سکتا ہے۔ مگر مختصر مدت میں وعدہ خلافیوں کا وسیع ریکارڈ رکھنے والوں کی بات پر اس بار یقین نہ کیا گیا۔

آنے والا دسمبر حکومت کے لیے یوں ہنگامہ خیز ہے کہ ایک جانب دی گئی مہلت حواس پر سوار ہے تو دوسری جانب اپوزیشن بھی پوری قوت کے ساتھ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے متحرک ہے۔ حواس باختگی کا ہی نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے خلاف ٖغداری کا مقدمہ درج کردیا گیا۔ اس اقدام پر ہر جانب سے سخت ردعمل آیا تو فورا یو ٹرن لے کر اس مقدمے کے اندراج سے خود کو لاتعلق کرلیا گیا۔ کیا غداری کے الزام کا یہ کارڈ فیل ہوگیا؟ میرا نہیں خیال کہ یہ فیل ہوا ہے۔ اپوزیشن کی صفوں میں محسن داوڑ اور علی وزیر کی موجودگی اس کے لیے کسی بھی وقت کوئی سنگین مسئلہ کھڑا کرسکتی ہے۔ پختون تحفظ مومنٹ کی جانب سے قومی پرچم کی بیحرمتی، فوج کے خلاف غلیظ گالم گلوچ، اور افغان انٹیلی جنس سے اس کے روابط کوئی سربستہ راز نہیں۔ اس جماعت کی قیادت افغان جرنیلوں کی بغل میں بھی بکثرت دیکھے گئے ہیں اور ان کا بیانیہ بھی بعینہ وہی ہے جو اشرف غنی کا پاکستان کے خلاف رہا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن اتحاد کے لیے بھارت کی سرپرستی کا الزام تو غیر سنجیدہ لیا جاسکتا ہے لیکن کسی موقع پر پی ٹی ایم رہنماؤں کے توسط سے لگنے والا افغان انٹیلی جنس کی سرپرستی کا الزام نہایت سنجیدہ رخ اختیار کرجائے گا۔ آنے والے وقت میں محسن داوڑ یا علی وزیر کی اپوزیشن کے سٹیج سے کی گئی تقریر میں کسی ایک بھی آتشین جملے سے پوری پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کٹہرے میں کھڑی نظر آسکتی ہے۔ اس اتحاد میں پی ٹی ایم کی شمولیت ہی اس اتحاد کا سب سے کمزور پہلو ہے۔ کہنے کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پی ٹی ایم کو مین سٹریم میں لانے کے لیے ایسا کیا گیا۔ لیکن یہ بات اس صورت میں قابل قبول ہوسکتی ہے کہ پی ٹی ایم اپنی پچھلی حرکتوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔

ہم جانتے ہیں کہ تاحال اس جماعت کی جانب سے ندامت کا کوئی اظہار ریکارڈ پر نہیں۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ جماعت اپنے غیر ملکی ایجنڈے پر بدستور قائم ہے۔ اور یہ اپوزیشن کی صفوں میں اپنے ایجنڈے ہی کے لیے شامل ہوئی ہے۔ اگر اپوزیشن اتحاد میں پی ٹی ایم کو اپنے ایجنڈے کے فروغ کا موقع نظر نہ آرہا ہوتا تو کیا یہ اس اتحاد میں شامل ہوتی ؟ پی ٹی ایم جمہوریت کے قیام یا فروغ کے لیے قائم ہوئی ہوتی تو اشرف غنی جیسے پپٹ کو اپنا "بابا" کہتی؟ کیا یہ سوال کوئی معنی نہیں رکھتا کہ جس جماعت کو افغانستان کی پپٹ حکومت سے وابستگی پر فخر ہے، وہ پاکستان میں کٹھ پتلی حکومت کے خلاف قائم ہونے والے اتحاد میں کیا کررہی ہے؟ یہ جماعت تو پیداوار ہی افغان کٹھ پتلیوں کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن یا نواز شریف سے ہی کسی پریس کانفرنس میں یہ سوال ہوجائے کہ اگر آپ کو کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں تو افغان کٹھ پتلی حکومت کا سپورٹر محسن داوڑ آپ کے پہلو میں کیوں بیٹھا ہے؟ تو یہ اور اس طرح کے دیگر سوالات سے جان چھڑانا آسان نہ ہوگا۔ لھذا بہتر یہی ہے کہ وزیرستان کی ایک تحصیل تک محدود اس جماعت کو جتنا جلد ہوسکے اپوزیشن کی صفوں سے باہر کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن اور دیگر اپوزیشن قائدین کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اپوزیشن اتحاد میں پی ٹی ایم کی موجودگی وزن نہیں بوجھ کا درجہ رکھتی ہے۔

Comments

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی

رعایت اللہ فاروقی سوشل میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں۔ 1990ء سے شعبہ صحافت سے وابستگی ہے۔ نصف درجن روزناموں میں کالم لکھے۔ دنیا ٹی وی کے پروگرام "حسبِ حال" سے بطور ریسرچر بھی وابستہ رہے۔ سیاست اور دفاعی امور پر ان کے تجزیے دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */